🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

128. بَابُ مَنَاقِبِ دُرَّةَ بِنْتِ أَبِي لَهَبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا -
سیدہ درہ رضی اللہ عنہا بنت ابولہب کے مناقب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15402
عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالُوا: قَدِمَتْ دُرَّةُ بِنْتُ أَبِي لَهَبٍ مُهَاجِرَةً، فَنَزَلَتْ دَارَ رَافِعِ بْنِ الْمُعَلَّى الزُّرَقِيِّ، فَقَالَ لَهَا نِسْوَةٌ جَالِسِينَ إِلَيْهَا مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ: أَنْتِ بِنْتُ أَبِي لَهَبٍ الَّذِي قَالَ اللَّهُ: (تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ مَا أَغْنَى عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ) يَعْنِي: مَا يُغْنِي عَنْكِ مُهَاجَرُكِ؟ فَأَتَتْ دُرَّةُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَشَكَتْ إِلَيْهِ مَا قُلْنَ لَهَا، فَسَكَّنَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ:" اجْلِسِي". ثُمَّ صَلَّى بِالنَّاسِ الظَّهْرَ، وَجَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ سَاعَةً، وَقَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ، مَالِي أُوذَى فِي أَهْلِي، فَوَاللَّهِ إِنَّ شَفَاعَتِي لَتَنَالُ حَيَّ حَاءَ وَحَكَمٍ، وَصُدَا، وَسَلْهَبَ، يَوْمَ الْقِيَامَةِ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بَشِيرٍ الدِّمَشْقِيُّ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے، وہ بیان کرتے ہیں: سیدہ درّہ رضی اللہ عنہا بنت ابولہب ہجرت کر کے آئیں، انہوں نے رافع بن معلیٰ زرقی کے محلے (یا گھر) میں رہائش اختیار کی، بنوزریق سے تعلق رکھنے والی کچھ خواتین جو ان کے پاس بیٹھی ہوئی تھیں، انہوں نے ان سے کہا: آپ اس ابولہب کی صاحبزادی ہیں جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے: ابولہب کے دونوں ہاتھ برباد ہو جائیں اس کا مال اور جو کچھ اس نے کمایا تھا وہ اس کے کسی کام نہیں آیا۔ ان کی مراد یہ تھی کہ آپ کا ہجرت کرنا آپ کے کس کام آئے گا، تو سیدہ درہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ کے سامنے اس بات کی شکایت کی جو ان خواتین نے کہی تھیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پرسکون ہونے کا کہا: اور فرمایا: تم بیٹھ جاؤ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ظہر کی نماز پڑھائی، پھر آپ منبر پر گھڑی بھر کے لئے تشریف فرما ہوئے اور آپ نے ارشاد فرمایا: کیا وجہ ہے کہ مجھے میرے اہل خانہ (یعنی خاندان کے افراد) کے حوالے سے اذیت پہنچائی جاتی ہے، اللہ کی قسم! میری شفاعت حاء اور حکم اور صدا قبیلے کے افراد کو بھی قیامت کے دن نصیب ہو گی۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن بشیر دمشقی ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے، اور ابوحاتم نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15402]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (259/24)»

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15403
وَعَنِ ابْنِ أَبِي الْحُسَيْنٍ قَالَ: كَانَتْ دُرَّةُ بِنْتُ أَبِي لَهَبٍ عِنْدَ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَوْفَلٍ، فَوَلَدَتْ لَهُ عُقْبَةَ، وَالْوَلِيدَ، وَأَبَا مُسْلِمٍ، ثُمَّ أَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْمَدِينَةِ، فَأَكْثَرَ النَّاسُ فِي أَبَوَيْهَا، فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا وَلَدَ الْكُفَّارُ غَيْرِي؟! فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" وَمَا ذَاكَ؟". قَالَتْ: قَدْ آذَانِي أَهْلُ الْمَدِينَةِ فِي أَبَوَيَّ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِذَا صَلَّيْتِ الظُّهْرَ فَصَلِّي حَيْثُ أَرَى". فَصَلَّى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الظَّهْرَ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْهَا، فَأَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ، أَلْكُمْ نَسَبٌ وَلَيْسَ لِي نَسَبٌ؟". فَوَثَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ: أَغْضَبَ اللَّهَ مَنْ أَغْضَبَكَ، فَقَالَ:" هَذِهِ بِنْتُ عَمِّي، فَلَا يَقُلْ لَهَا أَحَدٌ إِلَّا خَيْرًا". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ. وَابْنُ أَبِي حُسَيْنٍ هُوَ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، وَهُوَ مُرْسَلٌ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
ابن ابوحسین بیان کرتے ہیں: سیدہ درہ رضی اللہ عنہا بنت ابولہب، حارث بن عبداللہ بن نوفل کی اہلیہ تھیں، انہوں نے ان صاحب کے بچوں عقبہ اور ولید اور ابومسلم کو جنم دیا پھر وہ خاتون مدینہ منورہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئیں، لوگوں نے ان کے ماں باپ کے بارے میں زیادہ باتیں کیں تو انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا میرے علاوہ اور کوئی کافروں کی اولاد نہیں ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے دریافت کیا: کیا ہوا ہے؟ اس خاتون نے بتایا کہ اہل مدینہ نے مجھے میرے ماں باپ کے حوالے سے اذیت پہنچائی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے فرمایا: جب میں ظہر کی نماز ادا کروں گا، تو تم نے ایسی جگہ نماز ادا کرنی ہے جہاں میں دیکھ سکوں، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز ادا کر لی اور مڑ کر ان کی طرف دیکھا تو آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے، آپ نے ارشاد فرمایا: اے لوگو! کیا تم لوگوں کا نسب ہے، اور میرا نسب نہیں ہے۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اٹھے اور انہوں نے عرض کی: اللہ تعالیٰ اس شخص پر غضب ناک ہو جس نے آپ کو غضبناک کیا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ میری چچازاد ہے، کوئی بھی شخص اس کے ساتھ صرف بھلائی کی بات ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ابن ابوحسین نامی راوی عبداللہ بن ابوحسین ہے، اور یہ روایت مرسل ہے، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15403]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (257/24)»

الحكم على الحديث: إسنادہ مرسل،
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15404
وَعَنْ دُرَّةَ ابْنَةِ أَبِي لَهَبٍ قَالَتْ: كُنْتُ عِنْدَ عَائِشَةَ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ:" ائْتُونِي بِوَضُوءٍ". قَالَتْ: فَابْتَدَرْتُ أَنَا وَعَائِشَةُ الْكُوزَ، فَبَدَرْتُهَا فَأَخَذْتُهُ أَنَا، فَتَوَضَّأَ فَرَفَعَ إِلَيَّ عَيْنَهُ أَوْ بَصَرَهُ قَالَ:" أَنْتَ مِنِّي وَأَنَا مِنْكِ".
قَالَتْ: فَأُتِيَ بِرَجُلٍ، فَقَالَ: مَا أَنَا فَعَلْتُهُ إِنَّمَا قِيلَ لِي.
قَالَتْ: وَكَانَ يَسْأَلُهُ عَلَى الْمِنْبَرِ: مَنْ خَيْرُ النَّاسِ؟ فَقَالَ:" أَفْقَهُمْ فِي دِينِ اللَّهِ، وَأَوْصَلُهُمْ لِرَحِمِهِ". وَذَكَرَ شَرِيكٌ شَيْئَيْنِ آخَرَيْنِ فَلَمْ أَحْفَظْهُمَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیده درّہ رضی اللہ عنہا بنت ابولہب بیان کرتی ہیں: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس موجود تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے آپ نے فرمایا: میرے پاس وضو کا پانی لے کے آؤ، سیدہ درہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں اور عائشہ برتن کی طرف لپکیں اور میں ان سے پہلے برتن تک پہنچ گئی، میں نے اسے لیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، آپ نے اپنی نگاہ اٹھا کے میری طرف دیکھا اور فرمایا: تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں۔ وہ خاتون بیان کرتی ہیں: پھر ایک شخص کو لایا گیا تو اس نے کہا: میں نے ایسا نہیں کیا، مجھے یہ بات کہی گئی تھی۔ وہ خاتون بیان کرتی ہیں: اس شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر موجود رہنے کے دوران آپ سے سوال کیا تھا، لوگوں میں سب سے بہتر کون ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو اللہ کے دین کی سب سے زیادہ سمجھ بوجھ رکھتا ہو اور رشتے داری کے حقوق کا سب سے زیادہ خیال رکھتا ہو۔ اس کے بعد شریک نامی راوی نے دو اور چیزیں بھی ذکر کی تھیں جو مجھے یاد نہیں رہی ہیں۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15404]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (257/24) اخرجه احمد فى المسند 431/6)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں