مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
266. بَابُ مَا جَاءَ فِي أَبِي أُمَامَةَ، وَاسْمُهُ صَدَيُّ بْنُ عَجْلَانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں، جو کچھ منقول ہے ان کا نام حضرت صدی بن عجلان رضی اللہ عنہ ہے
حدیث نمبر: 16055
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى قَوْمِي أَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَأَعْرِضُ عَلَيْهِمْ شَرَائِعَ الْإِسْلَامِ، فَأَتَيْتُهُمْ وَقَدْ سَقَوْا إِبِلَهُمْ وَحَلَبُوهَا وَشَرِبُوا، فَلَمَّا رَأَوْنِي قَالُوا: مَرْحَبًا بِالصُّدَيِّ بْنِ عَجْلَانَ قَالُوا: بَلَغَنَا أَنَّكَ صَبَوْتَ إِلَى هَذَا الرَّجُلِ، قُلْتُ: لَا، وَلَكِنْ آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَبَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَيْكُمْ أَعْرِضُ عَلَيْكُمُ الْإِسْلَامَ وَشَرَائِعَهُ. فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ جَاءُوا بِقَصْعَةِ دَمٍ، فَوَضَعُوهَا وَاجْتَمَعُوا حَوْلَهَا فَأَكَلُوا بِهَا قَالُوا: هَلُمَّ يَا صُدَيُّ، قُلْتُ: وَيْحَكُمُ! إِنَّمَا أَتَيْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ مَنْ يُحَرِّمُ هَذَا عَلَيْكُمْ إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ ؛ كَمَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ قَالُوا: وَمَا قَالَ؟ قُلْتُ: نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيرِ إِلَى قَوْلِهِ: وَأَنْ تَسْتَقْسِمُوا بِالْأَزْلَامِ، فَجَعَلْتُ أَدْعُوهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ وَيَأْبَوْنَ، قُلْتُ لَهُمْ: وَيْحَكُمُ ائْتُونِي بِشَرْبَةٍ مِنْ مَاءٍ ؛ فَإِنِّي شَدِيدُ الْعَطَشِ قَالَ: وَعَلَيَّ عِمَامَةٌ قَالُوا: لَا، وَلَكِنْ نَدَعُكَ تَمُوتُ عَطَشًا قَالَ: فَاعْتَمَمْتُ وَضَرَبْتُ بِرَأْسِي فِي الْعِمَامَةِ، وَنِمْتُ فِي الرَّمْضَاءِ فِي حَرٍّ شَدِيدٍ، فَأَتَانِي آتٍ فِي مَنَامِي بِقَدَحِ زُجَاجٍ لَمْ يَرَ النَّاسُ أَحْسَنَ مِنْهُ، وَفِيهِ شَرَابٌ لَمْ يَرَ النَّاسُ أَلَذَّ مِنْهُ، فَأَمْكَنَنِي مِنْهَا فَشَرِبْتُهَا، فَحَيْثُ فَرَغْتُ مِنْ شَرَابِي اسْتَيْقَظْتُ، وَلَا وَاللَّهِ مَا عَطِشْتُ وَلَا عَرَفْتُ عَطَشًا بَعْدَ تِيكَ الشَّرْبَةِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ بَشِيرُ بْنُ شُرَيْحٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ بَشِيرُ بْنُ شُرَيْحٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے میری قوم کی طرف بھیجا، تاکہ میں ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دوں اور انہیں اسلامی تعلیمات بتاؤں، میں ان لوگوں کے پاس آیا وہ لوگ اپنے اونٹ ہانک کر لائے تھے، ان لوگوں نے ان کا دودھ دوہ لیا تھا اور اسے پی لیا تھا، جب ان لوگوں نے مجھے دیکھا تو کہا: صدی بن عجلان کو خوش آمدید، ان لوگوں نے کہا: ہمیں یہ پتہ چلا ہے کہ آپ بے دین ہو کر ان صاحب کے پاس چلے گئے، میں نے کہا: جی نہیں! بلکہ میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لا چکا ہوں، اور اللہ کے رسول نے مجھے تمہاری طرف بھیجا ہے، تاکہ میں تمہارے سامنے اسلام اور اس کی تعلیمات پیش کروں، راوی کہتے ہیں: ابھی وہ لوگ اسی صورت حال میں تھے کہ اسی دوران ایک پیالہ آیا، جس میں خون موجود تھا، وہ ان لوگوں نے رکھا اور اس کے اردگرد اکٹھے ہو گئے اور اسے کھانے لگے، ان لوگوں نے کہا: اے صدی! تم بھی آ جاؤ، میں نے کہا: تمہارا ستیاناس ہو، میں ان صاحب کی طرف سے تمہارے پاس آیا ہوں، جنہوں نے اس چیز کو تمہارے لئے حرام قرار دیا ہے، صرف وہ جانور حلال ہیں، جسے تم ذبح کرو، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر یہ حکم نازل کیا ہے، لوگوں نے دریافت کیا: اللہ تعالیٰ نے کیا فرمایا ہے؟ میں نے کہا: یہ آیت نازل ہوئی ہے:
”تم پر مردار اور خون اور خنزیر کا گوشت حرام قرار دیا گیا ہے۔“
یہ آیت یہاں تک ہے: ”اور یہ کہ تم تیروں کے ذریعے پانسہ کھیلو۔“
راوی کہتے ہیں: پھر میں انہیں اسلام کی طرف دعوت دینے لگا اور وہ انکار کرنے لگے، میں نے ان سے کہا: تمہارا ستیاناس ہو، تم میرے پاس ایک گھونٹ پانی لے کر آؤ، کیونکہ مجھے شدید پیاس محسوس ہو رہی ہے، راوی کہتے ہیں: میں نے عمامہ باندھا ہوا تھا، ان لوگوں نے کہا: جی نہیں! بلکہ ہم تمہیں ایسے ہی چھوڑ دیں گے کہ تم پیاسے ہونے کے عالم میں مر جاؤ، راوی کہتے ہیں: میں نے عمامہ باندھا اور اپنا سر عمامے پر رکھا اور شدید گری میں گرم ریت پر سو گیا، خواب میں ایک شخص میرے پاس آیا، اس کے پاس شیشے کا بنا ہوا پیالہ تھا، لوگوں نے اس سے زیادہ خوبصورت پیالہ نہیں دیکھا ہو گا، اس میں ایسا مشروب تھا کہ لوگوں نے اس سے زیادہ لذیذ مشروب نہیں دیکھا ہو گا، اس نے وہ مجھے دیا، میں نے اسے پیا، جب میں اُسے پی کر فارغ ہوا تو میں بیدار ہو گیا، اس کے بعد اللہ کی قسم! مجھے پیاس محسوس نہیں ہوئی اور اس مشروب کے بعد مجھے پیاس کا پتہ ہی نہیں ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بشیر بن شریح ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 16055]
”تم پر مردار اور خون اور خنزیر کا گوشت حرام قرار دیا گیا ہے۔“
یہ آیت یہاں تک ہے: ”اور یہ کہ تم تیروں کے ذریعے پانسہ کھیلو۔“
راوی کہتے ہیں: پھر میں انہیں اسلام کی طرف دعوت دینے لگا اور وہ انکار کرنے لگے، میں نے ان سے کہا: تمہارا ستیاناس ہو، تم میرے پاس ایک گھونٹ پانی لے کر آؤ، کیونکہ مجھے شدید پیاس محسوس ہو رہی ہے، راوی کہتے ہیں: میں نے عمامہ باندھا ہوا تھا، ان لوگوں نے کہا: جی نہیں! بلکہ ہم تمہیں ایسے ہی چھوڑ دیں گے کہ تم پیاسے ہونے کے عالم میں مر جاؤ، راوی کہتے ہیں: میں نے عمامہ باندھا اور اپنا سر عمامے پر رکھا اور شدید گری میں گرم ریت پر سو گیا، خواب میں ایک شخص میرے پاس آیا، اس کے پاس شیشے کا بنا ہوا پیالہ تھا، لوگوں نے اس سے زیادہ خوبصورت پیالہ نہیں دیکھا ہو گا، اس میں ایسا مشروب تھا کہ لوگوں نے اس سے زیادہ لذیذ مشروب نہیں دیکھا ہو گا، اس نے وہ مجھے دیا، میں نے اسے پیا، جب میں اُسے پی کر فارغ ہوا تو میں بیدار ہو گیا، اس کے بعد اللہ کی قسم! مجھے پیاس محسوس نہیں ہوئی اور اس مشروب کے بعد مجھے پیاس کا پتہ ہی نہیں ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بشیر بن شریح ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 16055]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8074)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 16056
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى بَاهِلَةَ، فَأَتَيْتُهُمْ وَهُمْ عَلَى الطَّعَامِ، فَرَحَّبُوا بِي وَأَكْرَمُونِي، وَقَالُوا: تَعَالَ فَكُلْ، فَقُلْتُ: إِنِّي جِئْتُ لِأَنْهَاكُمْ عَنْ هَذَا الطَّعَامِ، وَأَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَيْتُكُمْ لِتُؤْمِنُوا بِهِ، فَكَذَّبُونِي وَزَبَرُونِي، [ فَانْطَلَقْتُ ] وَأَنَا جَائِعٌ ظَمْآنُ قَدْ بَرَانِي جَهْدٌ شَدِيدٌ، فَنِمْتُ فَأُتِيتُ فِي مَنَامِي بِشَرْبَةِ لَبَنٍ، فَشَرِبْتُ وَرُوِيتُ وَعَظُمَ بَطْنِي، فَقَالَ الْقَوْمُ: أَتَاكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَشْرَافِكُمْ وَسَرَاتِكُمْ فَرَدَدْتُمُوهُ!، اذْهَبُوا إِلَيْهِ وَأَطْعِمُوهُ مِنَ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ مَا يَشْتَهِي، فَأَتَوْنِي بِالطَّعَامِ وَالشَّرَابِ، فَقُلْتُ: لَا حَاجَةَ [ لِي ] فِي طَعَامِكُمْ وَشَرَابِكُمْ ؛ فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَطْعَمَنِي وَسَقَانِي، فَانْظُرُوا إِلَى هَذِهِ الْحَالِ الَّتِي أَنَا عَلَيْهَا، فَنَظَرُوا فَآمَنُوا بِي وَبِمَا جِئْتُ بِهِ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے باہلہ قبیلے کی طرف بھیجا، میں ان لوگوں کے پاس آیا، وہ اس وقت کھانا کھا رہے تھے، انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا:، میری عزت افزائی کی اور یہ کہا: آگے آؤ! اور کھانا کھاؤ، میں نے کہا: میں اس لئے آیا ہوں تاکہ میں تمہیں اس کھانے سے منع کر دوں اور میں اللہ کے رسول کا قاصد ہوں، میں تم لوگوں کے پاس آیا ہوں، تاکہ تم ان پر ایمان لے آؤ، تو ان لوگوں نے مجھے جھٹلایا اور مجھے پرے کر دیا، میں بھوکا اور پیاسا تھا، شدید بھوک نے مجھے پریشانی کا شکار کر دیا تھا، میں سو گیا، خواب میں میرے پاس دودھ کا مشروب آیا، میں نے وہ پیا تو میرا پیٹ بھر گیا، لوگوں نے کہا: تمہارے معززین اور نمایاں افراد میں سے ایک شخص تمہارے پاس آیا اور تم لوگوں نے اسے لوٹا دیا، تم لوگ اس کے پاس جاؤ اسے کھانا کھلاؤ اور مشروب دو، جو وہ چاہتا ہو، تو وہ لوگ کھانا اور مشروب لے کر میرے پاس آئے، میں نے کہا: مجھے تمہارے کھانے اور تمہارے مشروب کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے کھلا دیا ہے اور پلا دیا ہے، تم لوگ اس صورت حال کا جائزہ لو! ا جس پر میں ہوں، جب ان لوگوں نے جائزہ لیا، تو وہ مجھ پر ایمان لے آئے اور اس چیز پر ایمان لے آئے، جو میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے لے کر آیا تھا۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 16056]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8099)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 16057
وَفِي رِوَايَةٍ: فَأَرَيْتُهُمْ بَطْنِي، فَأَسْلَمُوا عَنْ آخِرِهِمْ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، وَإِسْنَادُ الْأُولَى حَسَنٌ ؛ فِيهَا أَبُو غَالِبٍ وَقَدْ وُثِّقَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، وَإِسْنَادُ الْأُولَى حَسَنٌ ؛ فِيهَا أَبُو غَالِبٍ وَقَدْ وُثِّقَ.
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: میں نے اُن لوگوں کو اپنا پیٹ دکھایا، تو وہ سب لوگ مسلمان ہو گئے۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے، پہلی سند حسن ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابوغالب ہے، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 16057]
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے، پہلی سند حسن ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابوغالب ہے، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 16057]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8073)»
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن