🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

362. بَابٌ .
بلا عنوان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16399
عَنْ عَلِيٍّ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَلْتَمِسَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِي كَمَا تُلْتَمَسُ - أَوْ تُبْتَغَى - الضَّالَّةُ فَلَا تُوجَدُ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ الْحَارِثُ الْأَعْوَرُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ.
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی، جب تک میرے اصحاب میں سے، کسی فرد کو یوں تلاش نہیں کیا جائے گا، جس طرح گمشدہ چیز کو تلاش کیا جاتا ہے، اور پھر وہ نہیں ملتی ہے (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے)۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی حارث اعور ہے اور وہ ضعیف ہے اور اس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 16399]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (2775 و 2772) اخرجه احمد فى المسند (720 و 675)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16400
وَعَنْ جَابِرٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَيَأْتِينَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَخْرُجُ الْجَيْشُ مِنْ جُيُوشِهِمْ فَيُقَالُ: هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَحِبَ مُحَمَّدًا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ فَيَسْتَنْصِرُونَ بِهِ فَيُنْصَرُوا، ثُمَّ يُقَالُ: هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَحِبَ مُحَمَّدًا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ فَيُقَالُ: لَا، فَمَنْ صَحِبَ أَصْحَابَهُ؟ فَيُقَالُ: مَنْ رَأَى مَنْ صَحِبَ أَصْحَابَهُ، فَلَوْ سَمِعُوا بِهِ مِنْ وَرَاءِ الْبَحْرِ لَأَتَوْهُ".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوگوں پر ایسا زمانہ ضرور آئے گا کہ جب ان کا لشکر نکلے گا تو دریافت کیا جائے گا: کیا تمہارے درمیان کوئی ایسے فرد موجود ہیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہوں؟ تو لوگ اس فرد کے وسیلے سے مدد کا حصول چاہیں گے، تو ان کی مدد کی جائے گی، پھر ایک زمانہ آئے گا کہ جب یہ کہا: جائے گا: کیا کوئی ایسا فرد موجود ہے؟ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابی ہو؟ تو جواب دیا جائے گا: جی نہیں! تو یہ پوچھا: جائے گا کہ کوئی ایسا فرد ہے جو آپ کے اصحاب کے ساتھ رہا ہو؟ تو یہ کہا: جائے گا: کون ہے؟ جس نے ایسے شخص کو دیکھا ہو جو آپ کے اصحاب کے ساتھ رہا ہو؟ تو اگر لوگوں کو ایسے کسی فرد کے بارے میں پتہ چلے کہ وہ سمندر کے پار ہے، تو وہ پھر بھی اس کے پاس پہنچ جائیں گے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 16400]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابو يعلى فى المسند (8182)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16401
وَفِي رِوَايَةٍ:" ثُمَّ يَبْقَى قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يَدْرُونَ مَا هُوَ".
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى مِنْ طَرِيقَيْنِ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: پھر ایسے لوگ رہ جائیں گے، جو قرآن پڑھیں گے، لیکن انہیں یہ سمجھ نہیں ہو گی کہ اس سے مراد کیا ہے؟۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے دو حوالوں سے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 16401]
تخریج الحدیث: «اخرجه أبو يعلى فى المسند (2306)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں