🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

383. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَنَزَةَ .
”عنزہ“ قبیلے کے بارے میں جو منقول ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16590
عَنْ سَلَمَةَ بْنِ سَعْدٍ: أَنَّهُ وَفَدَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هُوَ وَجَمَاعَةٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ وَوَلَدِهِ، فَاسْتَأْذَنُوا عَلَيْهِ، فَدَخَلُوا فَقَالَ:" مَنْ هَؤُلَاءِ؟". فَقِيلَ لَهُ: هَذَا وَفْدُ عَنَزَةَ، فَقَالَ:" بَخٍ بَخٍ بَخٍ بَخٍ، نِعْمَ الْحَيُّ عَنَزَةُ، مَبْغِيٌّ عَلَيْهِمْ مَنْصُورُونَ، مَرْحَبًا بِقَوْمِ شُعَيْبٍ، وَأُخْتَانِ مُوسَى، سَلْ يَا سَلَمَةُ، عَنْ حَاجَتِكَ". فَقَالَ: جِئْتُ أَسْأَلُكَ عَمَّا افْتَرَضْتَ عَلَيَّ فِي الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ وَالْعَنْزِ. فَأَخْبَرَهُ ثُمَّ جَلَسَ عِنْدَهُ قَرِيبًا، ثُمَّ اسْتَأْذَنَهُ فِي الِانْصِرَافِ، فَقَالَ:" انْصَرِفْ". فَمَا عَدَا أَنْ قَامَ لِيَنْصَرِفَ فَقَالَ:" اللَّهُمَّ ارْزُقْ عَنَزَةَ كَفَافًا لَا فُوتًا، وَلَا إِسْرَافًا". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ عَنْهُ، وَقَالَ:" اللَّهُمَّ ارْزُقْ عَنَزَةَ قُوتًا لَا سَرَفَ فِيهِ". وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.
سیدنا سلمہ بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: وہ اپنے گھر والوں اور اولاد کے ایک گروہ کے ہمراہ وفد کی شکل میں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے اندر آنے کی اجازت مانگی، جب وہ اندر آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: یہ کون لوگ ہیں؟ تو آپ کو بتایا گیا: یہ عنزہ قبیلے کے وفد کے افراد ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہت خوب، بہت خوب، عنزہ، اچھا قبیلہ ہے، جب ان کے خلاف کوشش کی گئی تو ان کی مدد کی گئی، سیدنا شعیب علیہ السلام کی قوم کو خوش آمدید! اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ والی دو بہنوں کی قوم کو خوش آمدید! اے سلمہ! تم اپنی حاجت کے بارے میں پوچھو! تو سیدنا سلمہ بن سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کی: میں آپ کے پاس یہ دریافت کرنے کے لئے آیا ہوں کہ اونٹوں اور بکریوں وغیرہ میں مجھ پر کیا زکوۃ فرض ہو گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس بارے میں بتایا، پھر وہ کچھ دیر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے رہے، پھر انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے واپسی کی اجازت مانگی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم واپس چلے جاؤ! جب وہ واپس جانے کے لیے اُٹھنے لگے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! تو عنزہ قبیلے کے لوگوں کو ایسا رزق عطا فرما جو بنیادی ضروریات پوری کرتا ہو، نہ وہ اس سے کم ہو اور نہ فضول خرچی والا ہو۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، امام بزار نے ان صحابی کے حوالے سے اختصار کے ساتھ یہ الفاظ نقل کئے ہیں: اے اللہ! تو عنزہ قبیلے کو ایسی خوراک عطا فرما، جس میں اسراف نہ ہو۔ اس روایت کی سند میں ایسے لوگ ہیں، جن سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 16590]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (2828) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6364)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16591
وَعَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ نُعَيْمٍ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ عِصَامٍ جَاءَهُ فَقَالَ: يَا أَبَا رَبَاحٍ، مَا الَّذِي ذَكَرَ لَكَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرُ حِينَ قَدِمْتَ عَلَيْهِ فِي قَوْمِكَ عَنْزَةٌ؟ قَالَ: مَرَرْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ لِي: مَنْ أَنْتَ؟ وَمِمَّنْ أَنْتَ؟ فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ نُعَيْمٍ الْعَنَزِيُّ، فَقَالَ: عَنَزَةُ؟ قُلْتُ: نَعَمْ. فَقَالَ: أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَذْكُرُ قَوْمَكَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَقَالَ أَصْحَابُهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا عَنَزَةُ؟ فَأَشَارَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ فَقَالَ:" حَيٌّ مِنْ هَاهُنَا، مَبْغِيٌّ عَلَيْهِمْ، مَنْصُورُونَ". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ بِاخْتِصَارٍ عَنْهُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَأَحْمَدُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عَنِ الْغَضْبَانِ بْنِ حَنْظَلَةَ: أَنَّ أَبَاهُ وَفَدَ إِلَى عُمَرَ وَلَمْ يَذْكُرْ حَنْظَلَةَ. وَأَحَدُ إِسْنَادَيْ أَبِي يَعْلَى رِجَالُهُ ثِقَاتٌ كُلُّهُمْ.
حنظلہ بن نعیم بیان کرتے ہیں: عمر بن ہشام اُن کے پاس آئے اور بولے: اے ابورباح! وہ واقعہ کیا ہے؟ کہ جب آپ اپنی قوم عنزہ قبیلے کے ہمراہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تھے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کے سامنے وہ بات کی تھی، تو انہوں نے بتایا: ایک مرتبہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا، انہوں نے مجھ سے دریافت کیا: تم کون ہو اور تمہارا تعلق کس سے ہے؟ میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! میں حنظلہ بن نعیم عنزی ہوں، انہوں نے دریافت کیا: عنزہ قبیلے سے ہو؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں! تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بتایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک دن تمہاری قوم کا ذکر کرتے ہوئے سنا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے دریافت کیا: یا رسول اللہ! عنزہ قبیلے کے لوگ کون ہیں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے مشرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ فرمایا: وہ اس طرف کا ایک قبیلہ ہے، جب ان کے خلاف لڑائی کی جائے تو ان کی مدد کی جاتی ہے۔
یہ روایت ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے، امام بزار نے اس کی مانند روایت اس صحابی کے حوالے سے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے، امام طبرانی نے معجم اوسط میں اور امام أحمد نے بھی یہ روایت نقل کی ہے، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں: غضبان بن حنظلہ بیان کرتے ہیں: ان کے والد وفد کے ساتھ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے حنظلہ کا ذکر نہیں کیا، امام ابویعلیٰ کی دو اسناد میں سے ایک کے تمام رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 16591]
تخریج الحدیث: «المجد البار فى المسندة (2829) آخر جما حد فى المسند (141)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں