مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
254. بَابُ مَا جَاءَ فِي ضَمْرَةَ بْنِ ثَعْلَبَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -
حضرت ضمرہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں، جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 16021
عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ ثَعْلَبَةَ: أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَيْهِ حُلَّتَانِ مِنْ حُلَلِ الْيَمَنِ، فَقَالَ:" يَا ضَمْرَةُ، أَتُرَى ثَوْبَيْكَ هَذَيْنِ مُدْخِلَيْكَ الْجَنَّةَ؟". فَقَالَ: لَئِنِ اسْتَغْفَرْتَ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا أَقْعُدُ حَتَّى أَنْزِعَهُمَا عَنِّي. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِضَمْرَةَ بْنِ ثَعْلَبَةَ". فَانْطَلَقَ سَرِيعًا حَتَّى نَزْعَهُمَا عَنْهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُ.
سیدنا عمرو بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ان کے جسم پر یمن کے بنے ہوئے دو حلے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ضمرہ! کیا تم اپنے ان دو کپڑوں کے بارے میں یہ سمجھتے ہو کہ یہ تمہیں جنت میں داخل کروا دیں گے؟ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اگر آپ میرے لئے دعائے مغفرت کریں، تو میں بیٹھنے سے پہلے انہیں اُتار دوں گا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! تو ضمرہ کی مغفرت کر دے، تو وہ تیزی سے گئے اور انہوں نے وہ لباس تبدیل کر لیا۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 16021]
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 16021]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (2740)»
الحكم على الحديث: إسنادہ یہ
حدیث نمبر: 16022
وَعَنْهُ: أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: ادْعُ اللَّهَ لِي بِالشَّهَادَةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" اللَّهُمَّ حَرِّمْ دَمَ ابْنِ ثَعْلَبَةَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ وَالْكُفَّارِ".
قَالَ: فَكُنْتُ أَحْمِلُ فِي عُرْضِ الْقَوْمِ فَيَتَرَاءَى لِي النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَلْفَهُمْ، فَقَالُوا: يَا ابْنَ ثَعْلَبَةَ، إِنَّكَ لَتُغَرَّرُ وَتَحْمِلُ عَلَى الْقَوْمِ، فَقَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَرَاءَى لِي خَلْفَهُمْ، فَأَحْمِلُ عَلَيْهِمْ حَتَّى أَقِفَ عِنْدَهُ، ثُمَّ يَتَرَاءَى لِي أَصْحَابِي فَأَحْمِلُ حَتَّى أَكُونَ مَعَ أَصْحَابِي. قَالَ: فَعُمِّرَ زَمَانًا طَوِيلًا مِنْ دَهْرِهِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
قَالَ: فَكُنْتُ أَحْمِلُ فِي عُرْضِ الْقَوْمِ فَيَتَرَاءَى لِي النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَلْفَهُمْ، فَقَالُوا: يَا ابْنَ ثَعْلَبَةَ، إِنَّكَ لَتُغَرَّرُ وَتَحْمِلُ عَلَى الْقَوْمِ، فَقَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَرَاءَى لِي خَلْفَهُمْ، فَأَحْمِلُ عَلَيْهِمْ حَتَّى أَقِفَ عِنْدَهُ، ثُمَّ يَتَرَاءَى لِي أَصْحَابِي فَأَحْمِلُ حَتَّى أَكُونَ مَعَ أَصْحَابِي. قَالَ: فَعُمِّرَ زَمَانًا طَوِيلًا مِنْ دَهْرِهِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
اُن کے حوالے سے یہ بات منقول ہے: وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: آپ اللہ تعالیٰ سے میرے لئے شہادت کی دعا کیجئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! ابن ثعلبہ کے خون کو مشرکین اور کفار پر حرام قرار دیدے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: میں دشمن پر حملہ کرتا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ملاحظہ فرماتے کہ میں ان کے پیچھے ہوں، تو لوگ کہتے: اے ابن ثعلبہ! تم ان کے پیچھے ہو؟ تم انجام کی طرف توجہ دیے بغیر دشمن پر حملہ کر رہے ہو، تو وہ کہتے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ان کے پیچھے ملاحظہ کیا ہوا ہے، تو میں ان پر حملہ کرتا، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر ٹھہر جاتا، پھر میں اپنے ساتھیوں کی طرف جاتا اور ان کے ساتھ مل کر حملہ آور ہو جاتا۔ راوی بیان کرتے ہیں: (ان صحابی نے) لمبی عمر پائی تھی۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 16022]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8156)»
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔