🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

148. بَابٌ فِي أُمِّ خَالِدٍ بِنْتُ الْأَسْوَدِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا -
سیدہ ام خالد بنت اسود رضی اللہ عنہا کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15436
عَنْ أُمِّ خَالِدٍ بِنْتِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ:" مَنْ هَذِهِ؟". فَقَالُوا: بَنَتُ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ، فَقَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ". - يَعْنِي الْمُؤْمِنَ مِنَ الْكَافِرِ -.
سیده ام خالد رضی اللہ عنہا بنت اسود بن عبدیغوث کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے بتایا: یہ اسود بن عبدیغوث کی بیٹی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جو مردہ میں سے زندہ نکالتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ وہ کافر میں سے مومن کو نکال دیتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15436]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15437
وَفِي رِوَايَةٍ: دَخَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ:" مَنْ هَذِهِ؟". فَقَالُوا: بَعْضُ خَالَاتِكَ، فَقَالَ:" إِنَّ خَالَاتِي فِي هَذِهِ الْأَرْضِ لَغَرَائِبُ، مَنْ هَذِهِ؟". قَالُوا: أُمُّ خَالِدٍ بِنْتُ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ، فَقَالَ:" سُبْحَانَ الَّذِي يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ". رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، وَإِسْنَادُ الثَّانِي حَسَنٌ.
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے تو آپ نے دریافت کیا: یہ کون ہے؟ تو لوگوں نے بتایا: یہ آپ کی ننھیالی عزیزہ ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سرزمین پر میری خالاؤں کا ہونا حیران کن بات ہے، یہ کون ہیں؟ تو لوگوں نے بتایا: یہ ام خالد بنت اسود بن عبدیغوث ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پاک ہے وہ ذات جو مردہ میں سے زندہ کو نکالتا ہے۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے نقل کی ہیں، اس میں دوسری سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15437]

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں