🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

183. معاوية بن معاوية المزني " توفي في حياة رسول الله صلى الله عليه وسلم، ورفعت جنازته لرسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى عليه "
سیدنا معاویہ بن معاویہ مزنی رضی اللہ عنہ، جن کی وفات نبی کریم ﷺ کی زندگی میں ہوئی، اور ان کا جنازہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے لایا گیا تو آپ ﷺ نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17089
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ صَالِحٍ الشِّيرَازِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْمُؤَذِّنُ، ثنا مَحْبُوبُ بْنُ هِلَالٍ الْمُزَنِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: نَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ مَاتَ مُعَاوِيَةُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْمُزَنِيُّ، أَتُحِبُّ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَيْهِ؟، قَالَ: «نَعَمْ» ، فَضَرَبَ بِجَنَاحَيْهِ فَلَمْ تَبْقَ شَجَرَةٌ، وَلَا أَكَمَةٌ إِلَّا تَضَعْضَعَتْ، وَرَفَعَ لَهُ سَرِيرَهُ حَتَّى نَظَرَ إِلَيْهِ، فَصَلَّى عَلَيْهِ وَخَلْفَهُ صَفَّانِ مِنَ الْمَلَائِكَةِ فِي كُلِّ صَفٍّ سَبْعُونَ أَلْفًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجِبْرِيلَ: «يَا جِبْرِيلُ مَا بَلَّغَ هَذَا هَذِهِ الْمَنْزِلَةَ مِنَ اللهِ؟» ، قَالَ: بِحُبِّهِ قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ وَقِرَاءَتِهِ إِيَّاهَا جَائِيًا وَذَاهِبًا وَقَائِمًا وَقَاعِدًا وَعَلَى كُلِّ حَالٍ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جبریل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئے اور عرض کیا: اے محمد! معاویہ بن معاویہ مزنی رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے ہیں، کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ ان کی نماز جنازہ پڑھائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ تو جبریل علیہ السلام نے اپنے دونوں پر مارے تو کوئی درخت اور کوئی ٹیلہ ایسا نہ رہا جو پست نہ ہو گیا ہو، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ان کی (جنازے کی) چارپائی بلند کر دی گئی یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھ لیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے فرشتوں کی دو صفیں تھیں، ہر صف میں ستر ہزار فرشتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل علیہ السلام سے پوچھا: ”اے جبریل! اسے اللہ کے نزدیک یہ مقام کس چیز کی وجہ سے حاصل ہوا؟“ انہوں نے کہا: سورۃ ”قل ھو اللہ احد“ سے محبت اور اسے چلتے پھرتے، کھڑے، بیٹھے، ہر حال میں پڑھنے کی وجہ سے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17089]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 428، حدیث 1040»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17090
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُعَلِّمُ، ثنا صَدَقَةُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ غَازِيًا تَبُوكَ" فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ هَلْ لَكَ فِي جَنَازَةِ مُعَاوِيَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْمُزَنِيِّ؟، قَالَ: «نَعَمْ» ، فَقَالَ جِبْرِيلُ: بِيَدِهِ هَكَذَا، فَفَرَّجَ لَهُ عَنِ الْجِبَالِ وَالْآكَامِ، فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي وَمَعَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَمَعَ جِبْرِيلُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ، فَصَلَّى عَلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ: «بِمَ بَلَغَ مُعَاوِيَةُ هَذَا؟» ، قَالَ: بِكَثْرَةِ قِرَاءَتِهِ قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ، كَانَ يَقْرَؤُهَا قَائِمًا وَقَاعِدًا وَرَاقِدًا وَمَاشِيًا، فَهَذَا بَلَغَ بِهِ مَا بَلَغَ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوۂ تبوک میں تھے تو جبریل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: اے محمد! کیا آپ معاویہ بن معاویہ مزنی رضی اللہ عنہ کے جنازے میں چلنا پسند کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ تو جبریل علیہ السلام نے اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا اور پہاڑوں اور ٹیلوں کو ان کے لیے ہٹا دیا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے ہوئے تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جبریل علیہ السلام تھے اور جبریل علیہ السلام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاویہ بن معاویہ رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل علیہ السلام سے پوچھا: ”معاویہ کو یہ مقام کس چیز کی وجہ سے حاصل ہوا؟“ انہوں نے کہا: سورۃ ”قل ھو اللہ احد“ کی کثرت سے تلاوت کی وجہ سے، وہ اسے کھڑے، بیٹھے، لیٹے اور چلتے ہوئے پڑھا کرتے تھے، تو یہی وجہ ہے کہ انہیں یہ مقام حاصل ہوا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17090]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 429، حدیث 1041»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں