مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
191. بَابٌ فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -
حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 15750
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" رَحِمَ اللَّهُ أَخِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ، كَانَ أَيْنَمَا أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ أَنَاخَ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ میرے بھائی عبداللہ بن رواحہ پر رحم کرے! اُسے جہاں بھی نماز کا وقت ہوتا تھا، وہ جانور کو بٹھا لیتا تھا۔“
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15750]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15750]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13241)»
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 15751
وَعَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَلَسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَلَمَّا جَلَسَ قَالَ:" اجْلِسُوا". فَسَمِعَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" اجْلِسُوا". فَجَلَسَ فِي بَنِي غُنْمٍ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَاكَ ابْنُ رَوَاحَةَ جَالِسٌ فِي بَنِي غُنْمٍ ; سَمِعَكَ وَأَنْتَ تَقُولُ لِلنَّاسِ:" اجْلِسُوا". فَجَلَسَ فِي مَكَانِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مَجْمَعٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن منبر پر تشریف فرما ہوئے، جب آپ تشریف فرما ہو گئے تو آپ نے فرمایا: تم لوگ بیٹھ جاؤ! سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سن لیا: ”تم لوگ بیٹھ جاؤ“ تو وہ بنو غنم میں بیٹھ گئے، عرض کی گئی: یا رسول اللہ! سیدنا ابن رواحہ رضی اللہ عنہ وہاں بنو غنم میں بیٹھ گئے ہیں، انہوں نے آپ کو لوگوں سے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا تھا کہ بیٹھ جاؤ! تو وہ اُسی جگہ بیٹھ گئے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اسماعیل بن مجمع ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15751]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اسماعیل بن مجمع ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15751]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف