مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
239. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَرْقَمِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -
حضرت عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ کے بارے میں، جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 15987
قَالَ الطَّبَرَانِيُّ: هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَرْقَمِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ بْنِ وَهَبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافِ بْنِ زُهْرَةَ، وَأُمُّهُ عَمْرَةُ بِنْتُ الْأَرْقَمِ بْنِ هَاشِمِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ. كَانَ قَدْ عَمِيَ قَبْلَ وَفَاتِهِ. وَكَانَ كَاتِبًا لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ وَعَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ -.
امام طبرانی بیان کرتے ہیں: یہ سیدنا عبدالله رضی اللہ عنہ بن ارقم بن عبدیغوث بن وہب بن عبدمناف بن زہرہ ہیں، ان کی والدہ عمرہ بنت ارقم بن ہاشم بن عبدمناف ہیں، یہ وفات سے پہلے نابینا ہو گئے تھے، یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لئے کتابت کے فرائض سر انجام دیتے رہے ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15987]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 15988
- (کتاب میں موجود نہیں ہے)
(کتاب میں موجود نہیں ہے) [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15988]
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 15989
وَعَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَبِي عَوْنٍ قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كِتَابُ رَجُلٌ، فَقَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَرْقَمِ:" أَجِبْ عَنِّي". فَكَتَبَ جَوَابَهُ ثُمَّ قَرَأَهُ عَلَيْهِ، فَقَالَ:" أَصَبْتَ وَأَحْسَنْتَ، اللَّهُمَّ وَفِّقْهُ". فَلَمَّا وَلِيَ عُمَرُ كَانَ يُشَاوِرُهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُعْضَلًا، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُعْضَلًا، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
عبدالواحد بن ابوعون بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کسی شخص کا مکتوب آیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم میری طرف سے جواب لکھو! انہوں نے جواب لکھا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھ کے سنایا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے ٹھیک لکھا ہے، اور اچھا کام کیا ہے، اے اللہ! تو اسے توفیق عطا فرما!“۔ راوی بیان کرتے ہیں: جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تھے، تو وہ اُن سے مشورہ لیا کرتے تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے ”معضل“ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15989]
یہ روایت امام طبرانی نے ”معضل“ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15989]
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن