مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
356. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ .
احنف بن قیس کے بارے میں، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 16190
قَالَ الطَّبَرَانِيُّ: الْأَحْنَفُ بْنُ قَيْسٍ مُخَضْرَمٌ، وَاسْمُهُ: صَخْرُ بْنُ قَيْسِ بْنِ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُصَيْنِ بْنِ [ عُبَادَةَ بْنِ نَزَالِ بْنِ مُرَّةَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ زَيْدِ ] مَنَاةَ بْنِ تَمِيمِ بْنِ مُرَّةَ.
امام طبرانی بیان کرتے ہیں: یہ احنف بن قیس ہے، جنہیں ”مخضرم“ ہونے کا شرف حاصل ہے (یعنی انہوں نے زمانہ جاہلیت اور زمانہ اسلام دونوں پائے ہیں) ان کا نام صخر بن قیس بن معاویہ بن حصین بن عبادہ بن نزال بن مرہ بن عبید بن حارث بن عمرو بن سعد بن زید مناة بن تمیم بن مرہ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 16190]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (32/8)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 16191
عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: بَيْنَا أَنَا أَطُوفُ بِالْبَيْتِ [ إِذْ لَقِيَنِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ فَقَالَ: أَلَا أُبَشِّرُكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: تَذْكُرْ ] إِذْ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى قَوْمِكَ مِنْ بَنِي سَعْدٍ أَدْعُوهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ، فَقُلْتُ: إِيهِ وَاللَّهِ، مَا قَالَ إِلَّا خَيْرًا، أَوْ لَا أَسْمَعُ إِلَّا حَسَنًا، فَإِنِّي رَجَعْتُ وَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَقَالَتَكَ، فَقَالَ:" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَحْنَفِ". قَالَ: فَمَا أَنَا لِشَيْءٍ أَرْجَى مِنِّي لَهَا.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ.
احنف بن قیس بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں، بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا، اسی دوران بنو سلیم سے تعلق رکھنے والا ایک شخص مجھ سے ملا اور بولا: کیا میں تمہیں خوشخبری نہ سناؤں؟ میں نے کہا: جی ہاں! اس نے کہا: تم یہ ذکر رہے تھے کہ جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہاری قوم بنو سعد کی طرف بھیجا کہ میں انہیں اسلام کی طرف دعوت دوں، تو میں نے کہا: جی ہاں! اللہ کی قسم! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف بھلائی کی بات کہی تھی، یا میں نے صرف اچھی بات سنی تھی، اگر میں واپس آ گیا، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تمہاری بات کے بارے میں بتایا، تو آپ نے فرمایا: اے اللہ! احنف کی مغفرت کر دے، سیدنا احنف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو مجھے اس (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا) سے زیادہ اور کسی چیز کے بارے میں امید نہیں ہے۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں، صرف علی بن زید کا معاملہ مختلف ہے اور وہ حسن الحدیث ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 16191]
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں، صرف علی بن زید کا معاملہ مختلف ہے اور وہ حسن الحدیث ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 16191]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7285) اخرجه احمد فى المسند (372/5)»
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن