صحيح الجامع الصغير وزيادته سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1352. أما أهل النار الذين هم أهلها فإنهم لا يموتون فيها ....
جہنم کے وہ مستقل باشندے جو اسی کے لائق ہیں، ....
حدیث نمبر: 1350
«أما أهل النار الذين هم أهلها فإنهم لا يموتون فيها ولا يحيون ولكن ناس أصابتهم النار بذنوبهم فأماتتهم إماتة حتى إذا كانوا فحما أذن بالشفاعة فجيء بهم ضبائر ضبائر فبثوا على أنهار الجنة ثم قيل: يا أهل الجنة أفيضوا عليهم فينبتون نبات الحبة تكون في حميل السيل»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”جہنم کے وہ مستقل باشندے جو اسی کے لائق ہیں، وہ اس میں نہ مریں گے اور نہ جئیں گے (بلکہ مسلسل عذاب میں رہیں گے)، البتہ کچھ ایسے لوگ ہوں گے جنہیں ان کے گناہوں کی وجہ سے آگ چھوئے گی اور انہیں جلا کر مار دے گی، یہاں تک کہ جب وہ کوئلہ بن جائیں گے تو شفاعت کی اجازت دی جائے گی۔ پھر انہیں گروہ در گروہ لایا جائے گا اور جنت کی نہروں پر پھیلا دیا جائے گا، پھر کہا جائے گا: اے جنتیو! ان پر پانی بہاؤ۔ تو وہ اس طرح اگ آئیں گے جیسے سیلاب کے کوڑے کرکٹ میں کوئی دانہ اگ آتا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حَرْفُ الْأَلِفِ] -- أَلْ م/حدیث: 1350]
”جہنم کے وہ مستقل باشندے جو اسی کے لائق ہیں، وہ اس میں نہ مریں گے اور نہ جئیں گے (بلکہ مسلسل عذاب میں رہیں گے)، البتہ کچھ ایسے لوگ ہوں گے جنہیں ان کے گناہوں کی وجہ سے آگ چھوئے گی اور انہیں جلا کر مار دے گی، یہاں تک کہ جب وہ کوئلہ بن جائیں گے تو شفاعت کی اجازت دی جائے گی۔ پھر انہیں گروہ در گروہ لایا جائے گا اور جنت کی نہروں پر پھیلا دیا جائے گا، پھر کہا جائے گا: اے جنتیو! ان پر پانی بہاؤ۔ تو وہ اس طرح اگ آئیں گے جیسے سیلاب کے کوڑے کرکٹ میں کوئی دانہ اگ آتا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حَرْفُ الْأَلِفِ] -- أَلْ م/حدیث: 1350]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم م هـ] عن أبي سعيد. الصحيحة 1551: أبوعوانة، الدارمي، عبد ابن حميد، الطبري.»
قال الشيخ الألباني: صحيح