مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
405. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْجِبَالِ وَالْأَنْهَارِ .
پہاڑوں اور نہروں کی فضیلت کے بارے میں، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 16731
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" أَرْبَعَةُ أَجْبَالٍ مِنْ أَجْبَالِ الْجَنَّةِ، وَأَرْبَعَةُ أَنْهَارٍ مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ. فَأَمَّا الْأَجْبَالُ: فَالطُّورُ، وَلُبْنَانُ، وَطُورُ سِينَا، وَطُورُ زَيْتَا. وَالْأَنْهَارُ مِنَ الْجَنَّةِ: النِّيلُ، وَالْفُرَاتُ، وَسَيْحَانُ، وَجَيْحَانُ".
قُلْتُ: حَدِيثُهُ فِي الْأَنْهَارِ فِي الصَّحِيحِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.
قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي فَضْلِ الْجِبَالِ وَالْأَنْهَارِ فِي فَضْلِ الْمَدِينَةِ.
قُلْتُ: حَدِيثُهُ فِي الْأَنْهَارِ فِي الصَّحِيحِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.
قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي فَضْلِ الْجِبَالِ وَالْأَنْهَارِ فِي فَضْلِ الْمَدِينَةِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:
”چار پہاڑ جنت کے پہاڑوں میں سے ہیں اور چار نہریں جنت کی نہروں میں سے ہیں، جہاں تک پہاڑوں کا تعلق ہے تو وہ طور، لبنان، طور سینا اور طور زیتا ہیں، جہاں تک جنت کی نہروں کا تعلق ہے تو وہ نیل، فرات، سیحان اور جیحان ہیں۔“
(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: نہروں کے بارے میں حدیث صحیح میں مذکور ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایسے راوی ہیں، جن سے میں واقف نہیں ہوں۔
(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: اس سے پہلے مدینہ منورہ کی فضیلت سے متعلق باب میں، پہاڑوں اور نہروں کی فضیلت کے بارے میں احادیث گزر چکی ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 16731]
”چار پہاڑ جنت کے پہاڑوں میں سے ہیں اور چار نہریں جنت کی نہروں میں سے ہیں، جہاں تک پہاڑوں کا تعلق ہے تو وہ طور، لبنان، طور سینا اور طور زیتا ہیں، جہاں تک جنت کی نہروں کا تعلق ہے تو وہ نیل، فرات، سیحان اور جیحان ہیں۔“
(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: نہروں کے بارے میں حدیث صحیح میں مذکور ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایسے راوی ہیں، جن سے میں واقف نہیں ہوں۔
(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: اس سے پہلے مدینہ منورہ کی فضیلت سے متعلق باب میں، پہاڑوں اور نہروں کی فضیلت کے بارے میں احادیث گزر چکی ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 16731]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (7535)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح