🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

374. بَابُ مَا جَاءَ فِي قَبَائِلِ الْعَرَبِ .
عربوں کے قبائل کے بارے میں، جو منقول ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16542
عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" قُرَيْشٌ، وَالْأَنْصَارُ، وَأَسْلَمُ، وَغِفَارُ، - أَوْ غِفَارُ وَأَسْلَمُ - وَمَنْ كَانَ مِنْ أَشْجَعَ وَجُهَيْنَةَ، - أَوْ جُهَيْنَةَ وَأَشْجَعَ - حُلَفَاءُ مَوَالِي، لَيْسَ لَهُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلَا رَسُولِهِ مَوْلًى". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ مِنْ رِوَايَةِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، وَهِيَ ضَعِيفَةٌ.
سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: قریش، انصار، اسلم اور غفار (راوی کو شک ہے، یا شاید یہ الفاظ ہیں:) غفار اور اسلم اور اشجع اور جہینہ سے تعلق رکھنے والے لوگ (راوی کو شک ہے، یا شاید یہ الفاظ ہیں:) جہینہ اور اشجع سے تعلق رکھنے والے لوگ، جو ایک دوسرے کے حلیف ہیں، وہ میرے ساتھی ہیں اور اُن کا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ اور کوئی مولیٰ نہیں ہے۔
یہ روایت امام أحمد امام طبرانی نقل کی ہے جو اسماعیل بن عیاش نے یحیی بن سعید انصاری سے نقل کی ہے اور
یہ روایت ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 16542]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5248) اخرجه احمد فى المسند (193/5)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16543
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" قُرَيْشٌ، وَالْأَنْصَارُ، وَجُهَيْنَةُ، وَمُزَيْنَةُ، وَأَسْلَمُ، وَغِفَارُ، وَأَشْجَعُ، وَسُلَيْمٌ، أَوْلِيَائِي، لَيْسَ لَهُمْ وَلِيٌّ دُونَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ خِلَافٌ.
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قریش، انصار، جہینہ، مزینہ، اسلم، غفار، اشجع اور سلیم (یعنی ان قبائل کے افراد) یہ میرے ساتھی ہیں، ان کا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ اور کوئی ولی نہیں ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے، امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں، صرف عبدالملک بن محمد بن عبداللہ کا معاملہ مختلف ہے، اور وہ ثقہ ہے اور اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 16543]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (2812) اخرجه ابو يعلى فى المسند (867)»

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16544
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَجَدْتُ جَمَاعَةً مِنَ الْعَرَبِ يَتَفَاخَرُونَ فِيمَا بَيْنَهُمْ، فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ:" مَا هَذَا يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ، الَّذِي أَسْمَعُ؟". فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذِهِ الْعَرَبُ تَفَاخَرُ فِيمَا بَيْنَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ، إِذَا فَاخَرْتَ النَّاسَ فَفَاخِرْ بِقُرَيْشٍ، وَإِذَا كَاثَرْتَ فَكَاثِرْ بِتَمِيمٍ، وَإِذَا حَارَبْتَ فَحَارِبْ بِقَيْسٍ، أَلَا إِنَّ وُجُوهَهَا كِنَانَةٌ، وَلِسَانَهَا أُسْدٌ، وَفُرْسَانَهَا قَيْسٌ. يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ إِنَّ لِلَّهِ فُرْسَانًا فِي سَمَائِهِ يُحَارِبُ بِهِمْ أَعْدَاءَهُ، وَهُمُ الْمَلَائِكَةُ، وَلَهُ فُرْسَانٌ فِي أَرْضِهِ يُحَارِبُ بِهِمْ أَعْدَاءَهُ، وَهُمْ قَيْسٌ. يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ، إِنَّ آخِرَ مَنْ يُقَاتِلُ عَنِ الْإِسْلَامِ حِينَ لَا يَبْقَى إِلَّا ذِكْرُهُ، وَعَنِ الْقُرْآنِ حِينَ لَا يَبْقَى إِلَّا رَسْمُهُ لَرَجُلٌ مِنْ قَيْسٍ". قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ قَيْسٍ؟ قَالَ:" مِنْ سُلَيْمٍ". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي كَرِيمَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے عربوں کے مختلف قبائل سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کو پایا کہ وہ ایک دوسرے کے سامنے فخر کا اظہار کر رہے تھے، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ نے فرمایا: اے ابودرداء! یہ کیا معاملہ ہے جو میں سن رہا ہوں؟ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ عرب ہیں، جو ایک دوسرے کے سامنے فخر کا اظہار کر رہے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے ابودرداء! جب تم نے لوگوں کے سامنے فخر کا اظہار کرنا ہو، تو قریش کے حوالے سے فخر کا اظہار کرنا، اور جب کثرت کا اظہار کرنا ہو، تو تمیم کے حوالے سے کثرت کا اظہار کرنا، اور جب جنگ کرنی ہو، تو قیس قبیلے کی مدد سے جنگ کرنا، کیونکہ ان کے چہرے ترکش ہیں، ان کی زبان شیر کی ہے اور ان کے گھڑ سوار قیس ہیں۔
اے ابودرداء! آسمان میں اللہ تعالیٰ کے کچھ شہسوار ہیں، جن کے ذریعے وہ اپنے دشمنوں سے جنگ کرتا ہے اور وہ فرشتے ہیں اور زمین میں بھی اللہ تعالیٰ کے شہسوار ہیں، جن کے ذریعے وہ اپنے دشمنوں سے جنگ کرتا ہے اور وہ قیس قبیلے کے لوگ ہیں۔
اے ابودرداء! اسلام کی طرف سے جو لوگ آخر میں جنگ میں حصہ لیں گے، اس وقت جب صرف اسلام کا تذکرہ باقی رہ جائے گا اور قرآن کے حوالے سے جو لوگ سب سے آخر میں جنگ میں حصہ لیں گے، اس وقت جب صرف اس کی رسم باقی رہ جائے گی، وہ قیس قبیلے سے تعلق رکھنے والے لوگ ہوں گے۔
راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! قیس قبیلے میں سے (کون سی شاخ کے) لوگ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سلیم سے تعلق رکھنے والے لوگ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ابوکریمہ ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 16544]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (2819)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16545
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: ذُكِرَتِ الْقَبَائِلُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلُوهُ عَنْ بَنِي عَامِرٍ فَقَالَ:" جَمَلٌ أَزْهَرُ، يَأْكُلُ مِنْ أَطْرَافِ الشَّجَرِ". وَسَأَلُوهُ عَنْ هَوَازِنَ فَقَالَ:" زَهْرَةٌ تَنْبُعُ مَاءً". وَسَأَلُوهُ عَنْ بَنِي تَمِيمٍ فَقَالَ:" ثَبَتُ الْأَقْدَامِ، رُجَّحُ الْأَحْلَامِ، عُظَمَاءُ الْهَامِ، أَشَدُّ النَّاسِ عَلَى الدَّجَّالِ فِي آخِرِ الزَّمَانِ، هَضْبَةٌ حَمْرَاءُ لَا يَضُرُّهَا مَنْ نَاوَأَهَا". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سَلَامُ بْنُ صُبَيْحٍ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مختلف قبائل کا ذکر کیا گیا، آپ سے بنو عامر کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا: وہ چمکتی رنگت کا اونٹ ہیں، جو درخت کے اطراف میں سے کھاتا ہے، لوگوں نے آپ سے ہوازن کے بارے میں دریافت کیا: تو آپ نے فرمایا: وہ چمکدار لوگ ہیں، جن سے پانی پھوٹتا ہے، لوگوں نے آپ سے بنو تمیم کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: وہ ثابت قدم لوگ ہیں، سمجھدار ہیں، اُن کے سر بڑے ہیں، آخری زمانے میں دجال کے خلاف وہ سب سے زیادہ سخت ہوں گے، وہ ایک (سطح مرتفع والی) ایسی سرخ مٹی ہے کہ جو شخص اس کی پناہ میں آیا، اسے کوئی نقصان نہیں ہوتا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلام بن صبیح ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 16545]

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16546
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْرِضُ يَوْمًا خَيْلًا، وَعِنْدَهُ عُيَيَنَةُ بْنُ حِصْنِ بْنِ بَدْرٍ الْفَزَارِيُّ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" أَنَا أَفْرَسُ بِالْخَيْلِ مِنْكَ". فَقَالَ عُيَيْنَةُ: وَأَنَا أَفْرَسُ بِالرِّجَالِ مِنْكَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" وَكَيْفَ ذَاكَ؟". قَالَ: خَيْرُ الرِّجَالِ رِجَالٌ يَحْمِلُونَ سُيُوفَهُمْ عَلَى عَوَاتِقِهِمْ، جَاعِلِي رِمَاحِهِمْ عَلَى مَنَاسِجِ خُيُولِهِمْ، لَابِسِي الْبُرُدِ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" كَذَبْتَ، بَلْ خَيْرُ الرِّجَالِ رِجَالُ أَهْلِ الْيَمَنِ، وَالْإِيمَانُ يَمَانُ إِلَى لَخْمٍ، وَجُذَامَ، وَعَامِلَةَ، وَمَأْكُولُ حِمْيَرَ خَيْرٌ مِنْ أَكْلِهَا، وَحَضْرَمَوْتَ خَيْرٌ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ، وَقَبِيلَةٌ خَيْرٌ مِنْ قَبِيلَةٍ، وَقَبِيلَةٌ شَرٌّ مِنْ قَبِيلَةٍ، وَاللَّهِ لَا أُبَالِي أَنْ يَهْلِكَ الْحَارِثَانِ كِلَاهُمَا، لَعَنَ اللَّهُ الْمُلُوكَ الْأَرْبَعَةَ: جَمَدَاءَ، وَمِخْوَسًاءَ، وَمِشْرَحًاءَ، وَأَبْضَعَةَ، وَأُخْتَهُمُ الْعَمَرَّدَةَ". ثُمَّ قَالَ:" أَمَرَنِي رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْ أَلْعَنَ قُرَيْشًا فَلَعَنَتْهُمْ، وَأَمَرَنِي أَنْ أُصَلِّيَ عَلَيْهِمْ مَرَّتَيْنِ، فَصَلَّيْتُ عَلَيْهِمْ مَرَّتَيْنِ".
ثُمَّ قَالَ:" عُصِيَّةُ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ غَيْرَ قَيْسٍ، وَجَعْدَةَ، وَعُصِيَّةَ".
ثُمَّ قَالَ:" لَأَسْلَمُ، وَغِفَارُ، وَأَخْلَاطُهُمْ مِنْ جُهَيْنَةَ خَيْرٌ مِنْ أَسَدٍ، وَتَمِيمٍ وَغَطَفَانَ وَهَوَازِنَ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ثُمَّ قَالَ:" شَرُّ قَبِيلَتَيْنِ فِي الْعَرَبِ: نَجْرَانُ، وَبَنُو تَغْلِبَ، وَأَكْثَرُ الْقَبَائِلِ فِي الْجَنَّةِ مَذْحِجٌ، وَمَأْكُولٌ".
سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک دن گھوڑے گزرے، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عیینہ بن حصن بن بدر فزاری موجود تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: میں تم سے زیادہ اچھا شہسوار ہوں (یا میں شہسواروں کا تم سے بڑا سپہ سالار ہوں) اس نے کہا: لیکن میں پیادہ افراد کو آپ سے زیادہ بہتر طریقے سے لے کر چل سکتا ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا: وہ کیسے؟ اس نے کہا: لوگوں میں سب سے بہتر وہ مرد ہوتے ہیں، جو اپنے کندھوں پر تلواریں رکھتے ہیں اور اپنے نیزے اپنے گھوڑوں کے قدموں کے پاس رکھتے ہیں، اور نجد کی بنی ہوئی چادر اوڑھے ہوئے ہوتے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم غلط کہہ رہے ہو، بلکہ لوگوں میں سب سے بہتر اہل یمن کے افراد ہیں، ایمان یمنی ہے، جو لخم، جذام اور عاملہ کی طرف ہے، اور حمیر کا کھایا ہوا، اس کے کھانے والے سے بہتر ہے، اور حضرموت، بنو حارث سے بہتر ہے، ایک قبیلہ دوسرے سے بہتر ہوتا ہے اور ایک قبیلہ کسی دوسرے سے برا ہوتا ہے، اللہ کی قسم! میں اس بات کی پرواہ نہیں کروں گا کہ اگر حارث قبیلے کی دونوں شاخیں ہلاکت کا شکار ہو جائیں، اللہ تعالیٰ چار بادشاہوں پر لعنت کرے، جمداء، مخوساء، مشرحاء اور ابضعہ اور اُن کی بہن عمردہ۔
پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے پروردگار نے مجھے یہ حکم دیا تھا کہ میں قریش پر لعنت کروں، تو میں نے ان پر لعنت کی، اب اس نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں اُن کے لئے دو مرتبہ دعائے رحمت کروں، تو میں ان کے لئے دو مرتبہ دعائے رحمت کرتا ہوں۔
پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عصیہ قبیلے نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی، صرف قیس اور جعدہ اور عصیہ کا معاملہ مختلف ہے۔
پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلم اور غفار اور ان کے ملتے جلتے لوگ، جو جہینہ سے تعلق رکھتے ہیں، وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اسد، تمیم، غطفان اور ہوازن کے مقابلے میں بہتر ہوں گے۔
پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عربوں کے دو بدترین قبیلے نجران اور بنو تغلب ہیں، اور جنت میں زیادہ تعداد والے قبیلے مذحج اور ماکول ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 16546]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (387/4)»

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16547
وَفِي رِوَايَةٍ:" وَمَأْكُولٌ [حِمْيَرَ] خَيْرٌ مِنْ أَكْلِهَا". قَالَ: مَنْ مَضَى خَيْرٌ مِمَنْ بَقِيَ.
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: حمیر کا کھایا ہوا، اُس کے کھانے والے سے بہتر ہے۔ راوی کہتے ہیں: اس سے مراد یہ ہے: کہ جو گزر گیا ہے، وہ باقی رہ جانے والوں سے بہتر ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 16547]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (387/4)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16548
وَفِي رِوَايَةٍ:" وَأَنَا يَمَانٌ، وَحَضْرَمَوْتُ خَيْرٌ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ، وَلَا أُبَالِي أَنْ يَهْلِكَ الْحَيَّانِ كِلَاهُمَا فَلَا قَيْلَ وَلَا مَلِكَ إِلَّا اللَّهُ". رَوَاهُ أَحْمَدُ مُتَّصِلًا وَمُرْسَلًا، وَالطَّبَرَانِيُّ وَسَمَّى السَّاقِطَ بُسْرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَرِجَالُ الْجَمِيعِ ثِقَاتٌ.
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: میں یمانی ہوں اور حضرموت، بنو حارث سے بہتر ہیں اور میں اس بات کی پرواہ نہیں کروں گا کہ اگر دونوں قبیلے ہلاکت کا شکار ہو جائیں، تو حکمرانی اور بادشاہی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے۔
یہ روایت امام أحمد نے متصل اور مرسل دونوں طرح سے نقل کی ہے، اس کو امام طبرانی نے بھی نقل کیا ہے، انہوں نے ساقط راوی کا نام بسر بن عبیداللہ بیان کیا ہے اور ان تمام روایات کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 16548]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (387/4)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16549
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ قَالَ: عُرِضَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا خَيْلٌ وَعِنْدَهُ عُيَيْنَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" أَنَا أَفْرَسُ بِالْخَيْلِ مِنْكَ". فَقَالَ عُيَيْنَةُ: إِنْ تَكُنْ أَفْرَسَ بِالْخَيْلِ مِنِّي فَأَنَا أَفْرَسُ بِالرِّجَالِ مِنْكَ، قَالَ:" وَكَيْفَ؟". قَالَ: إِنَّ خَيْرَ الرِّجَالِ رِجَالٌ لَابِسُو الْبُرُدَ، وَاضِعُو السُّيُوفِ عَلَى عَوَاتِقِهِمْ، وَعَرَضُوا الرِّمَاحَ عَلَى مَنَاسِجِ خُيُولِهِمْ، رِجَالُ نَجْدٍ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" كَذَبْتَ، بَلْ هُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ، الْإِيمَانُ يَمَانٌ إِلَى لَخْمٍ، وَجُذَامَ، وَعَامِلَةَ، وَمَأْكُولُ حِمْيَرَ خَيْرٌ مِنْ أَكْلِهَا، وَحَضْرَمَوْتُ خَيْرٌ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ".
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" وَلَا قَيْلَ، وَلَا مَلِكَ، وَلَا قَاهِرَ إِلَّا اللَّهُ".
فَبَعَثَ السِّمْطَ إِلَى عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" حَضْرَمَوْتُ خَيْرٌ مَنْ بَنِي الْحَارِثِ"؟. قَالَ: نَعَمْ. قَالَ سِمْطٌ: آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ.
وَلَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمُلُوكَ الْأَرْبَعَةَ: جَمَدَاءَ، وَمِخْوَسَاءَ، وَأَبْضَعَةَ، وَمِشْرَحَاءَ، وَأُخْتَهُمُ الْعَمَرَّدَةَ، وَكَانَتْ تَأْتِي الْمُسْلِمِينَ إِذَا سَجَدُوا فَتَرْكَبُهُمْ.
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَمَرَنِي أَنْ أَلْعَنَ قُرَيْشًا فَلَعَنْتُهُمْ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ أَمَرَنِي أَنْ أُصَلِّيَ عَلَيْهِمْ مَرَّتَيْنِ فَصَلَّيْتُ عَلَيْهِمْ مَرَّتَيْنِ، وَأَكْثَرُ الْقَبَائِلِ فِي الْجَنَّةِ: مَذْحِجٌ، وَأَسْلَمُ، وَغِفَارُ، وَمُزَيْنَةُ، وَأَخْلَاطُهُمْ مِنْ جُهَيْنَةَ خَيْرٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ، وَتَمِيمٍ، وَهَوَازِنَ، وَغَطَفَانَ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَنَا لَا أُبَالِي أَنْ يَهْلِكَ الْحَيَّانِ كِلَاهُمَا، وَأَمَرَنِي أَنْ أَلْعَنَ قَبِيلَتَيْنِ: تَمِيمَ بْنَ مُرٍّ سَبْعًا فَلَعَنْتُهُمْ، وَبَكْرَ بْنَ وَائِلٍ خَمْسًا، وَعُصَيَّةُ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، إِلَّا مَازِنَ وَقَيْسَ قَبِيلَتَانِ لَا يُدْخِلُ الْجَنَّةَ مِنْهُمْ أَحَدًا أَبَدًا، مَنَاعِشَ وَمُلَادِسَ، وَزَعَمَ أَنَّهُمَا قَبِيلَتَانِ تَاهَتَا اتَّبَعَتَا الْمَشْرِقَ فِي عَامِ جَدْبٍ، فَانْقَطَعَتَا فِي نَاحِيَةٍ مِنَ الْأَرْضِ لَا يُوَصَلُ إِلَيْهِمَا، وَذَلِكَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، عَنْ شَيْخِهِ بَكْرِ بْنِ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيِّ. قَالَ الذَّهَبِيُّ: حَمَلَ عَنْهُ النَّاسُ، وَهُوَ مُقَارِبُ الْحَالِ، وَقَالَ النَّسَائِيُّ: ضَعِيفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَقَدْ رَوَاهُ بِنَحْوِهِ بِإِسْنَادٍ جَيِّدٍ عَنْ شَيْخَيْنِ آخَرَيْنِ.
سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گھوڑے پیش کئے گئے اس وقت آپ کے پاس عیینہ موجود تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تم سے بڑا شہسوار ہوں، عیینہ نے کہا: اگر آپ مجھ سے بڑے شہوار ہیں، تو میں آپ سے زیادہ بڑا پیادہ ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: وہ کیسے؟ اس نے کہا: مردوں میں بہتر وہ لوگ ہوتے ہیں جو چادریں پہنتے ہیں، اپنے کندھوں پر تلواریں رکھتے ہیں اور اپنے نیزے گھوڑوں کی سموں (یا نتھنوں) کے پاس رکھتے ہیں، اور وہ نجد کے لوگ ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے غلط کہا: ہے (یعنی جو لوگ سب سے بہتر ہوتے ہیں) وہ اہل یمن کے مرد ہیں اور ایمان یمنی ہے، جو لخم، جذام، عاملہ کی طرف ہے اور حمیر کا کھایا ہوا، اُن کے کھانے والے سے بہتر ہے اور حضرموت بنو حارث سے بہتر ہیں۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا: حکومت، بادشاہی اور غلبہ صرف اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے۔
(راوی بیان کرتے ہیں:) سمط نے سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا: کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: حضرموت، بنو حارث سے بہتر ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں! تو سمط نے کہا: میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتا ہوں۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار بادشاہوں پر لعنت کی ہے: جمداء، مخوساء، ابضعہ، مشرحاء اور ان کی بہن عمردہ (راوی بیان کرتے ہیں:) جب مسلمان سجدے میں گئے ہوتے تھے تو یہ عورت اُن کے پاس آتی تھی اور ان پر سوار ہو جاتی تھی۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے: اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ حکم دیا کہ میں قریش پر لعنت کروں، تو میں نے ان پر دو مرتبہ لعنت کی پھر اس نے مجھے حکم دیا کہ میں اُن کے لئے دو مرتبہ دعائے رحمت کروں، تو میں نے ان کے لئے دو مرتبہ دعائے رحمت کی، جنت میں مذحج، اسلم، غفار اور مزینہ قبیلے کے لوگ زیادہ تعداد میں ہوں گے، اور اُن سے ملتے جلتے جہینہ قبیلے کے لوگ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک بنو اسد اور تمیم اور ہوازن اور غطفان سے بہتر ہوں گے، اور میں اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ اگر دونوں قبیلے ہلاکت کا شکار ہو جائیں، پروردگار نے مجھے یہ حکم دیا کہ میں دو قبیلوں، تمیم بن مر پر سات مرتبہ لعنت کروں، تو میں نے ان پر لعنت کی، اور بکر بن وائل پر پانچ مرتبہ لعنت کروں، عصیہ قبیلے نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی، البتہ مازن اور قیس قبیلے کا معاملہ مختلف ہے۔
ان (کفار) میں سے کوئی شخص کبھی جنت میں داخل نہیں ہو گا، مناعش اور ملادس، ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ دو قبیلے وہ ہیں جو بھٹک گئے تھے اور قحط سالی کے دوران یہ دونوں مشرق کی طرف چلے گئے تھے اور عام (آباد) زمین سے ہٹ کر ایک کونے میں چلے گئے تھے، ان تک پہنچا نہیں جا سکتا تھا، یہ زمانہ جاہلیت کی بات ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد بکر بن سہل دمیاطی کے حوالے سے نقل کی ہے، امام ذہبی کہتے ہیں: لوگوں نے ان سے روایات نقل کی ہیں، یہ مقارب الحال ہے، امام نسائی رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ ضعیف ہے، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں، اس کی مانند روایت عمدہ سند کے ساتھ انہوں نے دو دیگر اساتذہ سے نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 16549]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16550
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي دَارِنَا يَعْرِضُ الْخَيْلَ. قَالَ: فَدَخَلَ عَلَيْهِ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ، فَقَالَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَنْتَ أَبْصَرُ مِنِّي بِالْخَيْلِ، وَأَنَا أَبْصَرُ بِالرِّجَالِ مِنْكَ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" فَأَيُّ الرِّجَالِ خَيْرٌ؟". فَقَالَ: رِجَالٌ يَحْمِلُونَ سُيُوفَهُمْ عَلَى عَوَاتِقِهِمْ، وَيَعْرِضُونَ رِمَاحَهُمْ عَلَى مَنَاسِجِ خُيُولِهِمْ، وَيَلْبَسُونَ الْبُرُودَ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" كَذَبْتَ، بَلْ خَيْرُ الرِّجَالِ رِجَالُ ذِي الْإِيمَانِ يَمَانٌ، وَأَكْثَرُ قَبِيلَةٍ فِي الْجَنَّةِ مَذْحِجٌ، وَمَأْكُولُ حِمْيَرَ خَيْرٌ مِنْ أَكْلِهَا، وَحَضْرَمَوْتُ خَيْرٌ مِنْ كِنْدَةَ، فَلَعَنَ اللَّهُ الْمُلُوكَ الْأَرْبَعَةَ: جَمَدَاءَ، وَمِشْرَخَاءَ، وَمِخْوَسَاءَ، وَأَبْضَعَةَ، وَأُخْتَهُمُ الْعَمَرَّدَةَ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ خَالِدَ بْنَ مَعْدَانَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ مُعَاذٍ.
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے محلے میں موجود تھے، آپ کے سامنے گھوڑے پیش کئے گئے، اسی دوران عیینہ بن حصن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: شہسواروں کے بارے میں آپ مجھ سے زیادہ بصیرت رکھتے ہیں اور پیادہ افراد کے بارے میں، میں آپ سے زیادہ بصیرت رکھتا ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون سے مرد بہتر ہوتے ہیں؟ اس نے کہا: وہ مرد جو اپنی تلوار اپنے کندھوں پر رکھتے ہیں اور اپنے نیزے اپنے گھوڑوں کی سموں (یا نتھنوں) کے پاس رکھتے ہیں اور نجد سے تعلق رکھتے ہیں، وہ چادریں پہنتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے غلط کہا: ہے، بلکہ مردوں میں سب سے بہتر مرد ایمان والے یمنی لوگ ہیں اور جنت میں زیادہ تعداد میں مذحج قبیلے کے لوگ ہوں گے، اور حمیر کا کھایا ہوا اُس کے کھانے والے سے بہتر ہے اور حضرموت، کندہ سے بہتر ہے، اللہ تعالی چار بادشاہوں پر لعنت کرے، جمداء، مشرخاء، مخوساء، ابضعہ اور ان کی بہن عمردہ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ البتہ خالد بن معدان نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 16550]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (98/20)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16551
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ السُّلَمِيِّ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى السَّكُونِ وَالسَّكَاسِكِ، وَعَلَى خَوْلَانَ خَوْلَانَ الْعَالِيَةَ، وَعَلَى الْأَمْلُوكِ أَمْلُوكِ رَدْمَانَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ مَوْهَبٍ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا عمرو بن عبسہ سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سکون، سکاسک اور خولان، یعنی خولان عالیہ اور املوک، یعنی املوک ردمان (یعنی ان سب قبائل) کے لیے دعائے رحمت کی تھی۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن یزید بن معاویہ ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 16551]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (387/4)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں