مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
166. بَابٌ فِي أَخِيهِ عُتْبَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -
اُن (یعنی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) کے بھائی حضرت عتبہ رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 15575
عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: مَا كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ بِأَقْدَمَ هِجْرَةً مِنْ أَخِيهِ عُتْبَةَ، وَلَكِنَّهُ مَاتَ قَبْلَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
زہری بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائی سیدنا عتبہ رضی اللہ عنہ سے پہلے ہجرت نہیں کی تھی، لیکن اُن کا انتقال اُن سے پہلے ہو گیا تھا۔
یہ روایت امام طبرانی نے ”مرسل“ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15575]
یہ روایت امام طبرانی نے ”مرسل“ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15575]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (136/17)»
الحكم على الحديث: إسنادہ مرسل،
حدیث نمبر: 15576
وَعَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: تُوُفِّيَ عُتْبَةُ بْنُ مَسْعُودٍ فِي زَمَنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
قاسم بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں: سیدنا عتبہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا انتقال، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ہوا تھا۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15576]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15576]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (136/17)»
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 15577
وَعَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: تُوُفِّيَ عُتْبَةُ بْنُ مَسْعُودٍ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَأَرْبَعِينَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ.
لیث بن سعد بیان کرتے ہیں: سیدنا عتبہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا انتقال 44 ہجری میں ہوا تھا۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15577]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15577]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (136/17)»
الحكم على الحديث: إسنادہ منقطع۔