🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

219. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَمْرٍو أَيْضًا وَابْنِهِ عَبْدِ اللَّهِ وَأُمِّ عَبْدِ اللَّهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - .
حضرت عمرو رضی اللہ عنہ، ان کے صاحبزادے، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ اور (حضرت عبداللہ کی والدہ) سیدہ ام عبداللہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں جو منقول ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15902
عَنْ طَلْحَةَ - يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ - قَالَ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِشَيْءٍ؟ أَلَا إِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ:" عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ مِنْ صَالِحِي قُرَيْشٍ، وَنِعْمَ أَهْلُ الْبَيْتِ: أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، وَأُمُّ عَبْدِ اللَّهِ، وَعَبْدُ اللَّهِ". قُلْتُ: رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں تمہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جو بات بھی بتاؤں گا، وہ ایسی بات ہو گی، جو میں نے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہو گا، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: عمرو بن العاص، قریش کے نیک لوگوں میں سے ایک ہے، اور اچھا گھرانہ یہ لوگ ہیں: عبداللہ کا باپ (یعنی سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ) عبداللہ کی ماں اور عبدالله۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں:
یہ روایت امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام أحمد نے اس کی مانند نقل کی ہے اور اس روایت کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15902]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابو يعلى فى المسند (645) اخرجه احمد فى المسند (161/1)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15903
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" نِعْمَ أَهْلُ الْبَيْتِ: أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، وَأُمُّ عَبْدِ اللَّهِ، وَعَبْدُ اللَّهِ". رَوَاهُ أَحْمَدُ.
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عبداللہ کا باپ، عبداللہ کی ماں اور عبداللہ اچھا گھرانہ ہیں۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15903]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (150/4)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15904
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: كُنْتُ يَوْمًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَيْتِهِ فَقَالَ:" هَلْ تَدْرِي مَنْ مَعَنَا فِي الْبَيْتِ؟". قُلْتُ: مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ -". قُلْتُ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا جِبْرِيلُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِنَّهُ قَدْ رَدَّ عَلَيْكَ السَّلَامَ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، وَأَحَدُهُمَا حَسَنٌ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے گھر میں موجود تھا، آپ نے فرمایا: کیا تم یہ جانتے ہو کہ ہمارے ساتھ گھر میں کون موجود ہے؟ میں نے عرض کی: کون ہے؟ یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبرائیل ہے، میں نے کہا: اے سیدنا جبرائیل! آپ پر سلام ہو اور اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے تمہیں سلام کا جواب دیا ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے اور ان دونوں میں سے ایک کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15904]

الحكم على الحديث: إسنادہ حدیث
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15905
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: لَخَيْرٌ أَعْلَمُهُ الْيَوْمَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ مِثْلَيْهِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ; لِأَنَّا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَهُمُّنَا الْآخِرَةُ، وَلَا تَهُمُّنَا الدُّنْيَا، وَإِنَّا الْيَوْمَ قَدْ مَالَتْ بِنَا الدُّنْيَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: آج اگر میں ایک بھلائی کروں، تو یہ میرے نزدیک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کی ہوئی اس سے دُگنی بھلائی سے زیادہ پسندیدہ ہو گی، کیونکہ جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتے تھے تو ہماری توجہ آخرت کی طرف تھی، دنیا ہمارا مطمع نظر نہیں ہوتی تھی، اور آج ہم دنیا کی طرف مائل ہو چکے ہیں۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15905]

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15906
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَ: مَاتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو سَنَةَ خَمْسٍ وَسِتِّينَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.
محمد بن عبدالله بن نمیر بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کا انتقال 65 ہجری میں ہوا تھا۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15906]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15907
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ: تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ - وَيُكْنَى أَبَا مُحَمَّدٍ بِمِصْرَ، وَدُفِنَ فِي دَارِهِ - سَنَةَ خَمْسٍ وَسِتِّينَ. وَقَائِلٌ يَقُولُ: سَنَةَ ثَمَانٍ وَسِتِّينَ، وَسِنُّهُ ثِنْتَانِ وَسَبْعُونَ سَنَةً، أَوِ اثْنَتَانِ وَتِسْعُونَ سَنَةً - شَكَّ يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ - فِي السَّبْعِينَ أَوِ التِّسْعِينَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.
یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ جن کی کنیت ابومحمد تھی، ان کا انتقال مصر میں ہوا، انہیں ان کے گھر میں دفن کیا گیا، یہ 65 ہجری کی بات ہے، بعض حضرات نے یہ کہا: ہے: 68 ہجری میں ہوا تھا، اس وقت ان کی عمر 72 سال تھی، یحیی نامی راوی کو شک ہے: یا شاید 92 سال تھی (یعنی 72 یا 92 کے درمیان یہ شک یحیی نامی راوی کو ہے)۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15907]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں