المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
163. عاصم بن بهدلة، عن أبي وائل، عن جرير
عاصم بن بہدلہ کی ابووائل کے واسطے سے سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 2293
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ اشْتَرِطْ عَلَيَّ فَأَنْتَ أَعْلَمُ بِالشَّرْطِ مِنِّي قَالَ: «أُبَايِعُكَ عَلَى أَنْ تَعْبُدَ اللهَ لَا تُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ وَتَنْصَحَ الْمُسْلِمَ، وَتُفَارِقَ الْمُشْرِكَ»
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھ پر شرط رکھیے، آپ شرط کو مجھ سے زیادہ جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تجھ سے اس بات پر بیعت لیتا ہوں کہ تو اللہ کی عبادت کرے گا، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے گا، نماز قائم کرے گا، زکاۃ ادا کرے گا، مسلمان کی خیرخواہی کرے گا، اور مشرک سے علیحدگی اختیار کرے گا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 2293]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 314، حدیث 2306»
حدیث نمبر: 2294
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثنا ابْنُ عَائِشَةَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ اشْتَرِطْ عَلَيَّ فَإِنَّكَ أَعْلَمُ، قَالَ: «اعْبُدِ اللهَ لَا تُشْرِكْ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَتَنْصَحُ الْمُسْلِمَ، وَتَبْرَأُ مِنَ الْكَافِرِ»
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھ پر شرط رکھیے، آپ زیادہ جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکاۃ ادا کرو، مسلمان کی خیرخواہی کرو، اور کافر سے بری الذمہ ہو جاؤ۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 2294]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 314، حدیث 2307»
حدیث نمبر: 2295
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ اشْتَرِطْ عَلَيَّ فَأَنْتَ أَعْلَمُ بِالشَّرْطِ مِنِّي ثُمَّ ابْسُطْ يَدَكَ فَأُبَايِعَكَ، قَالَ: «تَعْبُدُ اللهَ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَتَنْصَحُ الْمُسْلِمَ، وَتُفَارِقُ الْمُشْرِكَ»
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھ پر شرط رکھیے، آپ شرط کو مجھ سے زیادہ جانتے ہیں، پھر اپنا ہاتھ بڑھائیے تاکہ میں آپ سے بیعت کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اللہ کی عبادت کرے گا، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے گا، نماز قائم کرے گا، زکاۃ ادا کرے گا، مسلمان کی خیرخواہی کرے گا، اور مشرک سے علیحدگی اختیار کرے گا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 2295]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 314، حدیث 2308»
حدیث نمبر: 2296
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ سَلَّامْ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 2296]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 314، حدیث 2309»
حدیث نمبر: 2297
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُهَاجِرُونَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَالطُّلَقَاءُ مِنْ قُرَيْشٍ، وَالْعُتَقَاءُ مِنْ ثَقِيفٍ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ»
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہاجرین دنیا و آخرت میں ایک دوسرے کے دوست ہیں، اور قریش کے طلقاء اور ثقیف کے عتقاء بھی دنیا و آخرت میں ایک دوسرے کے دوست ہیں۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 2297]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 314، حدیث 2310»
حدیث نمبر: 2298
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو مَسْعُودٍ أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سَابِقٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَالطُّلَقَاءُ مِنْ قُرَيْشٍ، وَالْعُتَقَاءُ مِنْ ثَقِيفٍ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ»
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہاجرین اور انصار دنیا و آخرت میں ایک دوسرے کے دوست ہیں، اور قریش کے طلقاء اور ثقیف کے عتقاء بھی ایک دوسرے کے دوست ہیں۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 2298]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 315، حدیث 2311»
حدیث نمبر: 2299
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، وَحَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: جَاءَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُجْتَابِي النِّمَارِ فَسَأَلُوهُ فَحَثَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ عَلَى الصَّدَقَةِ فَأَبْطَئُوا بِهَا حَتَّى عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ بِقِطْعَةِ تِبْرٍ فَأَلْقَاهَا فَتَتَابَعَ النَّاسُ فِي الصَّدَقَةِ حَتَّى عُرِفَ السُّرُورُ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: «مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهَا وَأَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ، وَمَنْ سَنَّ سُنَّةً سَيِّئَةً فَعُمِلَ بِهَا كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ»
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: دیہات کے کچھ لوگ دھاری دار اونی چادریں اوڑھے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو صدقہ کی ترغیب دی تو انہوں نے اس میں دیر کی، یہاں تک کہ اس کا اثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر پہچانا گیا۔ پھر انصار میں سے ایک آدمی سونے کا ایک ٹکڑا لے کر آیا اور اسے ڈال دیا، پھر لوگ صدقہ دینے میں ایک دوسرے کے پیچھے آنے لگے، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر خوشی نمایاں ہو گئی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کوئی اچھا طریقہ رائج کرے اور اس کے بعد اس پر عمل کیا جائے، تو اسے اس کا اور اس پر عمل کرنے والوں کا ثواب ملے گا، بغیر اس کے کہ ان کے ثواب میں کوئی کمی ہو۔ اور جو شخص کوئی برا طریقہ رائج کرے اور اس پر عمل کیا جائے، تو اس پر اس کا اور اس پر عمل کرنے والوں کا گناہ ہوگا، بغیر اس کے کہ ان کے گناہ میں کوئی کمی ہو۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 2299]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 315، حدیث 2312»
حدیث نمبر: 2300
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَثَّ النَّاسَ عَلَى الصَّدَقَةِ حَتَّى رُؤِيَ ذَلِكَ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ بِذَهَبَةٍ فَنَبَذَهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُؤِيَ السُّرُورُ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً فِي الْإِسْلَامِ فَعُمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ كَانَ لَهُ أَجْرُهَا وَمَثَلُ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا لَا يَنْقُصُ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ، وَمَنْ سَنَّ سُنَّةً سَيِّئَةً فِي الْإِسْلَامِ فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَمَثَلُ وِزْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا لَا يَنْقُصُ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ»
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو صدقہ کی ترغیب دی، یہاں تک کہ اس کا اثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر دیکھا گیا۔ پھر انصار میں سے ایک آدمی سونا لے کر آیا اور اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ڈال دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر خوشی دیکھی گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اسلام میں کوئی اچھا طریقہ رائج کرے اور اس کے بعد اس پر عمل کیا جائے، تو اسے اس کا ثواب اور اس پر عمل کرنے والوں کے برابر ثواب ملے گا، ان کے ثواب میں کوئی کمی کیے بغیر۔ اور جو شخص اسلام میں کوئی برا طریقہ رائج کرے اور اس کے بعد اس پر عمل کیا جائے، تو اس پر اس کا گناہ اور اس پر عمل کرنے والوں کے برابر گناہ ہوگا، ان کے گناہ میں کوئی کمی کیے بغیر۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 2300]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 315، حدیث 2313»