🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

1. غرفة بن الحارث الأزدي الكندي
سیدنا غرفہ بن حارث ازدی کندی رضی اللہ عنہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15745
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ عِمْرَانَ، حَدَّثَنِي كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ، أَنَّ غَرْفَةَ بْنَ الْحَارِثِ - وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ وَقَاتَلَ مَعَ عِكْرِمَةَ بْنِ أَبِي جَهْلٍ بِالْيَمَنِ فِي الرِّدَّةِ - أَنَّهُ مَرَّ نَصْرَانِيٌّ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ يُقَالُ لَهُ الْمَنْدَقُونُ، فَدَعَاهُ إِلَى الْإِسْلَامِ، فَذَكَرَ النَّصْرَانِيُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَنَاوَلَهُ، فَرَفَعَ ذَلِكَ إِلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَقَالَ: قَدْ أَعْطَيْنَاهُ الْعَهْدَ، فَقَالَ غَرْفَةُ: «مُعَاذَ اللهِ أَنْ نَكُونَ أَعْطَيْنَاهُمُ الْعُهُودَ وَالْمَوَاثِيقَ عَلَى أَنْ يُؤْذُونَا فِي اللهِ وَرَسُولِهِ، إِنَّمَا أَعْطَيْنَاهُمْ عَلَى أَنْ نَحِلَّ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ كَنَائِسِهِمْ، يَقُولُونَ فِيهَا مَا بَدَا لَهُمْ، وَأَنْ لَا نُحَمِّلَهُمْ مَا لَا طَاقَةَ لَهُمْ بِهِ، وَأَنْ نُقَاتِلَ مِنْ وَرَائِهِمْ، وَأَنْ يُخَلَّى بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ أَحْكَامِهِمْ إِلَّا أَنْ يَأْتُوا فَنَحْكُمَ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ» ، فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: صَدَقْتَ
سیدنا غرفہ بن حارث رضی اللہ عنہ، جنہیں (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی) صحبت حاصل تھی اور جنہوں نے ارتداد (کے فتنے) کے دوران یمن میں عکرمہ بن ابی جہل رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل کر قتال کیا تھا، ان کے پاس سے اہل مصر کا ایک نصرانی گزرا جسے مندقون کہا جاتا تھا، انہوں نے اسے اسلام کی دعوت دی تو اس نصرانی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کر کے آپ کی توہین کی، یہ بات عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ تک پہنچائی گئی، تو انہوں نے سیدنا غرفہ رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا اور کہا: ہم نے تو انہیں عہد دے رکھا ہے۔ اس پر سیدنا غرفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کی پناہ کہ ہم نے انہیں یہ عہد و پیمان اس بات پر دیا ہو کہ وہ ہمیں اللہ اور اس کے رسول کے بارے میں تکلیف دیں، ہم نے تو انہیں اس بات پر عہد دیا ہے کہ ہم ان کے اور ان کے گرجاؤں کے درمیان رکاوٹ نہیں بنیں گے، وہ ان میں جو چاہیں کہیں، اور ہم انہیں ایسی ذمہ داری نہیں دیں گے جس کی وہ طاقت نہ رکھتے ہوں، اور ہم ان کی طرف سے (دشمن کے مقابلے میں) لڑیں گے، اور انہیں ان کے اپنے فیصلوں میں آزاد چھوڑا جائے گا، سوائے اس کے کہ وہ خود (ہمارے پاس) آئیں تو ہم ان کے درمیان اس کے مطابق فیصلہ کریں گے جو اللہ نے نازل فرمایا ہے۔“ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے سچ کہا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الغين/حدیث: 15745]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 261، حدیث 654»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15746
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبَّانَ النَّصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَرْمَلَةَ بْنِ عِمْرَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَزْدِيِّ، عَنْ غَرْفَةَ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، وَأَتَى بِالْبُدْنِ فَقَالَ: «ادْعُوا لِي أَبَا حَسَنٍ» فَدَعَا عَلِيًّا فَقَالَ: «خُذْ بِأَسْفَلِ الْحَرْبَةِ» وَأَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَعْلَاهَا، فَقَطَعْنَا بِهَا الْبُدْنَ، فَلَمَّا فَرَغَ، رَكِبَ الْبَغْلَةَ فَأَرْدَفَ عَلِيًّا
سیدنا غرفہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاضر تھا، قربانی کے اونٹ لائے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوالحسن کو میرے پاس بلاؤ۔“ چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بلایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”نیزے کا نچلا حصہ پکڑو۔“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوپر کا حصہ پکڑا، پھر ہم نے اس سے اونٹوں کو نحر کیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو خچر پر سوار ہوئے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے سوار کر لیا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الغين/حدیث: 15746]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 261، حدیث 655»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں