المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
183. معاوية بن معاوية المزني " توفي في حياة رسول الله صلى الله عليه وسلم، ورفعت جنازته لرسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى عليه "
سیدنا معاویہ بن معاویہ مزنی رضی اللہ عنہ، جن کی وفات نبی کریم ﷺ کی زندگی میں ہوئی، اور ان کا جنازہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے لایا گیا تو آپ ﷺ نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی
حدیث نمبر: 17089
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ صَالِحٍ الشِّيرَازِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْمُؤَذِّنُ، ثنا مَحْبُوبُ بْنُ هِلَالٍ الْمُزَنِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: نَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ مَاتَ مُعَاوِيَةُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْمُزَنِيُّ، أَتُحِبُّ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَيْهِ؟، قَالَ: «نَعَمْ» ، فَضَرَبَ بِجَنَاحَيْهِ فَلَمْ تَبْقَ شَجَرَةٌ، وَلَا أَكَمَةٌ إِلَّا تَضَعْضَعَتْ، وَرَفَعَ لَهُ سَرِيرَهُ حَتَّى نَظَرَ إِلَيْهِ، فَصَلَّى عَلَيْهِ وَخَلْفَهُ صَفَّانِ مِنَ الْمَلَائِكَةِ فِي كُلِّ صَفٍّ سَبْعُونَ أَلْفًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجِبْرِيلَ: «يَا جِبْرِيلُ مَا بَلَّغَ هَذَا هَذِهِ الْمَنْزِلَةَ مِنَ اللهِ؟» ، قَالَ: بِحُبِّهِ قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ وَقِرَاءَتِهِ إِيَّاهَا جَائِيًا وَذَاهِبًا وَقَائِمًا وَقَاعِدًا وَعَلَى كُلِّ حَالٍ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جبریل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئے اور عرض کیا: اے محمد! معاویہ بن معاویہ مزنی رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے ہیں، کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ ان کی نماز جنازہ پڑھائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ تو جبریل علیہ السلام نے اپنے دونوں پر مارے تو کوئی درخت اور کوئی ٹیلہ ایسا نہ رہا جو پست نہ ہو گیا ہو، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ان کی (جنازے کی) چارپائی بلند کر دی گئی یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھ لیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے فرشتوں کی دو صفیں تھیں، ہر صف میں ستر ہزار فرشتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل علیہ السلام سے پوچھا: ”اے جبریل! اسے اللہ کے نزدیک یہ مقام کس چیز کی وجہ سے حاصل ہوا؟“ انہوں نے کہا: سورۃ ”قل ھو اللہ احد“ سے محبت اور اسے چلتے پھرتے، کھڑے، بیٹھے، ہر حال میں پڑھنے کی وجہ سے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17089]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 428، حدیث 1040»
Al-Mu'jam al-Kabir (Tabarani) Hadith 17089 in Urdu