المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
176. عطاء بن يسار، عن معاوية بن الحكم
عطاء بن یسار کی سیدنا معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 16996
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ الصَّوَّافِ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللهُ، فَرَمَانِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ، فَقُلْتُ: وَاثُكْلَ أُمَّيَاهُ مَا شَأْنُكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ؟، فَجَعَلُوا يَضْرِبُونَ بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ، فَعَرَفْتُ أَنَّهُمْ يُصَمِّتُونِي، لَكِنِّي سَكَتُّ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِأَبِي هُوَ وَأُمِّي، مَا ضَرَبَنِي وَمَا كَهَرَنِي وَلَا سَبَّنِي، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ لَا يَحِلُّ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ هَذَا، إِنَّمَا هُوَ التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ» ، أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سیدنا معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، تو لوگوں میں سے ایک شخص کو چھینک آئی، تو میں نے کہا: یرحمک اللہ (اللہ تم پر رحم کرے)۔ اس پر لوگوں نے مجھے گھور کر دیکھا، تو میں نے کہا: میری ماں مجھ پر روئے! تمہیں کیا ہوا کہ مجھے دیکھ رہے ہو؟ تو وہ اپنے ہاتھوں سے اپنی رانوں پر مارنے لگے، تو میں سمجھ گیا کہ وہ مجھے خاموش کرا رہے ہیں، لیکن میں خاموش ہو گیا، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی - میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں - آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ مجھے مارا، نہ ڈانٹا اور نہ برا بھلا کہا، بلکہ فرمایا: ”اس نماز میں لوگوں کی اس طرح کی گفتگو میں سے کچھ بھی جائز نہیں، یہ تو صرف تسبیح، تکبیر اور قرآن کی قراءت ہے“، یا جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 16996]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 402، حدیث 947»
حدیث نمبر: 16997
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، وَعَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، قَالَا: ثنا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللهُ، أَوْ يَرْحَمُكُمُ اللهُ، فَنَظَرَ إِلَيَّ الْقَوْمُ، فَقُلْتُ: وَاثُكْلَ أُمِّي، ثُمَّ حَدَّقُونِي فَجَعَلُوا يَضْرِبُونَ بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ، فَعَرَفْتُ أَنَّ الْقَوْمَ لَا يُدَرِّقُونِي بِأَبْصَارِهِمْ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ، فَبِأَبِي وَأُمِّي مَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَبْلَ وَلَا بَعْدَ هُوَ أَرْفَقُ مِنْهُ تَعْلِيمًا، فَمَا نَهَرَنِي وَلَا كَهَرَنِي وَلَا شَتَمَنِي، فَقَالَ: «إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ، إِنَّمَا هُوَ تَسْبِيحٌ وَتَكْبِيرٌ وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ» . «وَلَمْ يَذْكُرْ أَيُّوبُ فِي حَدِيثِهِ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ»
مُعَاوِيَةُ بْنُ حَيْدَةَ الْقُشَيْرِيُّ
مُعَاوِيَةُ بْنُ حَيْدَةَ الْقُشَيْرِيُّ
سیدنا معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، تو لوگوں میں سے ایک شخص کو چھینک آئی، تو میں نے کہا: یرحمک اللہ، یا یرحمکم اللہ۔ اس پر لوگوں نے مجھے دیکھا، تو میں نے کہا: میری ماں مجھ پر روئے۔ پھر انہوں نے مجھے گھور کر دیکھا اور اپنے ہاتھوں سے اپنی رانوں پر مارنے لگے، تو میں سمجھ گیا کہ لوگ مجھے اپنی نظروں سے خاموش کرانا چاہ رہے ہیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی - میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں - میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے یا بعد میں کوئی معلم آپ سے زیادہ نرمی سے تعلیم دینے والا نہیں دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ مجھے جھڑکا، نہ ڈانٹا اور نہ برا بھلا کہا، بلکہ فرمایا: ”اس نماز میں لوگوں کی گفتگو میں سے کچھ بھی درست نہیں، یہ تو صرف تسبیح، تکبیر اور قرآن کی قراءت ہے۔“
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ایوب نے اپنی روایت میں عطاء بن یسار کا ذکر نہیں کیا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 16997]
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ایوب نے اپنی روایت میں عطاء بن یسار کا ذکر نہیں کیا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 16997]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 402، حدیث 948»