مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
304. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَامِرِ بْنِ لَقِيطٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -
حضرت عامر بن لقیط رضی اللہ عنہ کے بارے میں، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 16110
عَنْ عَامِرِ بْنِ لَقِيطٍ الْعَامِرِيِّ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُبَشِّرُهُ بِإِسْلَامِ قَوْمِي وَطَاعَتِهِمْ وَافِدًا إِلَيْهِ، فَلَمَّا أَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ قَالَ:" أَنْتَ الْوَافِدُ الْمَيْمُونُ، بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ".
قَالَ: وَمَسَحَ نَاصِيَتِي، ثُمَّ صَافَحَنِي وَصَبَّحَهُ قَوْمِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" أَبَى اللَّهُ لِبَنِي عَامِرٍ إِلَّا خَيْرًا، أَمَا وَاللَّهِ لَوْلَا أَنَّ جَدَّ قُرَيْشٍ نَازَعَ لَهَا لَكَانَتِ الْخِلَافَةُ لِبَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ، وَلَكِنَّ جَدَّ قُرَيْشٍ يُزَاحِمَ لَهَا".
فَلَمَّا دَخَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْبَيْتَ قَالَ:" هَلْ أَطْعَمْتُمْ ضَيْفَكُمْ شَيْئًا؟". قَالَتْ عَائِشَةُ: وَضَعْنَا بَيْنَ يَدَيْهِ شَيْئًا مِنْ تَمْرٍ، وَلَمْ يَكُنْ عِنْدَنَا غَيْرُهُ قَالَ: وَرَاحَتِ الْغَنَمُ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِشَاةٍ فَذُبِحَتْ فَتَكَرَّهْتُ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" مَا لَكِ؟ ذَبَحْنَاهَا لِأَنْفُسِنَا، إِنَّ غَنَمَنَا إِذَا زَادَتْ عَلَى الْمِائَةِ شَاةٍ ذَبَحْنَاهَا لِأَنْفُسِنَا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَعْلَى بْنُ الْأَشْدَقِ، وَهُوَ كَذَّابٌ.
قَالَ: وَمَسَحَ نَاصِيَتِي، ثُمَّ صَافَحَنِي وَصَبَّحَهُ قَوْمِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" أَبَى اللَّهُ لِبَنِي عَامِرٍ إِلَّا خَيْرًا، أَمَا وَاللَّهِ لَوْلَا أَنَّ جَدَّ قُرَيْشٍ نَازَعَ لَهَا لَكَانَتِ الْخِلَافَةُ لِبَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ، وَلَكِنَّ جَدَّ قُرَيْشٍ يُزَاحِمَ لَهَا".
فَلَمَّا دَخَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْبَيْتَ قَالَ:" هَلْ أَطْعَمْتُمْ ضَيْفَكُمْ شَيْئًا؟". قَالَتْ عَائِشَةُ: وَضَعْنَا بَيْنَ يَدَيْهِ شَيْئًا مِنْ تَمْرٍ، وَلَمْ يَكُنْ عِنْدَنَا غَيْرُهُ قَالَ: وَرَاحَتِ الْغَنَمُ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِشَاةٍ فَذُبِحَتْ فَتَكَرَّهْتُ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" مَا لَكِ؟ ذَبَحْنَاهَا لِأَنْفُسِنَا، إِنَّ غَنَمَنَا إِذَا زَادَتْ عَلَى الْمِائَةِ شَاةٍ ذَبَحْنَاهَا لِأَنْفُسِنَا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَعْلَى بْنُ الْأَشْدَقِ، وَهُوَ كَذَّابٌ.
سیدنا عامر بن لقیط عامری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے آپ کو اپنی قوم کے اسلام قبول کرنے اور فرمانبرداری اختیار کرنے کی خوشخبری سنائی، میں وافد کے طور پر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا، جب میں نے آپ کو اس بارے بتایا، تو آپ نے فرمایا: تم بابرکت وافد ہو، اللہ تعالیٰ تمہارے اندر برکت نصیب کرے۔
راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری پیشانی پر ہاتھ پھیرا، پھر آپ نے میرے ساتھ مصافحہ کیا، میری قوم نے آپ کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے بنو عامر کے بارے میں صرف بھلائی کا ارادہ کیا ہے، اللہ کی قسم! اگر یہ نہ ہوتا کہ قریش کے جدامجد نے اس حوالے سے ان سے اختلاف کیا ہے، تو خلافت بنو عامر بن صعصعہ کو ملنی تھی، لیکن کیونکہ قریش کے جدامجد کا نسب میں ان سے اختلاف ہے، اس لئے ایسا نہیں ہوا، پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں داخل ہوئے، تو آپ نے دریافت کیا: کیا تم نے اپنے مہمان کو کچھ کھلایا ہے؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: ہم نے ان کے سامنے کچھ کھجوریں رکھی تھیں، ہمارے پاس ان کے علاوہ اور کوئی کچھ نہیں تھا، راوی کہتے ہیں: اسی دوران بکریاں آئیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ایک بکری کو ذبح کیا جائے، میں نے اس بات کو ناپسند کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کیا الجھن ہے؟ ہم اسے اپنے لئے ذبح کر رہے ہیں، ہماری بکریاں جب ایک سو سے ایک بھی زائد ہو جائے، تو ہم اسے اپنے لئے ذبح کر لیتے ہیں۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی یعلیٰ بن اشدق ہے اور وہ کذاب ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 16110]
راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری پیشانی پر ہاتھ پھیرا، پھر آپ نے میرے ساتھ مصافحہ کیا، میری قوم نے آپ کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے بنو عامر کے بارے میں صرف بھلائی کا ارادہ کیا ہے، اللہ کی قسم! اگر یہ نہ ہوتا کہ قریش کے جدامجد نے اس حوالے سے ان سے اختلاف کیا ہے، تو خلافت بنو عامر بن صعصعہ کو ملنی تھی، لیکن کیونکہ قریش کے جدامجد کا نسب میں ان سے اختلاف ہے، اس لئے ایسا نہیں ہوا، پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں داخل ہوئے، تو آپ نے دریافت کیا: کیا تم نے اپنے مہمان کو کچھ کھلایا ہے؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: ہم نے ان کے سامنے کچھ کھجوریں رکھی تھیں، ہمارے پاس ان کے علاوہ اور کوئی کچھ نہیں تھا، راوی کہتے ہیں: اسی دوران بکریاں آئیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ایک بکری کو ذبح کیا جائے، میں نے اس بات کو ناپسند کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کیا الجھن ہے؟ ہم اسے اپنے لئے ذبح کر رہے ہیں، ہماری بکریاں جب ایک سو سے ایک بھی زائد ہو جائے، تو ہم اسے اپنے لئے ذبح کر لیتے ہیں۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی یعلیٰ بن اشدق ہے اور وہ کذاب ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 16110]
الحكم على الحديث: إسنادہ موضوع