المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
69. زهير بن معاوية، عن سماك
زہیر بن معاویہ کی سماک سے روایات
حدیث نمبر: 1919
حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَلْطِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَا: ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثنا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ، قَالَ: مَرِضَ رَجُلٌ فَصِيحَ عَلَيْهِ، فَجَاءَ جَارُهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ مَاتَ، فَقَالَ: «مَا يُدْرِيكَ؟» قَالَ: أَنَا رَأَيْتُهُ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهُ لَمْ يَمُتْ» فَرَجَعَ الرَّجُلُ فَصِيحَ عَلَيْهِ، فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ: انْطَلِقْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبِرْهُ، فَقَالَ الرَّجُلُ: اللهُمَّ الْعَنْهُ، قَالَ: ثُمَّ انْطَلَقَ الرَّجُلُ فَرَاهُ قَدْ نَحَرَ نَفْسَهُ بِمَشَاقِصٍ مَعَهُ، فَانْطَلَقَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَدْ مَاتَ، قَالَ: «مَا يُدْرِيكَ؟» قَالَ: رَأَيْتُهُ نَحَرَ نَفْسَهُ بِمَشَاقِصٍ مَعَهُ، قَالَ: «أَنْتَ رَأَيْتَهُ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «إِذًا لَا أُصَلِّي عَلَيْهِ»
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک آدمی بیمار ہو گیا تو اس پر رونا پیٹنا شروع ہو گیا (یعنی لوگوں نے اسے مردہ سمجھ کر نوحہ کرنا شروع کر دیا)۔ اس کا پڑوسی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: وہ فوت ہو گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کیسے معلوم؟“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے خود اسے دیکھا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ نہیں مرا۔“ وہ آدمی واپس گیا تو (دوبارہ) اس پر رونا پیٹنا ہونے لگا، اس کی بیوی نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور انہیں بتاؤ۔ اس آدمی نے کہا: اے اللہ! اس پر لعنت کر۔ پھر وہ آدمی گیا تو دیکھا کہ اس نے اپنے پاس موجود تیروں کے پھلوں سے خود کو ذبح کر لیا ہے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور بتایا کہ وہ فوت ہو گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کیسے معلوم؟“ اس نے کہا: میں نے دیکھا کہ اس نے اپنے پاس موجود تیروں کے پھلوں سے خود کو ذبح کر لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے خود دیکھا؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تب تو میں اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھوں گا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1919]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 225، حدیث 1932»
Al-Mu'jam al-Kabir (Tabarani) Hadith 1919 in Urdu