🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

30. صفوان بن محرز المازني، عن جندب
صفوان بن محرز مازنی کی سیدنا جندب رضی اللہ عنہ سے روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1672
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُعَافَى بْنِ سُلَيْمَانَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ، قَالَا: ثنا الْمُعَافَى بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ مَرَّ بِقَوْمٍ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، فَقَالَ: لَا يَغُرَّنَّكَ هَؤُلَاءِ إِنَّهُمْ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ الْيَوْمَ ويَتَجَالَدُونَ بِالسُّيُوفِ غَدًا، ثُمَّ قَالَ: ائْتِنِي بِنَفَرٍ مِنْ قُرَّاءِ الْقُرْآنِ ولْيَكُونوا شُيُوخًا فَأَتَيْتُهُ بِنَافِعِ بْنِ الْأَزْرَقِ وأَتَيْتُهُ بِمِرْدَاسٍ أَبِي بِلَالٍ، وَبِنَفَرٍ مَعَهُمَا سِتَّةٍ أَوْ ثَمَانِيَةٍ، فَلَمَّا أَنْ دَخَلْنَا عَلَى جُنْدُبٍ، قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَثَلُ مَنْ يُعَلِّمُ النَّاسَ الْخَيْرَ ويَنْسَى نَفْسَهُ كَمَثَلِ الْمِصْبَاحِ الَّذِي يُضِيءُ لِلنَّاسِ وَيَحْرِقُ نَفْسَهُ، وَمَنْ رَاءَى النَّاسَ بِعِلْمِهِ رَاءَى اللهُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ سَمَّعَ النَّاسَ بِعَمَلِهِ سَمَّعَ اللهُ بِهِ»
«فَاعْلَمُوا أَنَّهُ أَوَّلُ مَا يُنْتِنُ مِنْ أَحَدِكُمْ إِذَا مَاتَ بَطْنُهُ، فَلَا يُدْخِلْ بَطْنَهُ إِلَّا طَيِّبًا، وَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ لَا يَحُولَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجَنَّةِ مِلْءُ كَفٍّ مِنْ دَمٍ فَلْيَفْعَلْ»
صفوان بن محرز مازنی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا جندب رضی اللہ عنہ کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جو قرآن پڑھ رہے تھے، تو انہوں نے فرمایا: یہ لوگ تمہیں دھوکہ نہ دیں، یہ آج قرآن پڑھ رہے ہیں اور کل تلواروں سے ایک دوسرے سے لڑیں گے۔ پھر فرمایا: میرے پاس قرآن پڑھنے والوں میں سے کچھ لوگ لے آؤ اور وہ بزرگ ہوں۔ چنانچہ میں نافع بن ازرق کو لے آیا اور مرداس ابوبلال کو بھی لے آیا، اور ان کے ساتھ چھ یا آٹھ افراد کو بھی، تو جب ہم جندب رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، تو انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو لوگوں کو بھلائی سکھاتا ہے اور خود کو بھول جاتا ہے، اس کی مثال اس چراغ کی طرح ہے جو لوگوں کو روشنی دیتا ہے اور خود کو جلاتا ہے، اور جو اپنے علم سے لوگوں کو دکھاوا کرے، اللہ قیامت کے دن اس کا دکھاوا ظاہر کرے گا، اور جو اپنے عمل کا لوگوں میں شہرہ کرے، اللہ اس کی رسوائی کا شہرہ کرے گا۔“ ”اور جان لو کہ جب تم میں سے کوئی مرتا ہے تو سب سے پہلے اس کا پیٹ ہی بدبودار ہوتا ہے، لہٰذا اپنے پیٹ میں پاکیزہ چیز کے سوا کچھ داخل نہ کرو، اور تم میں سے جو یہ استطاعت رکھتا ہو کہ ایک چلو خون بھی اس کے اور جنت کے درمیان حائل نہ ہو تو ایسا کرے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1672]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 167، حدیث 1685»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں