🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

69. زهير بن معاوية، عن سماك
زہیر بن معاویہ کی سماک سے روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1919
حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَلْطِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَا: ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثنا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ، قَالَ: مَرِضَ رَجُلٌ فَصِيحَ عَلَيْهِ، فَجَاءَ جَارُهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ مَاتَ، فَقَالَ: «مَا يُدْرِيكَ؟» قَالَ: أَنَا رَأَيْتُهُ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهُ لَمْ يَمُتْ» فَرَجَعَ الرَّجُلُ فَصِيحَ عَلَيْهِ، فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ: انْطَلِقْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبِرْهُ، فَقَالَ الرَّجُلُ: اللهُمَّ الْعَنْهُ، قَالَ: ثُمَّ انْطَلَقَ الرَّجُلُ فَرَاهُ قَدْ نَحَرَ نَفْسَهُ بِمَشَاقِصٍ مَعَهُ، فَانْطَلَقَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَدْ مَاتَ، قَالَ: «مَا يُدْرِيكَ؟» قَالَ: رَأَيْتُهُ نَحَرَ نَفْسَهُ بِمَشَاقِصٍ مَعَهُ، قَالَ: «أَنْتَ رَأَيْتَهُ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «إِذًا لَا أُصَلِّي عَلَيْهِ»
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک آدمی بیمار ہو گیا تو اس پر رونا پیٹنا شروع ہو گیا (یعنی لوگوں نے اسے مردہ سمجھ کر نوحہ کرنا شروع کر دیا)۔ اس کا پڑوسی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: وہ فوت ہو گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کیسے معلوم؟“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے خود اسے دیکھا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ نہیں مرا۔“ وہ آدمی واپس گیا تو (دوبارہ) اس پر رونا پیٹنا ہونے لگا، اس کی بیوی نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور انہیں بتاؤ۔ اس آدمی نے کہا: اے اللہ! اس پر لعنت کر۔ پھر وہ آدمی گیا تو دیکھا کہ اس نے اپنے پاس موجود تیروں کے پھلوں سے خود کو ذبح کر لیا ہے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور بتایا کہ وہ فوت ہو گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کیسے معلوم؟“ اس نے کہا: میں نے دیکھا کہ اس نے اپنے پاس موجود تیروں کے پھلوں سے خود کو ذبح کر لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے خود دیکھا؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تب تو میں اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھوں گا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1919]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 225، حدیث 1932»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1920
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُونُسَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالُوا: ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثنا سِمَاكٌ، قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ: أَكُنْتَ تُجَالِسُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ كَثِيرًا، كَانَ «لَا يَقُومُ مِنْ مُصَلَّاهُ الَّذِي يُصَلِّي فِيهِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَإِذَا طَلَعَتْ قَامَ وَكَانَ يُطِيلُ الصَّمْتَ، وَكَانُوا يَتَحَدَّثُونَ فَيَأْخُذُونَ فِي أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ فَيَضْحَكُونَ ويَبْتَسِمُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
سماک بن حرب کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں، بکثرت۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس جگہ نماز پڑھتے وہاں سے اس وقت تک نہیں اٹھتے تھے جب تک سورج طلوع نہ ہو جاتا، جب سورج طلوع ہو جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ جاتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ خاموش رہتے تھے، اور صحابہ باتیں کیا کرتے، زمانہ جاہلیت کی باتیں چھیڑ دیتے اور ہنستے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیتے تھے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1920]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 226، حدیث 1933»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1921
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا سِمَاكٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْطُبُ قَائِمًا ثُمَّ يَجْلِسُ ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ قَائِمًا، فَمَنْ نَبَّأَكَ أَنَّهُ يَخْطُبُ جَالِسًا أَوْ قَاعِدًا فَقَدْ كَذَبَ، فَقَدْ وَاللهِ صَلَّيْتُ مَعَهُ أَكْثَرَ مِنْ أَلْفَيْ مَرَّةً»
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دیتے، پھر بیٹھ جاتے، پھر کھڑے ہو کر خطبہ دیتے۔ جو تمہیں بتائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر خطبہ دیتے تھے تو وہ جھوٹا ہے، اللہ کی قسم! میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو ہزار سے زیادہ بار نماز پڑھی ہے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1921]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 226، حدیث 1934»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1922
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا سِمَاكٌ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ كَذَّابِينَ» ، قُلْتُ لِجَابِرٍ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ؟ قَالَ: أَنَا سَمِعْتُهُ
سماک بن حرب کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”قیامت سے پہلے بہت سے جھوٹے (دجال) پیدا ہوں گے۔“ میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ نے خود یہ سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، میں نے خود سنا ہے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1922]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 226، حدیث 1935»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1923
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا سِمَاكٌ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يَكُونُ بَعْدِي اثْنَا عَشَرَ أَمِيرًا» ثُمَّ تَكَلَّمَ بِشَيْءٍ لَمْ أَفْهَمْهُ، فَسَأَلْتُ الْقَوْمَ كُلَّهُمْ، فَقَالُوا: قَالَ: «كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ»
سماک بن حرب کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”میرے بعد بارہ امیر ہوں گے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ ایسی بات فرمائی جو میں سمجھ نہ سکا، تو میں نے تمام لوگوں سے پوچھا، انہوں نے بتایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”وہ سب قریش میں سے ہوں گے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1923]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 226، حدیث 1936»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1924
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا سِمَاكٌ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «كَانَ يَخِفُّ بِهِمْ وَلَا يُصَلِّي صَلَاةَ هَؤُلَاءِ»
سماک بن حرب کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو ہلکی نماز پڑھاتے تھے اور ان لوگوں کی طرح (لمبی) نماز نہیں پڑھاتے تھے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1924]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 226، حدیث 1937»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1925
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا سِمَاكٌ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ بِ ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ وَنَحْوِهَا»
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز میں سورۃ ”ق، والقرآن المجید“ اور اس جیسی سورتیں پڑھتے تھے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1925]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 227، حدیث 1938»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1926
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، ثنا سِمَاكٌ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، يَقُولُ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ، فَجَعَلَ يَنْتَهِرُ شَيْئًا قُدَّامَهُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ سَأَلْنَاهُ، فَقَالَ: «ذَاكَ شَيْطَانٌ ألْقَى عَلَى قَدَمِي شَرَرًا مِنْ نَارٍ لِيَفْتِنَنِي عَنِ الصَّلَاةِ» قَالَ: «وَقَدِ انْتَهَرْتُهُ وَلَوْ أَخَذْتُهُ لَنِيطَ إِلَى سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتَّى يَطِيفَ بِهِ وِلْدَانُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ»
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی اور اپنے سامنے کسی چیز کو جھڑکنے لگے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایک شیطان تھا، اس نے میرے پاؤں پر آگ کا انگارہ پھینکا تھا تاکہ مجھے نماز سے ہٹا دے۔“ اور فرمایا: ”میں نے اسے جھڑک دیا، اگر میں اسے پکڑ لیتا تو مسجد کے ستونوں میں سے کسی ستون سے باندھ دیتا، یہاں تک کہ مدینے کے بچے اسے دیکھنے کے لیے اس کے گرد جمع ہو جاتے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1926]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 227، حدیث 1939»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1927
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا سِمَاكٌ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ، قَالَ: كَانَ يُهْدَى لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِصَاعُ وَهُوَ فِي دَارِ أَبِي أَيُّوبَ، فَكَانَ يَبْعَثُ إِلَيْهِ فَضْلَ مَا يَأْكُلُ، فَأَتَتْهُ قَصْعَةٌ فَأَرْسَلَ بِهَا كَمَا هِيَ لَمْ يَنْقُصْ مِنْهَا شَيْءٌ، فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ لِأَهْلِهِ: لَا تَأْكُلُوا حَتَّى أَعْلَمَ لِمَ تَرَكَهَا؟ قَالَ: فَاسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ فَدَخَلَ، فَقَالَ: لَمْ يَكُنْ يَأْتِينَا مِنْ عِنْدِكَ شَيْءٌ إِلَّا أَكَلْتَ مِنْهُ غَيْرَ هَذِهِ الْقَصْعَةِ لَا أَدْرِي مَا شَأْنُهَا؟ قَالَ: «كَانَ فِيهَا ثُومٌ فَكَرِهْتُ رِيحَهُ، أَمَا إِنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ إِلَّا أَنِّي كَرِهْتُ رِيحَهُ» قَالَ: فَإِنِّي أَكْرَهُ مَا تَكْرَهُ إِذًا، قَالَ: «فَأَنْتَ أَبْصَرُ»
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابو ایوب رضی اللہ عنہ کے گھر میں مقیم تھے، پیالے تحفے میں بھیجے جاتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کھانے کا بچا ہوا حصہ ان کی طرف بھیج دیتے تھے۔ ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک پیالہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ویسے ہی بھیج دیا، اس میں سے کچھ کم نہیں کیا۔ ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر والوں سے کہا: مت کھاؤ جب تک مجھے معلوم نہ ہو جائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کیوں چھوڑا۔ پھر انہوں نے اجازت لے کر حاضری دی اور عرض کیا: آپ کی طرف سے جو کچھ بھی ہمارے پاس آتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے تناول فرماتے ہیں سوائے اس پیالے کے، مجھے نہیں معلوم اس کا کیا معاملہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس میں لہسن تھا، مجھے اس کی بو ناپسند تھی، ورنہ اس میں کوئی حرج نہیں، بس مجھے اس کی بو ناپسند تھی۔“ انہوں نے کہا: تو پھر میں بھی وہی ناپسند کروں گا جو آپ ناپسند کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم خود بہتر جانتے ہو۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1927]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 227، حدیث 1940»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں