صحيح الجامع الصغير وزيادته سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2088. إن روح القدس نفث في روعي أن نفسا لن تموت ....
بے شک رُوحُ القُدُس (یعنی حضرت جبریل علیہ السلام) نے ....
حدیث نمبر: 2085
"إن روح القدس نفث في روعي أن نفسا لن تموت حتى تستكمل أجلها وتستوعب رزقها فاتقوا الله وأجملوا في الطلب ولا يحملن أحدكم استبطاء الرزق أن يطلبه بمعصية الله فإن الله
تعالى لا ينال ما عنده إلا بطاعته"
تعالى لا ينال ما عنده إلا بطاعته"
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بے شک «رُوحُ القُدُس» (یعنی حضرت جبریل علیہ السلام) نے میرے دل میں یہ بات ڈالی ہے کہ کوئی جان اس وقت تک نہیں مرے گی جب تک وہ اپنی مدتِ حیات پوری نہ کر لے اور اپنا رزق مکمل طور پر حاصل نہ کر لے، لہٰذا اللہ سے ڈرو اور رزق طلب کرنے میں میانہ روی اختیار کرو۔ اور رزق ملنے میں تاخیر تم میں سے کسی کو اس بات پر ہرگز نہ اکسائے کہ وہ اسے اللہ کی نافرمانی کے ذریعے طلب کرنے لگے، کیونکہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اسے صرف اس کی اطاعت کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حَرْفُ الْأَلِفِ] -- إِنْ ب/حدیث: 2085]
”بے شک «رُوحُ القُدُس» (یعنی حضرت جبریل علیہ السلام) نے میرے دل میں یہ بات ڈالی ہے کہ کوئی جان اس وقت تک نہیں مرے گی جب تک وہ اپنی مدتِ حیات پوری نہ کر لے اور اپنا رزق مکمل طور پر حاصل نہ کر لے، لہٰذا اللہ سے ڈرو اور رزق طلب کرنے میں میانہ روی اختیار کرو۔ اور رزق ملنے میں تاخیر تم میں سے کسی کو اس بات پر ہرگز نہ اکسائے کہ وہ اسے اللہ کی نافرمانی کے ذریعے طلب کرنے لگے، کیونکہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اسے صرف اس کی اطاعت کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حَرْفُ الْأَلِفِ] -- إِنْ ب/حدیث: 2085]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حل] عن أبي أمامة. المشكاة 5300، فقه السيرة 96.»
قال الشيخ الألباني: صحيح