المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
72. حماد بن سلمة، عن سماك
حماد بن سلمہ کی سماک سے روایات
حدیث نمبر: 1950
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: «مَا كَانَ فِي رَأْسِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي لِحْيَتِهِ مِنَ الشَّيْبِ إِلَّا شَعَرَاتٍ فِي مَفْرِقِ رَأْسِهِ إِذَا ادَّهَنَ وَارَاهُنَّ الدُّهْنُ»
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر اور داڑھی میں صرف چند بال سفید تھے، جو سر کے بیچ کی مانگ میں تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیل لگاتے تو وہ چھپ جاتے تھے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1950]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 232، حدیث 1963»
حدیث نمبر: 1951
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ح وَثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَمْرٍو الْوَكِيعِيُّ، قَالَ: ثنا عَلِيُّ بْنُ عُثْمَانَ اللَّاحِقِيُّ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ: «إِنَّ الْإِسْلَامَ لَا يَزَالُ عَزِيزًا إِلَى اثْنَيْ عَشَرَ خَلِيفَةً» ثُمَّ قَالَ كَلِمَةً لَمْ أَفْهَمْهَا، فَقُلْتُ: مَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: «كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ»
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”اسلام بارہ خلفاء تک عزت والا رہے گا“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسی بات فرمائی جو میں سمجھ نہ سکا، تو میں نے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟ تو انہوں نے بتایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سب قریش میں سے ہوں گے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1951]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 232، حدیث 1964»
حدیث نمبر: 1952
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ قَائِمًا»
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1952]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 232، حدیث 1965»
حدیث نمبر: 1953
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْبُرُوجِ، وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ وَنَحْوِهِمَا»
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی نمازوں میں سورۃ ”والسماء ذات البروج“ اور سورۃ ”والسماء والطارق“ اور ان جیسی سورتیں پڑھتے تھے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1953]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 232، حدیث 1966»
حدیث نمبر: 1954
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَمَ مَاعِزًا وَلَمْ يَذْكُرْ جَلْدًا»
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز کو رجم کیا، اور کوڑے مارنے کا ذکر نہیں کیا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1954]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 232، حدیث 1967»
حدیث نمبر: 1955
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ: «أَنَّ بِلَالًا كَانَ يُؤَذِّنُ الظُّهْرَ إِذَا دَحَضَتِ الشَّمْسُ»
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سورج ڈھلتے ہی ظہر کی اذان دے دیتے تھے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1955]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 232، حدیث 1968»
حدیث نمبر: 1956
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ كَذَّابِينَ»
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت سے پہلے بہت سے جھوٹے پیدا ہوں گے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1956]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 232، حدیث 1969»
حدیث نمبر: 1957
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسٍ الْمُؤَدِّبُ، ثنا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كَانُوا يَقُولُونَ: الْمَدِينَةُ ويَثْرِبُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ سَمَّاهَا طَابَةَ»
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: لوگ (مدینہ کو) ”مدینہ“ اور ”یثرب“ کہا کرتے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے اس کا نام طابہ رکھا ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1957]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 233، حدیث 1970»
حدیث نمبر: 1958
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ، ح وَحَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ بِالْحَرَّةِ وَمَعَهُ امْرَأَةٌ لَهُ، فَأَضَلَّ رَجُلٌ بَعِيرًا لَهُ فَوَجَدَهُ الرَّجُلُ الَّذِي بِالْحَرَّةِ، فَحَبَسَهُ عِنْدَهُ وَمَرِضَ الْبَعِيرُ، فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ: لَوْ ذَبَحْتَهُ وقَدَدْنَا لَحْمَهُ وشَحْمَهُ فأَكَلْنَاها، فَأَبَى عَلَيْهَا حَتَّى مَاتَ فَأَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ:" هَلْ لَكُمُ شَيْءٌ يُعِيشُكُمْ غَيْرَ ذَلِكَ؟، أَوْ قَالَ: «هَلْ عِنْدَكَ شَيْءٌ يُعِيشُكَ غَيْرَ ذَلِكَ؟» ، قَالَ: لَا قَالَ: «فَقَدِّدُوا شَحْمَهُ وَلَحْمَهُ وَكُلُوهُ» . وَجَاءَ صَاحِبُ الْبَعِيرِ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَالَ: هَلَّا كُنْتَ نَحَرْتَهُ؟ فَقَالَ: اسْتَحْيَيْتُ مِنْكَ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص حرہ (پتھریلے علاقے) میں تھا اور اس کے ساتھ اس کی بیوی تھی۔ ایک شخص کا اونٹ گم ہو گیا تو حرہ میں رہنے والے اس شخص نے اسے پا لیا اور اپنے پاس روک لیا، پھر وہ اونٹ بیمار ہو گیا۔ اس کی بیوی نے اس سے کہا: کاش تم اسے ذبح کر دیتے تو ہم اس کے گوشت اور چربی کو خشک کر لیتے اور کھا لیتے۔ لیکن وہ اس (تجویز) کے خلاف رہا یہاں تک کہ وہ (اونٹ) مر گیا، تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس اس کے علاوہ کوئی اور گزر بسر کا ذریعہ ہے؟“، یا فرمایا: ”کیا تمہارے پاس اس کے سوا کوئی اور گزارے کی چیز ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اس کی چربی اور گوشت کو خشک کر لو اور کھاؤ۔“ اس کے بعد اونٹ کا مالک آیا تو اس نے کہا: تم نے اسے ذبح کیوں نہ کیا؟ اس نے کہا: میں نے تم سے شرم کی۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1958]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 233، حدیث 1971»
حدیث نمبر: 1959
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ:" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ فَأَكَلَ مِنْهُ بَعَثَ بِفَضْلِهِ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ، وَكَانَ أَبُو أَيُّوبَ يَتَتَبَّعُ أَصَابِعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ أَصَابِعَهُ حَيْثُ يَرَى أَصَابِعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ بِصَفْحَةٍ فَوَجَدَ فِيهَا رِيحَ ثُومٍ فَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهَا، وَبَعَثَ بِهَا إِلَى أَبِي أَيُّوبَ فَلَمْ يَرَ أَبُو أَيُّوبَ فِيهَا أَثَرَ أَصَابِعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ لَمْ أَرَ فِيهَا أَثَرَ أَصَابِعِكَ، فَقَالَ: «إِنِّي وَجَدْتُ فِيهَا أَثَرَ ثُومٍ» ، فَقَالَ: بَعَثْتَ إِلَيَّ بِمَا لَا تَأْكُلُهُ، فَقَالَ: «إِنَّهُ يَأْتِينِي الْمَلَكُ»
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کھانا لایا جاتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے تناول فرماتے تو اس کا بچا ہوا حصہ ابو ایوب رضی اللہ عنہ کی طرف بھیج دیتے، اور ابو ایوب رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے نشان تلاش کرتے اور اپنی انگلیاں وہیں رکھتے جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے نشان دیکھتے۔ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک رکابی لائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں لہسن کی بو پائی، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے تناول نہ فرمایا، اور اسے ابو ایوب رضی اللہ عنہ کی طرف بھیج دیا۔ ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کا نشان نہ پایا، تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے اس میں آپ کی انگلیوں کا نشان نہیں دیکھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس میں لہسن کی بو محسوس ہوئی۔“ انہوں نے عرض کیا: آپ نے مجھے وہ چیز بھیج دی جو خود تناول نہیں کرتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس فرشتہ آتا ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1959]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 233، حدیث 1972»