مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
400. بَابُ مَا جَاءَ فِي نَاسٍ مِنْ أَبْنَاءِ فَارِسَ .
فارس کے رہنے والے کچھ افراد کے بارے میں، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 16686
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" لَوْ كَانَ الْعِلْمُ بِالثُّرَيَّا لَتَنَاوَلَهُ نَاسٌ مِنْ أَبْنَاءِ فَارِسَ". قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ قَوْلِهِ:" الْعِلْمُ". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ شَهْرٌ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ خِلَافٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر علم ثریا (نامی ستارے) پر ہو، تو فارس کے رہنے والوں میں سے کچھ افراد اسے حاصل کر لیں گے۔“
(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں:
یہ روایت صحیح میں مذکور ہے تاہم اس میں لفظ ”علم“ نہیں ہے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی شہر ہے جسے امام أحمد نے ثقہ قرار دیا ہے اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 16686]
(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں:
یہ روایت صحیح میں مذکور ہے تاہم اس میں لفظ ”علم“ نہیں ہے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی شہر ہے جسے امام أحمد نے ثقہ قرار دیا ہے اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 16686]
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 16687
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" لَوْ كَانَ الْإِيمَانُ مُعَلَّقًا بِالثُّرَيَّا لَنَالَهُ رِجَالٌ مِنْ أَبْنَاءِ فَارِسَ". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا قیس بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر ایمان ثریا (نامی ستارے) کے ساتھ لڑکا ہوا ہو، تو فارس کے فرزندوں میں سے کچھ لوگ اُس تک پہنچ جائیں گے۔“
یہ روایت امام ابویعلیٰ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے، اور ان کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 16687]
یہ روایت امام ابویعلیٰ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے، اور ان کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 16687]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (2835) اخرجه أبو يعلى فى المسند (1433) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (353/18)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 16688
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" لَوْ كَانَ الدِّينُ مُعَلَّقًا بِالثُّرَيَّا لَتَنَاوَلَهُ رِجَالٌ مِنْ أَبْنَاءِ فَارِسَ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَجَّاجِ اللَّخْمِيُّ، وَهُوَ كَذَّابٌ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر دین ثریا ستارے پر لٹکا ہوا ہو تو فارس کے فرزندوں میں سے کچھ لوگ اسے حاصل کر لیں گے۔“
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حجاج لخمی ہیں اور وہ کذاب ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 16688]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حجاج لخمی ہیں اور وہ کذاب ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 16688]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10470)»
الحكم على الحديث: إسنادہ موضوع