🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

21. باب: ومن غرائب مسند أبي ذر رحمه الله
ابوذر رضی اللہ عنہ کی مسند کی نادر روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1619
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: «يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ، - أَحْسِبُهُ قَالَ - وَالْمَرْأَةُ الْحَائِضُ» ، قَالَ: فَقُلْتُ لِأَبِي ذَرٍّ: مَا بَالُ الْكَلْبِ الْأَسْوَدِ؟، قَالَ: أَمَا إِنِّي قَدْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: «إِنَّهُ شَيْطَانٌ»
عبداللہ بن صامت بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”نماز کو کالا کتا توڑ دیتا ہے - میرا خیال ہے انہوں نے کہا - اور حائضہ عورت بھی“، میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کالے کتے میں کیا خاص بات ہے؟ فرمایا: میں نے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شیطان ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1619]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 151، حدیث 1632»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1620
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ الصَّامِتِ، أَنَّ أَبَا ذَرًّ رَضِي اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا ذَرًّ إِنَّهَا سَتَكُونُ عَلَيْكُمْ أَئِمَّةٌ، يُمِيتُونَ الصَّلَاةَ، فَإِنْ أَدْرَكْتُمُوهُمْ، فَصَلُّوا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، وَاجْعَلُوا صَلَاتَكُمْ مَعَهُمْ نَافِلَةً»
عبداللہ بن صامت بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر، عنقریب تم پر ایسے حکمران (اماموں) کی حکومت ہوگی جو نماز کو (اس کے وقت سے مؤخر کرکے) مار ڈالیں گے، تو اگر تم انہیں پاؤ تو نماز اس کے وقت پر پڑھ لو، اور ان کے ساتھ (دوبارہ) پڑھی گئی نماز کو نفل بنا لو۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1620]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 151، حدیث 1633»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1621
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا قَتَادَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: إِنَّ خَلِيلِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيَّ أَنَّهُ: «أَيُّمَا ذَهَبٍ، أَوْ فِضَّةٍ أُوكِيَ عَلَيْهِ، فَهُوَ جَمْرٌ عَلَى صَاحِبِهِ، حَتَّى يُنْفِقَهُ فِي سَبِيلِ اللهِ»
عبداللہ بن صامت بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ نصیحت فرمائی تھی: ”جو بھی سونا یا چاندی سمیٹ کر رکھی جائے وہ اپنے مالک پر انگارہ بن جائے گی، یہاں تک کہ وہ اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر دے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1621]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 151، حدیث 1634»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1622
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ الْعَيْشِيُّ، ثنا سُوَيْدٌ أَبُو حَاتِمٍ، ثنا قَتَادَةُ، وَمَطَرٌ الْوَرَّاقُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِي اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ، وَالْمَرْأَةُ» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا بَالُ الْأَسْوَدِ، مِنَ الْأَبْيَضِ، مِنَ الْأَحْمَرِ؟ قَالَ: «إِنَّ الْأَسْوَدَ شَيْطَانٌ»
عبداللہ بن صامت بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کو کالا کتا اور عورت توڑ دیتے ہیں“، میں نے کہا: یا رسول اللہ، کالے کتے میں کیا خاص بات ہے سفید اور سرخ کے مقابلے میں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کالا کتا شیطان ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1622]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 151، حدیث 1635»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1623
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَبُو الْجُمَاهِرِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، رَضِي اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1623]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 151، حدیث 1636»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1624
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ السَّدُوسِيُّ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، قَالَ: كَانَ يَبْلُغُنِي، عَنْ أَبِي ذَرٍّ حَدِيثٌ فَكُنْتُ أَشْتَهِي لِقَاءَهُ، فَلَقِيتُهُ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا ذَرًّ كَانَ يَبْلُغُنِي عَنْكَ حَدِيثٌ، فَكُنْتُ أَشْتَهِي لِقَاءَكَ، فَقَالَ: لِلَّهِ أَبُوكَ فَقَدْ لَقِيتَنِي فهاتِ، قَالَ: قُلْتُ: حَدِيثًا بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَكَ قَالَ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ ثَلَاثَةً، وَيُبْغِضُ ثَلَاثَةً» ، قَالَ: فَلَا أَخَالُنِي أَكْذَبُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةُ الَّذِينَ يُحِبُّهُمُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ؟، قَالَ: «رَجُلٌ غَزَا فِي سَبِيلِ اللهِ صَابِرًا، مُحْتَسِبًا، فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ، وَأَنْتُمْ تَجِدُونَهُ عِنْدَكُمْ فِي كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ» ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: {إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا، كَأَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَرْصُوصٌ} [الصف: ٤] ، قُلْتُ: وَمَنْ؟ قَالَ: «رَجُلٌ كَانَ لَهُ جَارُ سُوءٍ، يُؤْذِيهِ، فَصَبَرَ عَلَى أَذَاهُ، حَتَّى يَكْفِيَهُ اللهُ إِيَّاهُ بِحَيَاةٍ، أَوْ مَوْتٍ» ، قُلْتُ: وَمَنْ؟، قَالَ: «رَجُلٌ سَافَرَ مَعَ قَوْمٍ، فَارْتَحَلُوا، حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ وَقَعَ عَلَيْهِمُ الْكَرَى، أَوِ النُّعَاسُ، فَنَزَلُوا، فَضَرَبُوا بِرُءُوسِهمْ، ثُمَّ قَامَ، فَتَطَهَّرَ، وَصَلَّى رَغْبَةً لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَرَغْبَةً فِيمَا عِنْدَهُ» ، قُلْتُ: وَمَا الثَّلَاثَةُ الَّذِينَ يُبْغِضُهُمُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ؟ قَالَ:" الْبَخِيلُ الْفَخُورُ، وَهُوَ فِي كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ} [لقمان: ١٨] "، قُلْتُ: وَمَا الْمُخْتَالُ الْفَخُورُ؟ قَالَ: «أَنْتُمْ تَجِدُونَهُ فِي كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، الْبَخِيلَ الْمُخْتَالَ» قُلْتُ: وَمَنْ؟ قَالَ:" التَّاجِرُ الْحَلَّافُ أَوِ الْبَائِعُ الْحَلَّافُ، قَالَ: لَا أَدْرِي أَيَّهُمَا، قَالَ أَبُو ذَرٍّ"، قُلْتُ: يَا أَبَا ذَرًّ مَا الْمَالُ؟، قَالَ: فَرَقٌ لَنَا وَذَوْدٌ، قُلْتُ: يَا أَبَا ذَرًّ، لَيْسَ عَنْ هَذَا أَسْأَلُكَ، إِنَّمَا أَسْأَلُكَ عَنْ صَامِتِ الْمَالِ، قَالَ: مَا أَصْبَحَ لَا أَمْسَى، وَمَا أَمْسَى لَا أَصْبَحَ، قُلْتُ: مَا لَكَ ولِأَخْوَانِكَ مِنْ قُرَيْشٍ؟، قَالَ: وَاللهِ لَا أَسْتَفْتِيهِمْ عَنْ دِينٍ، وَلَا أَسْأَلُهُمْ دُنْيَا حَتَّى أَلْقَى اللهَ وَرَسُولَهُ، قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ
مطرف رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے ابوذر رضی اللہ عنہ کے بارے میں ایک حدیث پہنچتی رہتی تھی، تو میں ان سے ملاقات کا آرزومند تھا۔ چنانچہ میں ان سے ملا اور کہا: اے ابوذر! مجھے آپ کے بارے میں ایک حدیث پہنچتی تھی، اس لیے میں آپ سے ملاقات کا آرزومند تھا۔ فرمایا: تمہارے باپ پر اللہ کی رحمت ہو، تم مجھ سے مل ہی لیے تو اب پوچھو۔ میں نے کہا: مجھے ایک حدیث پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو بیان فرمائی تھی کہ ”اللہ عزوجل تین (قسم کے لوگوں) سے محبت کرتا ہے اور تین سے نفرت کرتا ہے۔“ فرمایا: میں اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنے والا نہیں سمجھتا۔ میں نے کہا: وہ تین کون ہیں جن سے اللہ عزوجل محبت کرتا ہے؟ فرمایا: ”ایک وہ آدمی جو اللہ کی راہ میں صبر اور ثواب کی نیت سے جہاد کرے اور لڑتے لڑتے شہید ہوجائے، اور تم اسے اللہ کی کتاب میں پاتے ہو“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ”بے شک اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں صف باندھ کر اس طرح لڑتے ہیں جیسے وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہوں“ [سورۃ الصف: 4] ۔ میں نے کہا: اور کون؟ فرمایا: ”ایک وہ آدمی جس کا برا پڑوسی ہو جو اسے تکلیف دیتا ہو، تو وہ اس کی تکلیف پر صبر کرے یہاں تک کہ اللہ اسے اس سے زندگی میں یا موت کے ذریعے کفایت کر دے۔“ میں نے کہا: اور کون؟ فرمایا: ”ایک وہ آدمی جو کچھ لوگوں کے ساتھ سفر کرے، وہ لوگ چل پڑیں یہاں تک کہ رات کے آخری حصے میں انہیں نیند یا اونگھ آجائے تو وہ اتر کر اپنے سر رکھ دیں، پھر وہ اٹھے، وضو کرے اور اللہ عزوجل کی رغبت میں اور اس کے پاس جو کچھ ہے اس کی طلب میں نماز پڑھے۔“ میں نے کہا: اور وہ تین کون ہیں جن سے اللہ عزوجل نفرت کرتا ہے؟ فرمایا: ”بخیل، فخر کرنے والا، اور یہ اللہ کی کتاب میں ہے: بے شک اللہ کسی تکبر کرنے والے، فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا“ [سورۃ لقمان: 18] ۔ میں نے کہا: مختال فخور کیا ہے؟ فرمایا: ”تم اسے اللہ کی کتاب میں پاتے ہو، بخیل متکبر۔“ میں نے کہا: اور کون؟ فرمایا: ”بہت قسمیں کھانے والا تاجر یا بہت قسمیں کھانے والا بیچنے والا“، راوی کہتے ہیں: مجھے معلوم نہیں ابوذر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں میں سے کون سا لفظ کہا۔ میں نے کہا: اے ابوذر، مال کیا ہے؟ فرمایا: ہمارے لیے بکریوں کا ریوڑ اور اونٹوں کا جھنڈ۔ میں نے کہا: اے ابوذر، میں آپ سے یہ نہیں پوچھ رہا، میں تو آپ سے سونے چاندی (نقد مال) کے بارے میں پوچھ رہا ہوں۔ فرمایا: جو صبح ہو تو شام تک نہ رہے، اور جو شام ہو تو صبح تک نہ رہے۔ میں نے کہا: آپ کا اور آپ کے قریشی بھائیوں کا کیا معاملہ ہے؟ فرمایا: اللہ کی قسم، نہ میں ان سے دین کا کوئی مسئلہ پوچھتا ہوں اور نہ دنیا کا کچھ مانگتا ہوں یہاں تک کہ اللہ اور اس کے رسول سے جا ملوں، یہ بات انہوں نے تین بار کہی۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1624]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 152، حدیث 1637»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1625
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَحْسَنَ مَا غَيَّرَ هَذَا الشَّعْرَ الْحِنَّاءُ، وَالْكُتَمُ»
ابوالاسود بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس (سفید) بال کو بدلنے کے لیے سب سے بہتر چیز مہندی اور وسمہ ہیں۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1625]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 153، حدیث 1638»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1626
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، قَالَ: ذَكَرَ عَلِيُّ بْنُ عَثَّامِ بْنِ عَلِيٍّ، - قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ وَقَدْ رَأَيْتُ عَلِيَّ بْنَ عَثَّامٍ - أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي نَصْرٍ وَهُوَ حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي إِسْلَامِ أَبِي ذَرٍّ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
عبداللہ بن احمد بن حنبل کہتے ہیں: علی بن عثام بن علی نے ذکر کیا - عبداللہ بن احمد کہتے ہیں کہ میں نے علی بن عثام کو دیکھا ہے - کہ ان کے والد نے انہیں اعمش سے، انہوں نے عمرو بن مرہ سے، انہوں نے ابونصر یعنی حمید بن ہلال سے، انہوں نے عبداللہ بن صامت سے، انہوں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ابوذر رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کے بارے میں حدیث بیان کی، پھر راوی نے وہ حدیث ذکر کی۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1626]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 153، حدیث 1639»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1627
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، قَالَ: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، ثنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِي اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَذَكَرَ زَمْزَمَ، فَقَالَ: «إِنَّهَا مُبَارَكَةٌ إِنَّهَا طَعَامُ طُعْمٍ»
عبداللہ بن صامت بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمزم کا ذکر کیا اور فرمایا: ”یہ بابرکت ہے، یہ سیر کرنے والا کھانا ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1627]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 153، حدیث 1640»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1628
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّهِ، ثنا مُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّ أَبَا ذَرًّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ أُوكِيَ عَلَى ذَهَبٍ، أَوْ فِضَّةٍ، وَلَمْ يُنْفِقْهُ فِي سَبِيلِ اللهِ، كَانَ جَمْرًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يُكْوَى بِهِ»
عبداللہ بن صامت بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو شخص سونا یا چاندی جمع کرکے رکھے اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرے تو وہ قیامت کے دن انگارہ بن جائے گا جس سے اسے داغا جائے گا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1628]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 153، حدیث 1641»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں