🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

205. بَابُ [ مَا جَاءَ ] فِي الْبَرَاءِ بْنِ مَالِكٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -
حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ کے بارے میں، جو منقول ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15794
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ: أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ دَخَلَ عَلَى الْبَرَاءِ بْنِ مَالِكٍ وَهُوَ يَقُولُ الشِّعْرَ، فَقَالَ لَهُ: أَخِي، أَمَا عَلَّمَكَ اللَّهُ مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْ هَذَا؟ فَقَالَ لَهُ الْبَرَاءُ: أَتَخْشَى أَنْ أَمُوتَ عَلَى فِرَاشِي؟ وَاللَّهِ لَا يَكُونُ ذَلِكَ أَبَدًا بَلَاءَ اللَّهِ إِيَّايَ، فَقَدْ قَتَلْتُ مِائَةً مِنَ الْمُشْرِكِينَ، مِنْهُمْ مَنْ تَفَرَّدْتُ بِقَتْلِهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ شَارَكْتُ فِيهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو هِلَالٍ الرَّاسِيُّ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ وَقَدْ وُثِّقَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ الْبَرَاءِ بْنِ مَالِكٍ.
محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، سیدنا براء بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، وہ شعر کہہ رہے تھے، سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے میرے بھائی! کیا اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس چیز کا علم عطا نہیں کیا، جو اس سے بہتر ہے؟ تو سیدنا براء رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ کو یہ اندیشہ ہے کہ میں اپنے بستر پر مر جاؤں گا؟ اللہ کی قسم: ایسا کبھی نہیں ہو گا، اس آزمائش کے بعد، جس میں اللہ تعالیٰ نے مجھے مبتلاء کیا ہے، میں نے ایک سو مشرکین کو قتل کیا ہے، اُن میں سے کچھ ایسے بھی ہیں، جنہیں میں قتل کرنے میں منفرد تھا، اور ایسے بھی ہیں جنہیں قتل کرنے میں میں حصہ دار تھا۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوہلال راسی ہے، ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے، اور محمد بن سیرین نامی راوی نے سیدنا براء بن مالک رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15794]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1179)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15795
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: اسْتَلْقَى الْبَرَاءُ بْنُ مَالِكٍ عَلَى ظَهْرِهِ ثُمَّ تَرَنَّمَ، فَقَالَ لَهُ أَنَسٌ: اذْكُرِ اللَّهَ أَيْ أُخَيَّ! فَاسْتَوَى جَالِسًا وَقَالَ: أَيْ أَنَسٌ، أَتُرَانِي أَمُوتُ عَلَى فِرَاشِي وَقَدْ قَتَلْتُ مِائَةً مِنَ الْمُشْرِكِينَ مُبَارَزَةً سِوَى مَنْ شَارَكْتُ فِي قَتْلِهِ؟!. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا براء بن مالک رضی اللہ عنہ پشت کے بل چت لیٹے ہوئے تھے، وہ ترنم کے ساتھ کچھ پڑھنے لگے، تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے میرے بھائی! تم اللہ کا ذکر کرو، تو وہ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے، انہوں نے کہا: اے انس! کیا تم میرے بارے میں یہ رائے رکھتے ہو؟ کہ میں اپنے بستر پر مر جاؤں گا؟ میں نے مقابلے کی دعوت دے کر ایک سو مشرکین کو قتل کیا ہے، اور یہ ان کے علاوہ ہیں، جن کے قتل کرنے میں، میں حصہ دار تھا۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15795]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1178)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15796
وَعَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ: بَيْنَمَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ وَأَخُوهُ الْبَرَاءُ بْنُ مَالِكٍ عِنْدَ حِصْنٍ مِنْ حُصُونِ الْعَدُوِّ وَالْعَدُوُّ يُلْقُونَ كَلَالِيبَ فِي سَلَاسِلَ مُحَمَّاةٍ، فَتَعْلَقُ بِالْإِنْسَانِ فَيَرْفَعُونَهُ إِلَيْهِمْ، فَعَلَقَ بَعْضُ تِلْكَ الْكَلَالِيبِ بِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَرَفَعُوهُ حَتَّى أَقَلُّوهُ مِنَ الْأَرْضِ، فَأَتَى أَخُوهُ الْبَرَاءُ، فَقِيلَ لَهُ: أَدْرِكْ أَخَاكَ، وَهُوَ يُقَاتِلُ النَّاسَ، فَأَقْبَلَ يَسْعَى حَتَّى نَزَا فِي الْجِدَارِ، ثُمَّ قَبَضَ بِيَدِهِ عَلَى السِّلْسِلَةِ وَهِيَ تُدَارُ، فَمَا بَرِحَ يَجُرُّهُمْ وَيَدَاهُ تُدَخِّنَانِ حَتَّى قَطَعَ الْحَبْلَ، ثُمَّ نَظَرَ إِلَى يَدَيْهِ فَإِذَا عِظَامُهُ تَلُوحُ قَدْ ذَهَبَ مَا عَلَيْهَا مِنَ اللَّحْمِ، أَنْجَى اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - بِذَاكَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
اسحاق بن عبداللہ بن ابوطلحہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ اور اُن کے بھائی سیدنا براء بن مالک رضی اللہ عنہ دشمن کے ایک قلعے کے پاس موجود تھے، دشمن نے گرم زنجیروں کے ذریعے آنکڑے لٹکائے، جو شخص ان میں پھنس جاتا تھا، وہ لوگ اسے اپنی طرف اٹھا لیتے تھے، اُن آنکڑوں میں سے ایک میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ یہ پھنس گئے، دشمن نے انہیں اٹھانا شروع کیا، یہاں تک کہ وہ زمین سے کچھ اوپر ہو گئے، تو اُن کے بھائی سیدنا براء رضی اللہ عنہ آئے، اُن سے کہا: گیا: آپ اپنے بھائی کے پاس پہنچیں، وہ اس وقت دشمن سے لڑائی کر رہے تھے، وہ دوڑتے ہوئے آئے، یہاں تک کہ وہ دیوار کی طرف اچھلے اور پھر انہوں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اس زنجیر کو پکڑ لیا، وہ گھومنے لگی، وہ مسلسل انہیں کھینچتے رہے، ان کے دونوں ہاتھ جل گئے، لیکن انہوں نے رسی کو کاٹ دیا، جب انہوں نے اپنے ہاتھوں کا جائزہ لیا، تو ان کی ہڈیاں نظر آ رہی تھیں اور ہڈیوں پر موجود گوشت ختم ہو چکا تھا، لیکن اس طرح اللہ تعالیٰ نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو نجات دیدی۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15796]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1182)»

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں