مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
245. بَابُ مَا جَاءَ فِي جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کے بارے میں، جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 16008
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" لَوْ أَتَانِي [ فِي هَؤُلَاءِ ] النَّتْنَى لَشَفَّعْتُهُ". يَعْنِي: الْمُطْعِمَ بْنَ عَدِيٍّ، فَأَسْلَمَ عِنْدَ ذَلِكَ جُبَيْرٌ.
قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ غَيْرَ قَوْلِهِ: فَأَسْلَمَ عِنْدَ ذَلِكَ جُبَيْرٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ غَيْرَ قَوْلِهِ: فَأَسْلَمَ عِنْدَ ذَلِكَ جُبَيْرٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر وہ ان بدبودار لوگوں (یعنی غزوہ بدر کے قیدیوں) کے بارے میں، میرے پاس آتا تو میں نے اُس کی سفارش قبول کر لینی تھی۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد (سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کا والد) مطعم بن عدی تھا۔ راوی کہتے ہیں: تو اُس موقع پر سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا۔
(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں:
یہ روایت ”صحیح“ میں موجود ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں: ”اس موقع پر سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا۔“
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 16008]
(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں:
یہ روایت ”صحیح“ میں موجود ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں: ”اس موقع پر سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا۔“
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 16008]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1507)»
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔