🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

4. أبو الحوراء عن الحسن بن علي رضي الله عنه
ابوالحوراء کی سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2688
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ وَاضِحٍ الْعَسَّالُ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقُولَ فِي الْوِتْرِ: «اللهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ؛ إِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، إِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، وَلَا يَعِزُّ مَنْ عَادَيْتَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ»
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سکھایا کہ میں وتر میں یہ کہوں: ”اے اللہ! مجھے ہدایت دے ان لوگوں میں جنہیں تو نے ہدایت دی، اور مجھے عافیت دے ان لوگوں میں جنہیں تو نے عافیت دی، اور مجھے اپنا دوست بنا ان لوگوں میں جنہیں تو نے اپنا دوست بنایا، اور مجھے برکت دے اس میں جو تو نے مجھے عطا کیا، اور مجھے اس کے شر سے بچا جو تو نے مقرر کیا؛ بے شک تو ہی فیصلہ کرتا ہے اور تیرے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا، جس سے تو دوستی رکھے وہ ذلیل نہیں ہوتا، اور جس سے تو دشمنی رکھے وہ عزت نہیں پاتا، تو بابرکت اور بلند و بالا ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2688]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 73، حدیث 2701»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2689
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ مَرْوَانَ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ، قَالَ: قِيلَ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: أَيَّ شَيْءٍ حَفِظْتَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: مَا حَفِظْتُ مِنْهُ إِلَّا كَلِمَاتٍ أَقُولُهُنَّ فِي الْوِتْرِ: «اللهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ؛ إِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ»
ابوالحوراء کہتے ہیں: سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا یاد رکھا ہے؟ فرمایا: میں نے آپ سے صرف چند کلمات یاد رکھے ہیں جو میں وتر میں کہتا ہوں: ”اے اللہ! مجھے ہدایت دے ان لوگوں میں جنہیں تو نے ہدایت دی، اور مجھے عافیت دے ان لوگوں میں جنہیں تو نے عافیت دی، اور مجھے اپنا دوست بنا ان لوگوں میں جنہیں تو نے اپنا دوست بنایا، اور مجھے برکت دے اس میں جو تو نے مجھے عطا کیا، اور مجھے اس کے شر سے بچا جو تو نے مقرر کیا؛ بے شک تو ہی فیصلہ کرتا ہے اور تیرے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا، ہمارے رب! تو بابرکت اور بلند و بالا ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2689]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 73، حدیث 2702»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2690
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَيَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، قَالُوا: ثنا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: عَلَّمَنِي جَدِّي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَاتٍ أَقُولُهُنَّ فِي الْوِتْرِ: «اللهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ؛ إِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، إِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، وَلَا يَعِزُّ مَنْ عَادَيْتَ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ»
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے میرے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند کلمات سکھائے جو میں وتر میں کہتا ہوں: ”اے اللہ! مجھے ہدایت دے ان لوگوں میں جنہیں تو نے ہدایت دی، اور مجھے عافیت دے ان لوگوں میں جنہیں تو نے عافیت دی، اور مجھے برکت دے اس میں جو تو نے مجھے عطا کیا، اور مجھے اس کے شر سے بچا جو تو نے مقرر کیا؛ بے شک تو ہی فیصلہ کرتا ہے اور تیرے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا، جس سے تو دوستی رکھے وہ ذلیل نہیں ہوتا، اور جس سے تو دشمنی رکھے وہ عزت نہیں پاتا، ہمارے رب! تو بابرکت اور بلند و بالا ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2690]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 74، حدیث 2703»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2691
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ بُرَيْدِ بنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ قَالَ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ؛ إِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، لَا يَذِلِّ مَنْ وَالَيْتَ، وَلَا يَعِزُّ مَنْ عَادَيْتَ تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ»
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سکھایا: ”اے اللہ! مجھے ہدایت دے ان لوگوں میں جنہیں تو نے ہدایت دی، اور مجھے عافیت دے ان لوگوں میں جنہیں تو نے عافیت دی، اور مجھے اپنا دوست بنا ان لوگوں میں جنہیں تو نے اپنا دوست بنایا، اور مجھے اس کے شر سے بچا جو تو نے مقرر کیا؛ بے شک تو ہی فیصلہ کرتا ہے اور تیرے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا، جس سے تو دوستی رکھے وہ ذلیل نہیں ہوتا، اور جس سے تو دشمنی رکھے وہ عزت نہیں پاتا، تو بابرکت اور بلند و بالا ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2691]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 74، حدیث 2704»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2692
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَاتٍ أَقُولُهُنُّ فِي قُنُوتِ الْوِتْرِ: «اللهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ؛ إِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، إِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، وَلَا يَعِزُّ مَنْ عَادَيْتَ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ»
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چند کلمات سکھائے جو میں قنوتِ وتر میں کہتا ہوں: ”اے اللہ! مجھے ہدایت دے ان لوگوں میں جنہیں تو نے ہدایت دی، اور مجھے عافیت دے ان لوگوں میں جنہیں تو نے عافیت دی، اور مجھے اپنا دوست بنا ان لوگوں میں جنہیں تو نے اپنا دوست بنایا، اور مجھے برکت دے اس میں جو تو نے مجھے عطا کیا، اور مجھے اس کے شر سے بچا جو تو نے مقرر کیا؛ بے شک تو ہی فیصلہ کرتا ہے اور تیرے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا، جس سے تو دوستی رکھے وہ ذلیل نہیں ہوتا، اور جس سے تو دشمنی رکھے وہ عزت نہیں پاتا، ہمارے رب! تو بابرکت اور بلند و بالا ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2692]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 74، حدیث 2705»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2693
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ مَرْثَدٍ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا أَبُو صَالِحٍ الْفَرَّاءُ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزازِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقُولَ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ فِي الْوِتْرِ: «اللهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ؛ إِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، وَلَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ»
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سکھایا کہ میں یہ کلمات وتر میں کہوں: ”اے اللہ! مجھے ہدایت دے ان لوگوں میں جنہیں تو نے ہدایت دی، اور مجھے عافیت دے ان لوگوں میں جنہیں تو نے عافیت دی، اور مجھے اپنا دوست بنا ان لوگوں میں جنہیں تو نے اپنا دوست بنایا، اور مجھے برکت دے اس میں جو تو نے مجھے عطا کیا، اور مجھے اس کے شر سے بچا جو تو نے مقرر کیا؛ بے شک تو ہی فیصلہ کرتا ہے اور تیرے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا، اور جس سے تو دوستی رکھے وہ ذلیل نہیں ہوتا، ہمارے رب! تو بابرکت اور بلند و بالا ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2693]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 75، حدیث 2706»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2694
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَنَا شُعْبَةُ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقُولَ فِي الْوِتْرِ: «اللهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ؛ إِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، إِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، وَلَا يَعِزُّ مَنْ عَادَيْتَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ»
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سکھایا کہ میں وتر میں یہ کہوں: ”اے اللہ! مجھے ہدایت دے ان لوگوں میں جنہیں تو نے ہدایت دی، اور مجھے اپنا دوست بنا ان لوگوں میں جنہیں تو نے اپنا دوست بنایا، اور مجھے عافیت دے ان لوگوں میں جنہیں تو نے عافیت دی، اور مجھے برکت دے اس میں جو تو نے مجھے عطا کیا، اور مجھے اس کے شر سے بچا جو تو نے مقرر کیا؛ بے شک تو ہی فیصلہ کرتا ہے اور تیرے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا، جس سے تو دوستی رکھے وہ ذلیل نہیں ہوتا، اور جس سے تو دشمنی رکھے وہ عزت نہیں پاتا، تو بابرکت اور بلند و بالا ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2694]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 75، حدیث 2707»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2695
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ مَرْثَدٍ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا أَبُو صَالِحٍ الْفَرَّاءُ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ، قَالَ: قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: مِثْلُ مَنْ كُنْتَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ وَمَا عَقَلْتَ عَنْهُ؟ قَالَ: عَقَلْتُ عَنْهُ أَنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ:" دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ، فَإِنَّ الشَّرَّ رِيبَةٌ، وَالْخَيْرَ طُمَأْنِينَةٌ، وَعَقَلْتُ عَنْهُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ، وكَلِماتٍ أَقُولُهُنَّ عِنْدَ انْقِضائِهِنَّ، قَالَ:" قُلِ: اللهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنَ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ؛ إِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، إِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ". قَالَ بُرَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ: فَدَخَلْتُ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ فِي الشِّعْبِ، فَحَدَّثْتُهُ بِهَذَا الْحَدِيثِ، عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: صَدَقَ، هُنَّ كَلِمَاتٌ عَلَّمَنَاهُنَّ أَنْ نَقُولَهُنَّ فِي الْقُنُوتِ
ابوالحوراء کہتے ہیں: میں نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے عرض کیا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں کیسے تھے؟ اور آپ نے ان سے کیا سمجھا اور یاد رکھا؟ فرمایا: میں نے ان سے یہ یاد رکھا کہ میں نے انہیں فرماتے سنا: ”جو چیز تمہیں شک میں ڈالے اسے چھوڑ کر وہ چیز اختیار کرو جو شک میں نہ ڈالے، کیونکہ برائی شک ہے اور بھلائی اطمینان ہے۔“ اور میں نے ان سے پانچوں نمازیں یاد رکھیں، اور چند کلمات جو میں ان کے اختتام پر کہتا ہوں، فرمایا: ”یوں کہو: اے اللہ! مجھے ہدایت دے ان لوگوں میں جنہیں تو نے ہدایت دی، اور مجھے عافیت دے ان لوگوں میں جنہیں تو نے عافیت دی، اور مجھے اپنا دوست بنا ان لوگوں میں جنہیں تو نے اپنا دوست بنایا، اور مجھے برکت دے اس میں جو تو نے مجھے عطا کیا، اور مجھے اس کے شر سے بچا جو تو نے مقرر کیا؛ بے شک تو ہی فیصلہ کرتا ہے اور تیرے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا، جس سے تو دوستی رکھے وہ ذلیل نہیں ہوتا، ہمارے رب! تو بابرکت اور بلند و بالا ہے۔“ برید بن ابی مریم کہتے ہیں: پھر میں محمد بن علی (باقر) کے پاس گھاٹی میں گیا اور انہیں یہ حدیث ابوالحوراء سے، سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے واسطے سے سنائی، تو انہوں نے فرمایا: ”انہوں نے سچ کہا، یہ وہی کلمات ہیں جو ہمیں قنوت میں کہنے کی تعلیم دی گئی تھی۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2695]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 75، حدیث 2708»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2696
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ، قَالَ: قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مَا حَفِظْتَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: «الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ»
ابوالحوراء کہتے ہیں: میں نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا یاد رکھا؟ فرمایا: ”پانچوں نمازیں۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2696]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 76، حدیث 2709»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2697
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ مُسَاوِرٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ، قَالَ: قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ: مَا تَذْكُرُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: أَذْكُرُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّنِي أَخَذْتُ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ، فَجَعَلْتُهَا فِي فِيَّ، فَنَزَعَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلُعَابِهَا، فَجَعَلَهَا فِي التَّمْرِ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا عَلَيْكَ مِنْ هَذِهِ التَّمْرَةِ لِهَذَا الصَّبِيِّ؟ فَقَالَ: «إِنَّا آلَ مُحَمَّدٍ لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ»
ابوالحوراء رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کون سی بات یاد ہے؟ فرمایا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات یاد ہے کہ میں نے صدقے کی کھجوروں میں سے ایک کھجور لی اور اپنے منہ میں رکھ لی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کے لعاب سمیت نکال لیا، پھر اسے دوسری کھجوروں میں ڈال دیا، تو عرض کیا گیا: یا رسول اللہ، اس بچے کو اس ایک کھجور سے کیا نقصان ہوتا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم آلِ محمد پر صدقہ حلال نہیں۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2697]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 76، حدیث 2710»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں