المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
67. إسرائيل بن يونس، عن سماك
اسرائیل بن یونس کی سماک سے روایات
حدیث نمبر: 1898
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، يَقُولُ: «رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَائِمًا، ثُمَّ يَقْعُدُ فَلَا يَتَكَلَّمُ ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ خِطْبَةً أُخْرَى، فَمَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ قَاعِدًا فَقَدْ كَذَبَ»
سماک بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جمعہ کے دن کھڑے ہوکر خطبہ دیتے دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ جاتے اور کوئی بات نہ کرتے، پھر کھڑے ہوکر دوسرا خطبہ دیتے، تو جو تمہیں یہ بتائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر خطبہ دیا تھا تو اس نے جھوٹ کہا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1898]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 221، حدیث 1911»
حدیث نمبر: 1899
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: «كَانَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤَذِّنُ، ثُمَّ يُمْهِلُ فَلَا يُقِيمُ حَتَّى إِذَا رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَرَجَ أَقَامَ الصَّلَاةَ حِينَ يَرَاهُ»
سماک، سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مؤذن اذان دیتا، پھر مہلت دیتا اور اقامت نہ کہتا یہاں تک کہ جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نکلتے دیکھتا تو انہیں دیکھتے ہی اقامت کہہ دیتا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1899]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 221، حدیث 1912»
حدیث نمبر: 1900
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى لِغَدَاةٍ قَعَدَ فِي مَجْلِسِهِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ»
سماک بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب فجر کی نماز پڑھ لیتے تو اپنی جگہ بیٹھے رہتے یہاں تک کہ سورج طلوع ہوجاتا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1900]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 221، حدیث 1913»
حدیث نمبر: 1901
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، يَقُولُ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الصَّلَوَاتِ كَنَحْوٍ مِنْ صَلَاتِكُمُ الَّتِي تُصَلُّونَ الْيَوْمَ، وَلَكِنَّهُ كَانَ يُخَفِّفُ كَانَتْ صَلَاتُهُ أَخَفَّ مِنْ صَلَاتِكُمْ كَانَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ الْوَاقِعَةَ وَنَحْوَهَا مِنَ السُّوَرِ»
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازیں تقریباً اسی طرح پڑھتے تھے جیسے تم آج پڑھتے ہو، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم تخفیف کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تمہاری نماز سے ہلکی ہوتی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر میں سورۃ الواقعہ اور اس جیسی سورتیں پڑھتے تھے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1901]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 222، حدیث 1914»
حدیث نمبر: 1902
حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَلْطِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيَفْتَحَنَّ رَهْطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ كُنُوزَ كِسْرَى»
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمانوں کی ایک جماعت ضرور کسریٰ کے خزانے فتح کرے گی۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1902]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 222، حدیث 1915»
حدیث نمبر: 1903
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «كَثَّ الشَّعْرِ وَاللِّحْيَةِ»
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھنے بالوں اور گھنی داڑھی والے تھے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1903]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 222، حدیث 1916»
حدیث نمبر: 1904
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، يَقُولُ: أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ رَجُلٍ قَصِيرٍ فِي إِزَارٍ مَا عَلَيْهِ رِدَاءٌ، فَكَلَّمَهُ، وَمَا أَدْرِي مَا يُكَلِّمُهُ وَأَنَا بَعِيدٌ مِنْهُ، وَبَيْنِي وَبَيْنَهُ الْقَوْمُ، فَقَالَ: «اذْهَبُوا بِهِ» ، ثُمَّ قَالَ: «رُدُّوهُ» فَكَلَّمَهُ وَأَنَا أَسْمَعُ غَيْرَ أَنَّ بَيْنِي وَبَيْنَهُ الْقَوْمَ، ثُمَّ قَالَ: «اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ» ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ وَأَنَا أَسْمَعُهُ، فَقَالَ: «كُلَّمَا نَفَرْنَا فِي سَبِيلِ اللهِ خَلَّفَ أَحَدُهُمْ لَهُ نَبِيبٌ كَنَبِيبِ التَّيْسِ يَمْنَحُ إِحْدَاهُنَّ الْكُثْبَةَ مِنَ اللَّبَنِ، وَاللهِ لَا أَقْدَمُ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ إِلَّا نَكَّلْتُ بِهِ»
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ماعز بن مالک کو لایا گیا، وہ ایک پستہ قد آدمی تھا، تہبند باندھے ہوئے تھا، اوپر چادر نہیں تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بات کی، مجھے نہیں معلوم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کیا کہا کیونکہ میں دور تھا اور میرے اور اس کے درمیان لوگ حائل تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے لے جاؤ“، پھر فرمایا: ”اسے واپس لاؤ“، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے (دوبارہ) بات کی اور میں سن رہا تھا، البتہ میرے اور اس کے درمیان لوگ حائل تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے لے جاؤ اور رجم کر دو۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا، اور میں سن رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بھی ہم اللہ کے راستے میں (جہاد کے لیے) نکلتے ہیں تو ان میں سے کوئی پیچھے رہ جاتا ہے اور بکرے کی سی آواز نکالتا ہے (یعنی فحش کاموں کی طرف مائل ہوتا ہے)، وہ کسی عورت کو تھوڑا سا دودھ دے دیتا ہے (اسے پھسلانے کے لیے)، اللہ کی قسم! میں جس پر بھی ایسا ثابت کروں گا اسے عبرت ناک سزا دوں گا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1904]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 222، حدیث 1917»
حدیث نمبر: 1905
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «رَأَيْتُ الْخَاتَمَ عِنْدَ كَتِفِهِ مِثْلَ بَيْضَةِ الْحَمَامَةِ يُشْبِهُ جِلْدَهُ»
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے (نبوت کی) مہر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے کے پاس دیکھی، وہ کبوتر کے انڈے کے برابر تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جلد ہی جیسی تھی۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1905]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 222، حدیث 1918»
حدیث نمبر: 1906
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرٍ: «أَنَّهُمْ دَخَلُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى وِسَادَةٍ عَنْ يَسَارِهِ»
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بائیں جانب ایک تکیے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1906]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 223، حدیث 1919»
حدیث نمبر: 1907
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، ح وَثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، يَقُولُ: مَاتَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ قَدْ مَاتَ فُلَانٌ قَالَ: «لَمْ يَمُتْ» ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ ثُمَّ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيْفَ مَاتَ؟» قَالَ: نَحَرَ نَفْسَهُ بِمِشْقَصٍ كَانَ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک آدمی فوت ہو گیا، تو ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! فلاں شخص فوت ہو گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ نہیں مرا۔“ پھر وہ دوسری بار آیا، پھر تیسری بار آیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کیسے مرا؟“ اس نے کہا: اس نے اپنے پاس موجود تیر کے پھل سے خود کو ذبح کر لیا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1907]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 223، حدیث 1920»