مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
388. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَرَبِ عُمَانَ .
عرب عمان کے بارے میں جو منقول ہے
حدیث نمبر: 16598
عَنْ أَبِي لَبِيدٍ قَالَ: خَرَجَ رَجُلٌ مِنَّا مِنْ طَاحِيَةٍ مُهَاجِرًا يُقَالُ لَهُ: بَيْرَحُ بْنُ أَسَدٍ، فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِأَيَّامٍ، فَرَآهُ عُمَرُ فَعَلِمَ أَنَّهُ غَرِيبٌ، فَقَالَ: مِمَّنْ أَنْتَ؟ فَقَالَ: مِنْ أَهْلِ عُمَانَ، فَقَالَ: مِنْ أَهْلِ عُمَانَ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَأَخَذَ بِيَدِهِ فَأَدْخَلَهُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ: هَذَا مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ الَّتِي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:" إِنِّي لَأَعْلَمُ أَرْضًا يُقَالُ لَهَا: عُمَانُ، يَنْضَحُ بِنَاحِيَتِهَا الْبَحْرُ، بِهَا حَيٌّ مِنَ الْعَرَبِ، لَوْ أَتَاهُمْ رَسُولِي مَا رَمَوْهُ بِسَهْمٍ وَلَا حَجَرٍ". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ لِمَازَةَ بْنِ زَبَّارٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ. وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى كَذَلِكَ.
ابولبید بیان کرتے ہیں: ہم میں سے ایک شخص ”طاحیہ“ سے ہجرت کر کے نکلا، اس کا نام بیرح بن اسد تھا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے کچھ دن بعد مدینہ منورہ پہنچا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھا، تو انہیں اندازہ ہو گیا کہ یہ اجنبی شخص ہے، انہوں نے دریافت کیا: تمہارا تعلق کہاں سے ہے؟ اس نے بتایا: اہل عمان سے ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: کیا اہل عمان سے ہے؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں! تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے ساتھ لے کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور یہ بات بیان کی: کہ یہ شخص اس سرزمین سے تعلق رکھتا ہے، جس کے بارے میں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میں ایک ایسی سرزمین کے بارے میں جانتا ہوں، جس کا نام عمان ہے، اور اس کے کنارے پر سمندر موجود ہے، وہاں عربوں کا ایک قبیلہ ہے، اگر ان لوگوں کے پاس میرا قاصد پہنچ جائے تو وہ لوگ اسے تیر یا پتھر نہیں ماریں گے۔“
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں، صرف لمازہ بن زبار کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے امام ابویعلیٰ نے بھی
یہ روایت اس طرح نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 16598]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں، صرف لمازہ بن زبار کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے امام ابویعلیٰ نے بھی
یہ روایت اس طرح نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 16598]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابو يعلى فى المسند (106) اخرجه احمد فى المسند (308)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح