المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
204. عروة بن الزبير، عن المسور بن مخرمة
عروہ بن زبیر کی سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 17141
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، أَنَّ سُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةَ تُوُفِّي عَنْهَا زَوْجُهَا وَهِيَ حُبْلَى، فَلَمْ تَمْكُثْ إِلَّا لَيَالِيَ حَتَّى وَضَعَتْ، فَلَمَّا تَنَقَّتْ خُطِبَتْ، «فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النِّكَاحِ حِينَ وَضَعَتْ فَأَذِنَ لَهَا فَنَكَحَتْ»
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا کے شوہر کا انتقال ہو گیا جبکہ وہ حاملہ تھیں، تو چند راتوں کے بعد ہی ان کے ہاں بچہ پیدا ہو گیا۔ جب وہ پاک ہوئیں تو انہیں نکاح کا پیغام آیا، تو انہوں نے بچہ پیدا ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کی اجازت مانگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دی، تو انہوں نے نکاح کر لیا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17141]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 6، حدیث 5»
حدیث نمبر: 17142
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمِسْوَرِ، أَنَّ سُبَيْعَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا، فَوَلَدَتْ بَعْدَ ثَمَانٍ - أَوْ سَبْعٍ - «فَأَمَرَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَتَزَوَّجَ»
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سبیعہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے شوہر کا انتقال ہو گیا، تو انہوں نے آٹھ - یا سات - (روز بعد) بچہ جنا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نکاح کرنے کا حکم دیا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17142]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 7، حدیث 6»
حدیث نمبر: 17143
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، أَنَّ سُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةَ تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَهِي حُبْلَى، فَلَمْ تَمْكُثْ إِلَّا لَيَاليَ حَتَّى وَضَعَتْ، فَلَمَّا تَعَالَّتْ مِنْ نِفَاسِهَا خُطِبَتْ، «فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النِّكَاحِ حِينَ وَضَعَتْ فَأَذِنَ لَهَا فَنَكَحَتْ»
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا کے شوہر کا انتقال ہو گیا جبکہ وہ حاملہ تھیں، تو چند راتوں کے بعد ہی ان کے ہاں بچہ پیدا ہو گیا۔ جب وہ نفاس سے صحت یاب ہوئیں تو انہیں نکاح کا پیغام آیا، تو انہوں نے بچہ پیدا ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کی اجازت مانگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دی، تو انہوں نے نکاح کر لیا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17143]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 7، حدیث 7»
حدیث نمبر: 17144
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذٍ الْحَلَبِيُّ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، أَنَّ سُبَيْعَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ الْأَسْلَمِيَّةَ تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَهِيَ حَامِلٌ، فَلَمْ تَمْكُثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى وَضَعَتْ، فَلَمَّا تَعَالَّتْ مِنْ نِفَاسِهَا خُطِبَتْ، «فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النِّكَاحِ فَأَذِنَ لَهَا فَنَكَحَتْ»
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سبیعہ بنت حارث اسلمیہ رضی اللہ عنہا کے شوہر کا انتقال ہو گیا جبکہ وہ حاملہ تھیں، تو تھوڑی دیر کے بعد ہی ان کے ہاں بچہ پیدا ہو گیا۔ جب وہ نفاس سے صحت یاب ہوئیں تو انہیں نکاح کا پیغام آیا، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کی اجازت مانگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دی، تو انہوں نے نکاح کر لیا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17144]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 7، حدیث 8»
حدیث نمبر: 17145
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ: وَضَعَتْ سُبَيْعَةُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِأَيَّامٍ قَلَائِلَ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «فَاسْتَأْذَنَتْ فِي النِّكَاحِ فَأَذِنَ لَهَا»
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سبیعہ رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر کی وفات کے چند دن بعد بچہ جنا، تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور نکاح کی اجازت مانگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17145]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 7، حدیث 9»
حدیث نمبر: 17146
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَشْكِيبَ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ، عنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ سُبَيْعَةَ أَنْ تَنْكِحَ إِذَا تَعَالَّتْ مِنْ نِفَاسِهَا» هَكَذَا قَالَ ابْنُ أَشْكِيبَ عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سبیعہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیا کہ وہ نفاس سے صحت یاب ہوتے ہی نکاح کر لیں۔
راوی کہتے ہیں: ابن اشکیب نے یوں کہا: عاصم بن عمر۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17146]
راوی کہتے ہیں: ابن اشکیب نے یوں کہا: عاصم بن عمر۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17146]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 8، حدیث 10»
حدیث نمبر: 17147
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، أَنَّ سُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةَ تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَهِيَ حَامِلٌ، فَلَمْ يَمُرَّ بِهَا لَيَالٍ حَتَّى وَضَعَتْ، «فَاسْتَأْذَنَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تَعَالَّتْ مِنْ نِفَاسِهَا فَأَذِنَ لَهَا فَنَكَحَتْ»
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا کے شوہر کا انتقال ہو گیا جبکہ وہ حاملہ تھیں، تو چند راتیں بھی نہیں گزریں کہ ان کے ہاں بچہ پیدا ہو گیا، تو انہوں نے نفاس سے صحت یاب ہونے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دی، تو انہوں نے نکاح کر لیا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17147]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 8، حدیث 11»
حدیث نمبر: 17148
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ مَرْثَدٍ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِيهِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ:" إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَنِي رَحْمَةً لِلنَّاسِ كَافَّةً، فَأَدُّوا عَنِّي يَرْحَمْكُمُ اللهُ، وَلَا تَخْتَلِفُوا كَمَا اخْتَلَفَ الْحَوَارِيُّونَ عَلَى عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَإِنَّهُ دَعَاهُمْ إِلَى مِثْلِ مَا أَدْعُوكُمْ إِلَيْهِ، فَأَمَّا مَنْ قَرُبَ مَكَانُهُ فَإِنَّهُ أَجَابَ وَأَسْلَمَ، وَأَمَّا مَنْ بَعُدَ مَكَانُهُ فَكَرِهَهُ، فَشَكَا عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ ذَلِكَ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ فَأَصْبَحُوا وَكُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ يَتَكَلَّمُ بِلِسَانِ الْقَوْمِ الَّذِينَ وُجِّهَ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ لَهُمْ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ: هَذَا أَمَرٌ قَدْ عَزَمَ اللهُ لَكُمْ عَلَيْهِ، فَامْضُوا فَافْعَلُوا" فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَحْنُ يَا رَسُولَ اللهِ نُؤَدِّي عَنْكَ، فابْعَثْنَا حَيْثُ شِئْتَ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللهِ بْنَ حُذَافَةَ إِلَى كِسْرَى، وَبَعَثَ سَلِيطَ بْنَ عَمْرٍو إِلَى هَوْذَةَ بْنِ عَلِيٍّ صَاحِبِ الْيَمَامَةِ، وَبَعَثَ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ إِلَى الْمُنْذِرِ بْنِ سَاوَى صَاحِبِ هَجَرَ، وَبَعَثَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ إِلَى جَيْفَرَ، وَعَبَّادِ ابْنِي جَلَنْدَا مَلِكَيْ عُمَانَ، وَبَعَثَ دِحْيَةَ الْكَلْبِيَّ إِلَى قَيْصَرَ، وَبَعَثَ شُجَاعَ بْنَ وَهْبٍ الْأَسَدِيَّ إِلَى الْمُنْذِرِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي شِمْرٍ الْغَسَّانِيِّ، وَبَعَثَ عَمْرَو بْنَ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيَّ إِلَى النَّجَاشِيِّ فَرَجَعُوا جَمِيعًا قَبْلَ وَفَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ، فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُوُفِّيَ وَهُوَ بِالْبَحْرَيْنِ
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”اللہ عزوجل نے مجھے تمام لوگوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے، تو تم میری طرف سے یہ پیغام پہنچاؤ، اللہ تم پر رحم فرمائے، اور تم اختلاف نہ کرنا جیسا کہ حواریوں نے عیسیٰ علیہ السلام کے معاملے میں اختلاف کیا تھا، حالانکہ انہوں نے انہیں اسی چیز کی طرف بلایا تھا جس کی طرف میں تمہیں بلا رہا ہوں۔ جن کا مقام قریب تھا انہوں نے قبول کیا اور مان لیا، اور جن کا مقام دور تھا انہوں نے اسے ناپسند کیا، تو عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے یہ بات اللہ عزوجل سے شکایتاً عرض کی، تو صبح ہوئی اور ان میں سے ہر شخص اس قوم کی زبان بولنے لگا جن کی طرف اسے بھیجا گیا تھا۔ تو عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے ان سے فرمایا: یہ ایک ایسا کام ہے جو اللہ نے تمہارے لیے مقرر کر دیا ہے، تو جاؤ اور یہی کرو۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم آپ کی طرف سے یہ پیغام پہنچائیں گے، پس آپ جہاں چاہیں ہمیں بھیج دیں۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کو کسریٰ کی طرف بھیجا، اور سلیط بن عمرو رضی اللہ عنہ کو یمامہ کے حاکم ہوذہ بن علی کی طرف بھیجا، اور علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کو ہجر کے حاکم منذر بن ساویٰ کی طرف بھیجا، اور سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو عمان کے دونوں بادشاہوں جیفر اور عباد بن جلندیٰ کی طرف بھیجا، اور سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کو قیصر کی طرف بھیجا، اور شجاع بن وہب اسدی رضی اللہ عنہ کو غسانی منذر بن حارث بن ابی شمر کی طرف بھیجا، اور عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کو نجاشی کی طرف بھیجا۔ یہ سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے پہلے واپس آ گئے سوائے علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت وہ بحرین میں تھے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17148]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 8، حدیث 12»
حدیث نمبر: 17149
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، يُصَدِّقُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ قَالَا: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِائَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِذِي الْحُلَيْفَةِ قَلَّدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْهَدْيَ وَأَشْعَرَهُ، ثُمَّ أَحْرَمَ بِالْعُمْرَةِ، وَبَعَثَ بَيْنَ يَدَيْهِ عَيْنًا مِنْ خُزَاعَةَ يُخْبِرُهُ عَنْ قُرَيْشٍ، وَسَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِغَدِيرِ الْأَشْطَاطِ قَرِيبًا مِنْ عُسْفَانَ أَتَاهُ عَيْنُهُ الْخُزَاعِيُّ فَقَالَ: إِنِّي تَرَكْتُ كَعْبَ بْنَ لُؤَيٍّ، وَعَامِرَ بْنَ لُؤَيٍّ وَقَدْ جَمَعُوا لَكَ الْأَحَابِيشَ، وَجَمَعُوا لَكَ جُمُوعًا، وَهُمْ مُقَاتِلُوكَ وَصَادُّوكَ، عَنِ الْبَيْتِ الْحَرَامِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَشِيرُوا عَلَيَّ، أَتَرَوْنَ لِيْ أَنْ أَمِيلَ إِلَى ذَرَارِيِّ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ أَعَانُوهُمْ فَنُصِيبَهُمْ، فَإِنْ قَعَدُوا قَعَدُوا مَوْتُورِينَ مَحْرُوبِينَ، وَإِنْ جَاؤُوا تَكُنْ عُنُقًا قَطَعَهَا اللهُ، أُمْ تَرَوْنَ أَنَّ نَؤُمَّ الْبَيْتَ فَمَنْ صَدَّنَا عَنْهُ قَاتَلْنَاهُ؟» فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ يَا نَبِيَّ اللهِ، إِنَّمَا جِئْنَا مُعْتَمِرِينَ وَلَمْ نَجِئْ لِقِتَالِ أَحَدٍ، وَلَكِنْ مَنْ حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْبَيْتِ قَاتَلْنَاهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَرُوحُوا إِذًا» ، فَرَاحُوا حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ بِالْغَمِيمِ فِي خَيْلٍ لِقُرَيْشٍ طَلِيعَةً، فَخُذُوا ذَاتَ الْيَمِينِ» فَوَاللهِ مَا شَعَرَ بِهِمْ خَالِدٌ حَتَّى إِذَا هُوَ بِقَتَرَةِ الْجَيْشِ، فَانْطَلَقَ يَرْكُضُ نَذِيرًا لِقُرَيْشٍ، وَسَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالثَّنِيَّةِ الَّتِي يَهْبِطُ عَلَيْهِمْ مِنْهَا بَرَكَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ فَقَالَ النَّاسُ: حَلْ حَلْ، فَقَالُوا: خَلَأَتِ الْقَصْوَاءُ خَلَأَتْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا خَلَأَتِ الْقَصْوَاءُ، وَمَا ذَاكَ لَهَا بِخُلُقٍ، وَلَكِنَّهَا حَبَسَهَا حَابِسُ الْفِيلِ» ثُمَّ قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا يَسْأَلُونِي خُطَّةً يُعَظِّمُونَ فِيهَا حُرُمَاتِ اللهِ إِلَّا أَعْطَيْتُهُمْ إِيَّاهَا» ثُمَّ زَجَرَهَا فَوَثَبَتْ بِهِ فَعَدَلَ عَنْهُمْ، حَتَّى نَزَلَ بِأَقْصَى الْحُدَيْبِيَةِ عَلَى ثَمَدٍ قَلِيلِ الْمَاءِ، إِنَّمَا يَتَبَرَّضُهُ النَّاسُ تَبَرُّضًا، فَلَمْ يُلَبِّثْهُ النَّاسُ أَنْ نَزَحُوهُ، فَشَكَوْا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَطَشَ فَانْتَزَعَ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِهِ، ثُمَّ أَمَرَهُمْ أَنْ يَجْعَلُوهُ فِيهِ، قَالَ: فَوَاللهِ مَا زَالَ يَجِيشُ لَهُمْ بِالرِّيِّ حَتَّى صَدَرُوا عَنْهُ، فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ جَاءَهُمْ بُدَيْلُ بْنُ وَرْقَاءَ الْخُزَاعِيُّ فِي نَفَرٍ مِنْ قَوْمِهِ مِنْ خُزَاعَةَ - وَكَانُوا عَيْبَةَ نُصْحِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ تِهَامَةَ - فَقَالَ: إِنِّي تَرَكْتُ كَعْبَ بْنَ لُؤَيٍّ، وَعَامِرَ بْنَ لُؤَيٍّ نَزَلُوا أَعْدَادَ مِيَاهِ الْحُدَيْبِيَةِ وَمَعَهُمُ الْعُوذُ الْمَطَافِيلُ، وَهُمْ مُقَاتِلُوكَ وَصَادُّوكَ عَنِ الْبَيْتِ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّا لَمْ نَجِئْ لِقِتَالِ أَحَدٍ، وَلَكِنْ جِئْنَا مُعْتَمِرِينَ، وَإِنَّ قُرَيْشًا قَدْ نَهِكَتْهُمُ الْحَرْبُ وَأَضَرَّتْ بِهِمْ، فَإِنْ شَاءُوا مَادَدْتُهُمْ مُدَّةً وَيُخَلُّوا بَيْنِي وَبَيْنَ النَّاسِ، فَإِنْ أَظْهَرْ فَإِنْ شَاؤُوا أَنْ يَدْخُلُوا فِيمَا دَخَلَ فِيهِ النَّاسُ فَعَلُوا، وَإِلَّا فَقَدْ جَمُّوا، وَإِنْ أَبَوْا فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأُقَاتِلَنَّهُمْ عَلَى أَمْرِي هَذَا حَتَّى تَنْفَرِدَ سَالِفَتِي أَوْ لَيُنْفِذَنَّ اللهُ أَمَرَهُ» فَقَالَ بُدَيْلٌ: سَأُبَلِّغُهُمْ مَا تَقُولُ، فَانْطَلَقَ حَتَّى أَتَى قُرَيْشًا فَقَالَ: إِنَّا قَدْ جِئْنَاكُمْ مِنْ عِنْدِ هَذَا الرَّجُلِ، وَسَمِعْنَاهُ يَقُولُ قَوْلًا، فَإِنْ شِئْتُمْ أَنْ نَعْرِضَهُ عَلَيْكُمْ فَعَلْنَا، فَقَالَ سُفهَاؤُهُمْ: لَا حَاجَةَ لَنَا أَنْ تُحَدِّثَنَا عَنْهُ بِشَيْءٍ، وَقَالَ ذُو الرَّأْيِ مِنْهُمْ: هَاتِ مَا سَمِعْتَهُ يَقُولُ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ كَذَا وَكَذَا، فَحَدَّثَهُمْ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَقَامَ عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيُّ فَقَالَ: أَيْ قَوْمِ أَلَسْتُمْ بِالْوَلَدِ؟ قَالُوا: بَلَى، قَالَ: أَوَ لَسْتُ بِالْوَالِدِ؟ قَالُوا: بَلَى، قَالَ: فَهَلْ تَتَّهِمُونِي؟ قَالُوا: لَا، فَقَالَ: أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي اسْتَنْفَرْتُ أَهْلَ عُكَاظٍ، فَلَمَّا بَلَّحُوا عَلَيَّ جِئْتُكُمْ بِأَهْلِي وَوَلَدِي وَمَنْ أَطَاعَنِي؟ قَالُوا: بَلَى، قَالَ: فَإِنَّ هَذَا قَدْ عَرَضَ عَلَيْكُمْ خُطَّةَ رُشْدٍ فَاقْبَلُوهَا وَدَعُونِي آتِهِ، فَقَالُوا: ائْتِهِ، فَأَتَاهُ فَجَعَلَ يُكَلِّمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوًا مِنْ قَوْلِهِ لِبُدَيْلٍ، فَقَالَ عُرْوَةُ عِنْدَ ذَلِكَ: أَيْ مُحَمَّدُ أَرَأَيْتَ إِنِ اسْتَأْصَلْتَ قَوْمَكَ، هَلْ سَمِعْتَ بِأَحَدٍ مِنَ الْعَرَبِ اجْتَاحَ أَهْلَهُ قَبْلَكَ؟ وَإِنْ تَكُنِ الْأُخْرَى فَوَاللهِ إِنِّي لَأَرَى وُجُوهًا وَأَرَى أَوْبَاشًا مِنَ النَّاسِ خَلِيقًا أَنْ يَفِرُّوا وَيَدَعُوكَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: امْصُصْ بَظْرَ اللَّاتِ، نَحْنُ نَفِرُّ وَنَدَعُهُ؟ فَقَالَ: مَنْ ذَا؟ قَالَ: أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْلَا يَدٌ لَكَ عِنْدِي لَمْ أَجْزِكَ بِهَا لَأَجَبْتُكَ، قَالَ: وَجَعَلَ يُكَلِّمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكُلَّمَا كَلَّمَهُ أَخَذَ بِلِحْيَتِهِ، وَالْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ قَائِمٌ عَلَى رَأْسِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمِغْفَرِ وَمَعَهُ السَّيْفُ، فَكُلَّمَا أَهْوَى عُرْوَةُ يَدَهُ إِلَى لِحْيَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ يَدَهُ بِنَعْلِ السَّيْفِ، وَقَالَ: أَخِّرْ يَدَكَ عَنْ لِحْيَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَفَعَ عُرْوَةُ رَأْسَهُ فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فَقَالَ: أَيْ غُدَرُ أَوَ لَسْتُ أَسْعَى فِي غَدْرَتِكَ؟ وَكَانَ الْمُغِيرَةُ صَحِبَ قَوْمًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقَتَلَهُمْ، وَأَخَذَ أَمْوَالِهِمْ وَجَاءَ فَأَسْلَمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَّا الْإِسْلَامُ فَأَقْبَلُ، وَأَمَّا الْمَالُ فَلَسْتُ مِنْهُ فِي شَيْءٍ» ثُمَّ إِنَّ عُرْوَةَ جَعَلَ يَرْمُقُ صَحَابَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَيْنَيْهِ فَقَالَ: وَاللهِ مَا تَنَخَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُخَامَةً إِلَّا وَقَعَتْ فِي يَدِ رَجُلٍ مِنْهُمْ، فَدَلَكَ بِهَا وَجْهَهُ وَجِلْدَهُ، وَإِذَا أَمَرَ ابْتَدَرُوا أَمَرَهُ، وَإِذَا تَوَضَّأَ كَادُوا يَقْتَتِلُونَ عَلَى وَضُوئِهِ، وَإِذَا تَكَلَّمَ خَفَضُوا أَصْوَاتَهُمْ عِنْدَهُ، وَمَا يُحِدُّونَ النَّظَرَ إِلَيْهِ تَعْظِيمًا لَهُ، فَرَجَعَ عُرْوَةُ إِلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ: أَيْ قَوْمِ، وَاللهِ لَقَدْ وَفَدْتُ عَلَى الْمُلُوكِ، وَوَفَدْتُ عَلَى قَيْصَرَ، وَكِسْرَى، وَالنَّجَاشِيِّ، وَاللهِ إِنْ رَأَيْتُ مَلِكًا قَطُّ يُعَظِّمُهُ أَصْحَابُهُ مَا يُعَظِّمُ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ مُحَمَّدًا، وَاللهِ إِنْ تَنَخَّمَ نُخَامَةً إِلَّا وَقَعَتْ فِي كَفِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ فَدَلَكَ بِهَا وَجْهَهُ وَجِلْدَهُ، وَإِذَا أَمَرَهُمُ ابْتَدَرُوا أَمَرَهُ، وَإِذَا تَوَضَّأَ كَادُوا يَقْتَتِلُونَ عَلَى وَضُوئِهِ، وَإِذَا تَكَلَّمُوا خَفَضُوا أَصْوَاتَهُمْ عِنْدَهُ، وَمَا يُحِدُّونَ النَّظَرَ إِلَيْهِ تَعْظِيمًا لَهُ، وَإِنَّهُ عَرَضَ عَلَيْكُمْ خُطَّةَ رُشْدٍ فَاقْبَلُوهَا، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي كِنَانَةَ: دَعُونِي آتِهِ، فَقَالُوا: ائْتِهِ، فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذَا فُلَانٌ، وَهُوَ مِنْ قَوْمٍ يُعَظِّمُونَ الْبُدْنَ فَابْعَثُوهَا لَهُ» ، فَبُعِثَتْ لَهُ، وَاسْتَقْبَلَهُ الْقَوْمُ يُلَبُّونَ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَالَ: سُبْحَانَ اللهِ مَا يَنْبَغِي لِهَؤُلَاءِ أَنْ يُصَدُّوا عَنِ الْبَيْتِ، قَالَ: فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى أَصْحَابِهِ قَالَ: رَأَيْتُ الْبُدْنَ قَدْ قُلِّدَتْ وَأُشْعِرَتْ، فَمَا أَرَى أَنْ يُصَدُّوا عَنِ الْبَيْتِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ مِكْرَزُ بْنُ حَفْصٍ: دَعُونِي آتِهِ، قَالُوا: ائْتِهِ، فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذَا مِكْرَزُ بْنُ حَفْصٍ، وَهُوَ رَجُلٌ فَاجِرٌ» ، فَجَعَلَ يُكَلِّمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَيْنَا هُوَ يُكَلِّمُهُ إِذْ جَاءَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو، فَقَالَ: هَاتِ أَكْتُبْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ كِتَابًا، فَدَعَا الْكَاتِبَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اكْتُبْ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ» ، فَقَالَ سُهَيْلٌ: أَمَّا الرَّحْمَنُ فَوَاللهِ مَا أَدْرِي مَا هُوَ، وَلَكِنِ اكْتُبْ: بِاسْمِكَ اللهُمَّ كَمَا كُنْتَ تُكْتَبُ، فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ: وَاللهِ مَا يَكْتُبُهَا إِلَّا بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اكْتُبْ بِاسْمِكَ اللهُمَّ» ، ثُمَّ قَالَ: «هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ..» ، فَقَالَ سُهَيْلٌ: وَاللهِ لَوْ كُنَّا نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللهِ مَا صَدَدْنَاكَ عَنِ الْبَيْتِ وَلَا قَاتَلْنَاكَ، وَلَكِنِ اكْتُبْ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَاللهِ إِنِّي لِرَسُولُ اللهِ وَإِنْ كَذَّبْتُمُونِي، اكْتُبْ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ" قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَى أَنْ تُخَلُّوا بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْبَيْتِ فَنَطُوفَ بِهِ» ، فَقَالَ سُهَيْلٌ: وَاللهِ لَا تَتَحَدَّثُ الْعَرَبُ أَنَّنَا أُخِذْنَا ضَغْطَةً، وَلَكِنْ لَكَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ، فَكَتَبَ فَقَالَ سُهَيْلٌ: وَعَلَى أَنْ لَا يَأْتِيَكَ مِنَّا رَجُلٌ، وَإِنْ كَانَ عَلَى دِينِكَ، إِلَّا رَدَدْتَهُ إِلَيْنَا، فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ: سُبْحَانَ اللهِ كَيْفَ يُرَدُّ إِلَى الْمُشْرِكِينَ وَقَدْ جَاءَ مُسْلِمًا؟ فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ جَاءَ أَبُو جَنْدَلِ بْنُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو يَرْسُفُ فِي قُيُودِهِ، قَدْ خَرَجَ مِنْ أَسْفَلِ مَكَّةَ حَتَّى رَمَى بِنَفْسِهِ بَيْنَ أَظْهُرِ الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ سُهَيْلٌ: هَذَا يَا مُحَمَّدُ أَوَّلُ مَنْ أُقَاضِيكَ عَلَيْهِ أَنْ تَرُدَّهُ إِلَيَّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّا لَمْ نَقْضِ الْكِتَابَ بَعْدُ» قَالَ: فَوَاللهِ إِذًا لَمْ أُصَالِحْكَ عَلَى شَيْءٍ أَبَدًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَأَجِزْهُ لِي» ، فَقَالَ: مَا أَنَا بِمُجِيزِهِ لَكَ، قَالَ: «بَلَى فَافْعَلْ» ، قَالَ: مَا أَنَا بِفَاعِلٍ، قَالَ مِكْرَزٌ: بَلَى، قَدْ أَجَزْنَاهُ لَكَ، فَقَالَ أَبُو جَنْدَلٍ: أَيْ مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ، أُرَدُّ إِلَى الْمُشْرِكِينَ وَقَدْ جِئْتُ مُسْلِمًا؟ أَلَا تَرَوْنَ إِلَى مَا قَدْ لَقِيتُ؟ - وَكَانَ قَدْ عُذِّبَ عَذَابًا شَدِيدًا فِي اللهِ - فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: وَاللهِ مَا شَكَكْتُ مُنْذُ أَسْلَمْتُ إِلَّا يَوْمَئِذٍ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: أَلَسْتَ نَبِيَّ اللهِ حَقًّا؟ قَالَ: «بَلَى» ، قُلْتُ: أَلَسْنَا عَلَى الْحَقِّ وَعَدُوُّنَا عَلَى الْبَاطِلِ؟ قَالَ: «بَلَى» ، قُلْتُ: فَلِمَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا إِذًا؟ قَالَ: «إِنِّي لِرَسُولُ اللهِ، وَلَسْتُ أَعْصِيهِ، وَهُوَ نَاصِرِي» ، قُلْتُ: أَوَ لَيْسَ كُنْتَ تُحَدِّثُنَا أَنَّا سَنَأْتِي الْبَيْتَ فَنَطُوفَ بِهِ؟ قَالَ: «بَلَى، فَأَخْبَرْتُكَ أَنَّكَ تَأْتِيهِ الْعَامَ؟» قُلْتُ: لَا، قَالَ: «فَإِنَّكَ آتِيَهِ، وَمُطَّوِّفٌ بِهِ» ، قَالَ: فَأَتَيْتُ أَبَا بَكْرٍ فَقُلْتُ: يَا أَبَا بَكْرٍ أَلَيْسَ هَذَا نَبِيَّ اللهِ حَقًّا؟ قَالَ: بَلَى، قُلْتُ: أَلَيْسَ نَحْنُ عَلَى الْحَقِّ وَعَدُوُّنَا عَلَى الْبَاطِلِ؟ قَالَ: بَلَى، قُلْتُ: فَلِمَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا إِذًا؟ قَالَ: أَيُّهَا الرَّجُلُ إِنَّهُ رَسُولُ اللهِ، وَلَيْسَ يَعْصِي رَبَّهُ، وَهُوَ نَاصِرُهُ، فَاسْتَمْسِكْ بِغَرْزِهِ حَتَّى تَمُوتَ، فَوَاللهِ إِنَّهُ لَعَلَى الْحَقِّ، قُلْتُ: أَوَ لَيْسَ كَانَ يُحَدِّثُنَا أَنَّا سَنَأْتِي الْبَيْتَ وَنَطُوفُ بِهِ؟ قَالَ: بَلَى، أفأَخْبَرَكَ أَنَّكَ تَأْتِيهِ الْعَامَ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: فَإِنَّكَ آتِيَهِ وَتَطُوفُ بِهِ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ قَضِيَّةِ الْكِتَابِ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ: «قُومُوا فَانْحَرُوا ثُمَّ احْلِقُوا» ، قَالَ: فَوَاللهِ مَا قَامَ مِنْهُمْ رَجُلٌ حَتَّى قَالَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَلَمَّا لَمْ يَقُمْ مِنْهُمْ أَحَدٌ قَامَ، فَدَخَلَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَذَكَرَ لَهَا مَا لَقِيَ مِنَ النَّاسِ، قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: يَا نَبِيَّ اللهِ أَتُحِبُّ ذَلِكَ؟ اخْرُجْ ثُمَّ لَا تَكَلَّمْ أَحَدًا مِنْهُمْ بِكَلِمَةٍ حَتَّى تَنْحَرَ بُدْنَكَ، وَتَدْعُو حَالِقَكَ فَيَحْلِقَكَ. فَقَامَ فَخَرَجَ فَلَمْ يُكَلِّمْ أَحَدًا مِنْهُمْ حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ، نَحَرَ بُدْنَهُ، وَدَعَا حَالِقَهُ فَحَلَقَهُ، فَلَمَّا رَأَوْا ذَلِكَ قَامُوا فَنَحَرُوا، وَجَعَلَ بَعْضُهُمْ يَحْلِقُ بَعْضًا حَتَّى كَادَ بَعْضُهُمْ يَقْتُلُ بَعْضًا غَمًّا، ثُمَّ جَاءَتْ نِسْوَةٌ مُؤْمِنَاتٌ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ} [الممتحنة: ١٠] حَتَّى بَلَغَ {بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ} [الممتحنة: ١٠] ، فَطَلَّقَ عُمَرُ يَوْمَئِذٍ امْرَأَتَيْنِ كَانَتَا لَهُ فِي الشِّرْكِ، فَتَزَوَّجَ إِحْدَاهُمَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، وَالْأُخْرَى صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ، ثُمَّ رَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَجَاءَ أَبُو بَصِيرٍ - رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ - وَهُوَ مُسْلِمٌ، فَأَرْسَلُوا فِي طَلَبِهِ رَجُلَيْنِ وَقَالُوا: الْعَهْدَ الَّذِي جَعَلْتَ لَنَا، فَدَفَعَهُ إِلَى الرَّجُلَيْنِ، فَخَرَجَا حَتَّى إِذَا بَلَغَا بِهِ ذَا الْحُلَيْفَةِ، فَنَزَلُوا يَأْكُلُونَ مِنْ تَمْرٍ لَهُمْ، فَقَالَ أَبُو بَصِيرٍ لِأَحَدِ الرَّجُلَيْنِ: وَاللهِ إِنِّي لَأَرَى سَيْفَكَ هَذَا يَا فُلَانُ جَيِّدًا فَاسْتَلَّهُ الْآخَرُ فَقَالَ: أَجَلْ وَاللهِ إِنَّهُ لَجَيِّدٌ، لَقَدْ جَرَّبْتُ بِهِ ثُمَّ جَرَّبْتُ، فَقَالَ أَبُو بَصِيرٍ: أَرِنِي أَنْظُرْ إِلَيْهِ، فَأَمْكَنَهُ مِنْهُ فَضَرَبَهُ بِهِ حَتَّى بَرَدَ، وَفَرَّ الْآخَرُ حَتَّى أَتَى الْمَدِينَةَ، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ يَعْدُو، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَآهُ: «لَقَدْ رَأَى هَذَا ذُعْرًا» ، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قُتِلَ وَاللهِ صَاحِبِي، وَإِنِّي لَمَقْتُولٌ، فَجَاءَ أَبُو بَصِيرٍ فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ، قَدْ وَاللهِ أَوْفَى اللهُ ذِمَّتَكَ، قَدْ رَدَدْتَنِي إِلَيْهِمْ ثُمَّ أَنْجَانِيَ اللهُ مِنْهُمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَيْلُ أُمِّهِ مِسْعَرُ حَرْبٍ لَوْ كَانَ لَهُ أَحَدٌ» فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ عَرَفَ أَنَّهُ سَيَرُدُّهُ إِلَيْهِمْ، فَخَرَجَ حَتَّى أَتَى سِيفَ الْبَحْرِ، قَالَ: وَيَنْفَلِتُ مِنْهُمْ أَبُو جَنْدَلِ بْنُ سُهَيْلٍ، فَلَحِقَ بِأَبِي بَصِيرٍ، فَجَعَلَ لَا يَخْرُجُ مِنْ قُرَيْشٍ رَجُلٌ قَدْ أَسْلَمَ إِلَّا لَحِقَ بِأَبِي بَصِيرٍ، حَتَّى اجْتَمَعَ مِنْهُمْ عِصَابَةٌ، قَالَ: فَوَاللهِ مَا سَمِعُوا بِعِيرٍ خَرَجَتْ لِقُرَيْشٍ إِلَى الشَّامِ إِلَّا اعْتَرَضُوا لَهَا فَقَتَلُوهُمْ وَأَخَذُوا أَمْوَالَهُمْ، فَأَرْسَلَتْ قُرَيْشٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُنَاشِدُهُ بِاللهِ وَالرَّحِمِ إِلَّا أَرْسَلَ إِلَيْهِمْ: فَمَنْ أَتَاهُ فَهُوَ آمِنٌ، فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ} [الفتح: ٢٤] ، حَتَّى بَلَغَ {حَمِيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ} [الفتح: ٢٦] ، وَكَانَتْ قُرَيْشٌ حَمِيَّتُهُمْ أَنَّهُمْ لَمْ يُقِرُّوا أَنَّهُ نَبِيُّ اللهِ، وَلَمْ يُقِرُّوا بِبِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، وَحَالُوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ
سیدنا مسور بن مخرمہ اور مروان بن حکم رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، اور دونوں ایک دوسرے کی تصدیق کرتے ہیں، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمانۂ حدیبیہ میں اپنے صحابہ میں سے تیرہ سو سے انیس سو کے درمیان افراد کے ساتھ روانہ ہوئے۔ جب وہ ذوالحلیفہ پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے جانوروں کو قِلادہ پہنایا اور ان پر نشان لگایا، پھر عمرے کا احرام باندھا، اور اپنے آگے خزاعہ کے ایک جاسوس کو بھیجا تاکہ وہ آپ کو قریش کی خبر دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے یہاں تک کہ جب غدیرِ اَشطاط پر، عسفان کے قریب، پہنچے تو خزاعی جاسوس آپ کے پاس آیا اور کہا: میں کعب بن لؤی اور عامر بن لؤی کو اس حال میں چھوڑ آیا ہوں کہ انہوں نے آپ کے خلاف احابیش جمع کر لیے ہیں، اور آپ کے خلاف لشکر اکٹھے کر لیے ہیں، اور وہ آپ سے لڑیں گے اور آپ کو بیت الحرام سے روکیں گے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے مشورہ دو، کیا تمہاری رائے یہ ہے کہ میں ان لوگوں کی اولاد و اہل خانہ کی طرف رخ کروں جنہوں نے ان کی مدد کی ہے اور انہیں اپنا نشانہ بنا لوں؟ اگر وہ بیٹھے رہیں تو وہ نقصان اٹھائے ہوئے اور لُٹے ہوئے بیٹھیں گے، اور اگر وہ آئیں تو ان کی گردن ہو گی جسے اللہ کاٹ دے گا۔ یا تمہاری رائے یہ ہے کہ ہم بیت اللہ کا رخ کریں، پھر جو ہمیں اس سے روکے ہم اس سے لڑیں؟“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ جاننے والے ہیں، اے اللہ کے نبی! ہم تو عمرہ کرنے آئے ہیں، ہم کسی سے لڑنے نہیں آئے، لیکن جو ہمارے اور بیت اللہ کے درمیان حائل ہو گا ہم اس سے لڑیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر چلو۔“ چنانچہ وہ چلے، یہاں تک کہ جب وہ راستے میں تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خالد بن ولید غمیم میں قریش کے سواروں کے ساتھ ہمارا راستہ دیکھ رہا ہے، تو تم دائیں طرف کا راستہ اختیار کرو۔“ اللہ کی قسم! خالد کو ان کا علم اس وقت ہوا جب اس نے لشکر کا غبار دیکھا، تو وہ دوڑتا ہوا قریش کو خبردار کرنے گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے یہاں تک کہ جب اس گھاٹی پر پہنچے جہاں سے وہ اتر کر مکہ کی طرف جاتے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری بیٹھ گئی۔ لوگوں نے کہا: چل چل۔ لوگوں نے کہا: قصویٰ اڑ گئی ہے، اڑ گئی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قصویٰ نہیں اڑی، اور یہ اس کی عادت نہیں، بلکہ اسے اسی نے روکا ہے جس نے ہاتھی کو روکا تھا۔“ پھر فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، وہ مجھ سے کوئی ایسی بات نہیں مانگیں گے جس میں وہ اللہ کی حرمتوں کی تعظیم کرتے ہوں مگر میں انہیں وہ دے دوں گا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جھڑکا تو وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر ان سے ہٹ گئی، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے آخری کنارے پر ایک ایسے کنویں کے پاس اترے جس میں تھوڑا پانی تھا، لوگ اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نکالتے تھے۔ لوگوں نے تھوڑی ہی دیر میں اسے خشک کر دیا، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیاس کی شکایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ترکش سے ایک تیر نکالا، پھر انہیں حکم دیا کہ اسے اس کنویں میں ڈال دیں۔ راوی کہتے ہیں: اللہ کی قسم! وہ ان کے لیے پانی سے بھرتا رہا یہاں تک کہ وہ سب سیراب ہو کر واپس لوٹے۔ وہ اسی حال میں تھے کہ ان کے پاس بدیل بن ورقاء خزاعی اپنی قوم خزاعہ کے کچھ لوگوں کے ساتھ آیا - اور یہ لوگ تہامہ کے رہنے والوں میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خیرخواہ تھے - اس نے کہا: میں نے کعب بن لؤی اور عامر بن لؤی کو دیکھا کہ وہ حدیبیہ کے پانیوں کے کناروں پر اترے ہوئے ہیں، ان کے ساتھ دودھ پلانے والی اونٹنیاں بھی ہیں، اور وہ آپ سے لڑیں گے اور آپ کو بیت اللہ سے روکیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم کسی سے لڑنے نہیں آئے، بلکہ ہم عمرہ کرنے آئے ہیں، اور قریش کو جنگ نے کمزور اور نقصان زدہ کر دیا ہے، اگر وہ چاہیں تو میں ان سے کچھ مدت کے لیے صلح کر لیتا ہوں اور وہ مجھے لوگوں کے ساتھ (دعوت دینے) سے روکیں نہیں، پھر اگر میں غالب آ جاؤں تو اگر وہ چاہیں کہ اس دین میں داخل ہو جائیں جس میں لوگ داخل ہوئے ہیں تو ایسا کر لیں، ورنہ (اس مدت میں) انہیں آرام اور قوت حاصل ہو چکی ہو گی۔ اور اگر وہ انکار کریں تو اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں اپنے اس معاملے پر ان سے ضرور لڑوں گا یہاں تک کہ میری گردن الگ ہو جائے یا اللہ اپنا حکم نافذ فرما دے۔“ بدیل نے کہا: میں انہیں آپ کی بات پہنچا دوں گا۔ چنانچہ وہ گیا یہاں تک کہ قریش کے پاس پہنچا اور کہا: ہم اس شخص کے پاس سے آئے ہیں اور ہم نے اسے ایک بات کہتے سنا ہے، اگر تم چاہو تو ہم تمہارے سامنے وہ پیش کر دیں۔ ان میں سے بے وقوف لوگوں نے کہا: ہمیں اس سے کوئی بات سننے کی ضرورت نہیں۔ اور ان میں سے سمجھدار لوگوں نے کہا: جو تم نے اسے کہتے سنا وہ بتاؤ۔ اس نے کہا: میں نے اسے یوں یوں کہتے سنا۔ چنانچہ اس نے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات بتائی۔ تو عروہ بن مسعود ثقفی کھڑا ہوا اور کہا: اے قوم! کیا تم (میری) اولاد نہیں؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ اس نے کہا: کیا میں تمہارا باپ نہیں؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ اس نے کہا: کیا تم مجھ پر کوئی الزام لگاتے ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ اس نے کہا: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میں نے عکاظ والوں سے مدد مانگی تھی، جب وہ میرا ساتھ نہ دے سکے تو میں اپنے اہل و اولاد اور جتنوں نے میری بات مانی انہیں لے کر تمہارے پاس آیا؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ اس نے کہا: تو اس شخص نے تمہارے سامنے ایک درست اور بھلائی کی بات پیش کی ہے، اسے قبول کر لو اور مجھے اس کے پاس جانے دو۔ انہوں نے کہا: جاؤ۔ تو وہ آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرنے لگا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بھی تقریباً وہی بات کہی جو بدیل سے کہی تھی۔ اس پر عروہ نے کہا: اے محمد! تمہارا کیا خیال ہے، اگر تم نے اپنی قوم کو جڑ سے اکھاڑ دیا، تو کیا تم نے عربوں میں سے کسی ایسے شخص کے بارے میں سنا ہے جس نے تم سے پہلے اپنے ہی خاندان کا ستیاناس کر دیا ہو؟ اور اگر دوسری صورت ہوئی تو اللہ کی قسم، میں کچھ ایسے چہرے دیکھ رہا ہوں اور لوگوں کا ایک ایسا ملا جلا ہجوم دیکھ رہا ہوں جن سے یہی توقع ہے کہ وہ بھاگ جائیں گے اور تمہیں چھوڑ دیں گے۔ اس پر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: لات (بت) کی شرمگاہ چوسو! کیا ہم بھاگ جائیں گے اور انہیں چھوڑ دیں گے؟ عروہ نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: ابوبکر ہیں۔ اس نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تیرا مجھ پر ایک احسان نہ ہوتا جس کا میں نے بدلہ نہیں دیا تو میں تجھے جواب دیتا۔ راوی کہتے ہیں: پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرنے لگا، اور جب بھی وہ بات کرتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈاڑھی پکڑ لیتا، اور سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر خود اور تلوار لیے کھڑے تھے، تو جب بھی عروہ اپنا ہاتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈاڑھی کی طرف بڑھاتا، وہ اس کے ہاتھ پر تلوار کے میان سے مارتے اور کہتے: اپنا ہاتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈاڑھی سے ہٹاؤ۔ عروہ نے سر اٹھا کر پوچھا: یہ کون ہے؟ کہا گیا: یہ مغیرہ بن شعبہ ہیں۔ اس نے کہا: اے دھوکے باز! کیا میں تیری دھوکہ دہی کا خمیازہ نہیں بھگت رہا؟ - اور مغیرہ جاہلیت میں کچھ لوگوں کے ساتھ رہے تھے، پھر انہیں قتل کر کے ان کے مال لے لیے تھے، پھر آ کر مسلمان ہو گئے تھے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام تو میں قبول کرتا ہوں، لیکن اس مال سے میرا کوئی تعلق نہیں۔“ - پھر عروہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے لگا، تو کہنے لگا: اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی تھوکتے تو وہ ان میں سے کسی شخص کے ہاتھ میں گرتا، تو وہ اسے اپنے چہرے اور جسم پر مل لیتا، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی حکم دیتے تو وہ اس پر لپکتے، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے پانی پر لڑنے کے قریب ہو جاتے، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گفتگو کرتے تو وہ اپنی آوازیں پست کر دیتے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نظر جما کر نہیں دیکھتے تھے۔ تو عروہ اپنے ساتھیوں کی طرف واپس گیا اور کہا: اے قوم! اللہ کی قسم! میں بادشاہوں کے دربار میں گیا ہوں، میں قیصر، کسریٰ اور نجاشی کے دربار میں گیا ہوں، اللہ کی قسم! میں نے کوئی ایسا بادشاہ نہیں دیکھا جس کی تعظیم اس کے ساتھی اتنی کرتے ہوں جتنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی ان کی تعظیم کرتے ہیں۔ اللہ کی قسم! وہ جب بھی تھوکتے تو وہ ان میں سے کسی شخص کی ہتھیلی میں گرتا، تو وہ اسے اپنے چہرے اور جسم پر مل لیتا، اور جب وہ انہیں کوئی حکم دیتے تو وہ اس پر لپکتے، اور جب وہ وضو کرتے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے پانی پر لڑنے کے قریب ہو جاتے، اور جب وہ گفتگو کرتے تو وہ اپنی آوازیں پست کر دیتے، اور آپ کی تعظیم کی وجہ سے آپ کی طرف نظر جما کر نہیں دیکھتے تھے۔ اور بے شک اس شخص نے تمہارے سامنے ایک درست بات پیش کی ہے، اسے قبول کر لو۔ تو بنو کنانہ میں سے ایک شخص نے کہا: مجھے اس کے پاس جانے دو۔ انہوں نے کہا: جاؤ۔ جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے سامنے آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ فلاں ہے، اور یہ ایسی قوم میں سے ہے جو قربانی کے جانوروں کی تعظیم کرتی ہے، تو انہیں اس کی طرف بھیج دو۔“ چنانچہ انہیں اس کی طرف بھیجا گیا، اور لوگ تلبیہ کہتے ہوئے اس کے سامنے آئے، جب اس نے یہ دیکھا تو کہا: سبحان اللہ! ان لوگوں کو بیت اللہ سے روکنا مناسب نہیں۔ راوی کہتے ہیں: جب وہ اپنے ساتھیوں کی طرف واپس گیا تو کہا: میں نے قربانی کے جانوروں کو دیکھا کہ ان کے گلے میں پٹے ڈالے گئے ہیں اور ان پر نشان لگائے گئے ہیں، تو میرا خیال نہیں کہ انہیں بیت اللہ سے روکا جائے۔ تو ان میں سے مکرز بن حفص نامی ایک شخص نے کہا: مجھے اس کے پاس جانے دو۔ انہوں نے کہا: جاؤ۔ جب وہ ان کے سامنے آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ مکرز بن حفص ہے، اور یہ بدکار آدمی ہے۔“ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرنے لگا، وہ اسی حال میں تھا کہ سہیل بن عمرو آ گیا، اس نے کہا: لاؤ، میں ہمارے اور تمہارے درمیان ایک تحریر لکھوں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کاتب کو بلایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لکھو: بسم اللہ الرحمن الرحیم۔“ سہیل نے کہا: رہا رحمن تو اللہ کی قسم مجھے معلوم نہیں یہ کیا ہے، بلکہ یوں لکھو: باسمک اللھم، جیسا تم پہلے لکھا کرتے تھے۔ مسلمانوں نے کہا: اللہ کی قسم! وہ صرف بسم اللہ الرحمن الرحیم ہی لکھیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لکھو: باسمک اللھم۔“ پھر فرمایا: ”یہ وہ چیز ہے جس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح کی۔“ سہیل نے کہا: اللہ کی قسم! اگر ہم جانتے کہ تم اللہ کے رسول ہو تو نہ ہم تمہیں بیت اللہ سے روکتے اور نہ تم سے لڑتے، لیکن یوں لکھو: محمد بن عبداللہ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں اللہ کا رسول ہوں خواہ تم مجھے جھٹلاؤ، لکھو: محمد بن عبداللہ۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شرط پر کہ تم ہمارے اور بیت اللہ کے درمیان سے ہٹ جاؤ تاکہ ہم اس کا طواف کریں۔“ سہیل نے کہا: اللہ کی قسم! عرب یہ بات نہیں کریں گے کہ ہمیں دباؤ میں لے کر مجبور کیا گیا، لیکن تمہارے لیے آئندہ سال کا وعدہ ہے۔ چنانچہ اس نے لکھ دیا۔ سہیل نے مزید کہا: اور اس شرط پر کہ ہم میں سے کوئی شخص تمہارے پاس نہ آئے، خواہ وہ تمہارے دین پر ہو، مگر تم اسے ہماری طرف واپس کر دو گے۔ مسلمانوں نے کہا: سبحان اللہ! مشرکوں کی طرف کیسے واپس کیا جائے حالانکہ وہ مسلمان ہو کر آیا ہے؟ وہ اسی حال میں تھے کہ سہیل بن عمرو کا بیٹا ابوجندل اپنی بیڑیوں میں لڑکھڑاتا ہوا آیا، وہ مکہ کے نچلے حصے سے نکل کر مسلمانوں کے درمیان آ گرا تھا۔ سہیل نے کہا: اے محمد! یہ پہلا شخص ہے جس کے بارے میں میں تم سے یہ شرط طے کرتا ہوں کہ تم اسے میری طرف واپس کرو گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم نے ابھی تحریر مکمل نہیں کی۔“ سہیل نے کہا: اللہ کی قسم! پھر میں تم سے کبھی کسی چیز پر صلح نہیں کروں گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اسے میری خاطر چھوڑ دو۔“ اس نے کہا: میں اسے تمہاری خاطر نہیں چھوڑوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، ایسا ہی کرو۔“ اس نے کہا: میں ایسا نہیں کروں گا۔ مکرز نے کہا: ہاں، ہم نے اسے تمہاری خاطر چھوڑ دیا۔ ابوجندل نے کہا: اے مسلمانو کی جماعت! کیا مجھے مشرکوں کی طرف واپس کیا جائے گا حالانکہ میں مسلمان ہو کر آیا ہوں؟ کیا تم نہیں دیکھتے میں کس حال میں ہوں؟ - اور اسے اللہ کی راہ میں سخت اذیت دی گئی تھی - تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! جب سے میں مسلمان ہوا ہوں مجھے سوائے اس دن کے کبھی شک نہیں ہوا۔ تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: کیا آپ اللہ کے سچے نبی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں۔“ میں نے عرض کیا: کیا ہم حق پر اور ہمارا دشمن باطل پر نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں۔“ میں نے عرض کیا: تو پھر ہم اپنے دین کے معاملے میں یہ ذلت کیوں قبول کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اللہ کا رسول ہوں، اور میں اس کی نافرمانی نہیں کرتا، اور وہ میرا مددگار ہے۔“ میں نے عرض کیا: کیا آپ نے ہمیں یہ نہیں بتایا تھا کہ ہم بیت اللہ آئیں گے اور اس کا طواف کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں، لیکن کیا میں نے تمہیں بتایا تھا کہ تم اسی سال آؤ گے؟“ میں نے عرض کیا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو تم ضرور وہاں آؤ گے اور اس کا طواف کرو گے۔“ راوی کہتے ہیں: پھر میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: اے ابوبکر! کیا یہ اللہ کے سچے نبی نہیں؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ میں نے کہا: کیا ہم حق پر اور ہمارا دشمن باطل پر نہیں؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ میں نے کہا: تو پھر ہم اپنے دین کے معاملے میں یہ ذلت کیوں قبول کریں؟ انہوں نے کہا: اے آدمی! وہ اللہ کے رسول ہیں، اور وہ اپنے رب کی نافرمانی نہیں کرتے، اور وہ ان کا مددگار ہے، تو ان کی رکاب مضبوطی سے تھامے رکھو یہاں تک کہ تم مر جاؤ، اللہ کی قسم! وہ حق پر ہیں۔ میں نے کہا: کیا وہ ہمیں یہ نہیں بتاتے تھے کہ ہم بیت اللہ آئیں گے اور اس کا طواف کریں گے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، لیکن کیا انہوں نے تمہیں بتایا کہ تم اسی سال آؤ گے؟ میں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے کہا: تو تم ضرور وہاں آؤ گے اور اس کا طواف کرو گے۔ راوی کہتے ہیں: جب تحریر کا معاملہ مکمل ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: ”کھڑے ہو کر قربانی کرو، پھر سر منڈواؤ۔“ راوی کہتے ہیں: اللہ کی قسم! ان میں سے کوئی شخص نہیں کھڑا ہوا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین بار فرمائی، جب ان میں سے کوئی نہ اٹھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود اٹھے، اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، اور انہیں لوگوں کی طرف سے جو صورتحال پیش آئی تھی وہ بتائی۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا آپ یہ چاہتے ہیں؟ آپ باہر نکلیں، پھر ان میں سے کسی سے ایک لفظ بھی بات نہ کریں یہاں تک کہ آپ اپنی قربانی نحر کر لیں، اور اپنے حجام کو بلائیں تاکہ وہ آپ کا سر منڈوا دے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور باہر نکلے اور ان میں سے کسی سے بات نہیں کی یہاں تک کہ یہ سب کر لیا، اپنی قربانی نحر کی، اور اپنے حجام کو بلایا تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر منڈوا دیا۔ جب انہوں نے یہ دیکھا تو وہ کھڑے ہوئے اور قربانی کرنے لگے، اور ایک دوسرے کے سر منڈانے لگے، یہاں تک کہ غم کی وجہ سے قریب تھا کہ وہ ایک دوسرے کو قتل کر ڈالیں۔ پھر کچھ مومن عورتیں آئیں، تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”اے ایمان والو! جب تمہارے پاس مومن عورتیں ہجرت کر کے آئیں“ [الممتحنہ: 10] یہاں تک کہ ”کافر عورتوں کی عصمتوں سے“ [الممتحنہ: 10] تک۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس دن اپنی دو بیویوں کو، جو حالتِ شرک میں ان کے نکاح میں تھیں، طلاق دے دی، تو ان میں سے ایک سے سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے اور دوسری سے صفوان بن امیہ نے نکاح کر لیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ واپس تشریف لائے، تو ابوبصیر - قریش کا ایک شخص - آیا جو مسلمان تھا، تو انہوں نے اسے تلاش کرنے کے لیے دو آدمی بھیجے اور کہا: وہ عہد یاد کرو جو تم نے ہمارے لیے کیا ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دونوں آدمیوں کے حوالے کر دیا، وہ اسے لے کر نکلے یہاں تک کہ جب ذوالحلیفہ پہنچے تو اپنی کھجوریں کھانے کے لیے اترے، ابوبصیر نے دونوں آدمیوں میں سے ایک سے کہا: اللہ کی قسم! اے فلاں! میں تمہاری یہ تلوار بہت عمدہ دیکھ رہا ہوں۔ دوسرے نے اسے میان سے نکالا اور کہا: ہاں، اللہ کی قسم یہ عمدہ ہے، میں نے اسے بار بار آزمایا ہے۔ ابوبصیر نے کہا: مجھے دکھاؤ، میں اسے دیکھوں۔ اس نے اسے دے دی، تو اس نے اسے مار کر ٹھنڈا کر دیا۔ دوسرا بھاگ کر مدینہ پہنچا اور دوڑتا ہوا مسجد میں داخل ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھ کر فرمایا: ”اس نے کوئی خوفناک منظر دیکھا ہے۔“ جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو کہا: اللہ کی قسم! میرا ساتھی قتل ہو گیا ہے اور میں بھی قتل ہونے والا ہوں۔ اتنے میں ابوبصیر آ گیا اور کہا: اے اللہ کے نبی! اللہ کی قسم! اللہ نے آپ کا عہد پورا کر دیا، آپ نے مجھے ان کی طرف واپس کر دیا تھا، پھر اللہ نے مجھے ان سے نجات دے دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی ماں پر افسوس! یہ جنگ بھڑکانے والا ہے اگر اس کے ساتھ کوئی اور ہو۔“ جب اس نے یہ سنا تو سمجھ گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے انہیں واپس کر دیں گے، تو وہ نکل کر ساحلِ سمندر پر چلا گیا۔ راوی کہتے ہیں: اور ابوجندل بن سہیل بھی ان سے چھوٹ کر بھاگ نکلا اور ابوبصیر سے جا ملا، پھر قریش میں سے جو بھی مسلمان ہو کر نکلتا وہ ابوبصیر سے جا ملتا، یہاں تک کہ ان میں سے ایک جماعت جمع ہو گئی۔ راوی کہتے ہیں: اللہ کی قسم! جب بھی وہ قریش کا کوئی قافلہ شام جاتے سنتے تو اس کا راستہ روکتے، انہیں قتل کر دیتے اور ان کے مال لے لیتے۔ تو قریش نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پیغام بھیجا اور اللہ اور قرابت کا واسطہ دے کر درخواست کی کہ آپ انہیں بلا لیں، اور کہا: جو بھی آپ کے پاس آئے وہ محفوظ ہو گا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا بھیجا۔ اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”اور وہی ہے جس نے ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے مکہ کے اندر روک دیے“ [الفتح: 24] یہاں تک کہ ”جاہلیت کی حمیت“ [الفتح: 26] تک۔ اور قریش کی حمیت یہ تھی کہ انہوں نے یہ تسلیم نہیں کیا کہ وہ اللہ کے نبی ہیں، اور نہ بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھنے کو تسلیم کیا، اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور بیت اللہ کے درمیان حائل ہو کر روکا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17149]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 9، حدیث 13»
حدیث نمبر: 17150
حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ أَنَّهُمَا قَالَا: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ يُرِيدُ زِيَارَةَ الْبَيْتِ لَا يُرِيدُ قِتَالًا، وَسَاقَ مَعَهُ الْهَدْيَ سَبْعِينَ بَدَنَةً، وَكَانَ النَّاسُ سَبْعَ مِائَةِ رَجُلٍ، فَكَانَتْ كُلُّ بَدَنَةٍ عَنْ عَشَرَةِ نَفَرٍ. قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: قَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ: كُنَّا أَصْحَابَ الْحُدَيْبِيَةِ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً، قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِعُسْفَانَ لَقِيَهُ بِشْرُ بْنُ سُفْيَانَ الْكَعْبِيُّ، فَقَالَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَذِهِ قُرَيْشٌ مَسِيرَكَ، فَخَرَجُوا مَعَهُمُ الْعُوذُ الْمَطَافِيلُ، حَتَّى قِيلَ: قَدْ لَبِسُوا جُلُودَ النُّمُورِ، قَدْ نَزَلُوا بِذِي طُوًى يُعَاهِدُونَ اللهَ لَا تَدْخُلُهَا عَلَيْهِمْ أَبَدًا، وَهَذَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فِي خَيْلِهِمْ، وَقَدْ قَدَّمُوهُ إِلَى كُرَاعِ الْغَمِيمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا وَيْحَ قُرَيْشٍ لَقَدْ أَكَلَتْهُمُ الْحَرْبُ، مَاذَا عَلَيْهِمْ لَوْ خَلُّوا بَيْنِي وَبَيْنَ سَائِرِ الْعَرَبِ؟ فَإِنْ أَصَابُونِي كَانَ الَّذِي أَرَادُوا، وَإِنِ اللهُ أَظْهَرَنِي عَلَيْهِمْ دَخَلُوا فِي الْإِسْلَامِ وافِرِينَ، وَإِنْ لَمْ يَفْعَلُوا قَاتَلُوا وَبِهِمْ قُوَّةٌ، فَمَا تَظُنُّ قُرَيْشٌ؟ فَوَاللهِ لَا أَزَالُ أُجَاهِدُهُمْ عَلَى الَّذِي بَعَثَنِي اللهُ حَتَّى يُظْهِرَنِي اللهُ أَوْ تَنْفِرَ هَذِهِ السَّالِفَةُ» ، ثُمَّ قَالَ: «مَنْ يَخْرُجُ بِنَا عَلَى طَرِيقٍ غَيْرِ طَرِيقِهِمِ الَّذِي هُمْ بِهَا؟» وَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور مروان بن حکم بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے سال بیت اللہ کی زیارت کے ارادے سے نکلے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا لڑائی کا کوئی ارادہ نہیں تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ ستر اونٹ قربانی کے لیے لے گئے، اور لوگوں کی تعداد سات سو تھی، چنانچہ ہر اونٹ دس آدمیوں کی طرف سے تھا۔ ابن اسحاق کہتے ہیں: سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ہم حدیبیہ کے موقع پر چودہ سو تھے۔ زہری کہتے ہیں: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے، یہاں تک کہ جب عسفان پہنچے تو بشر بن سفیان کعبی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے، اور عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ قریش آپ کے سفر کی خبر پا چکے ہیں، وہ دودھ پلانے والی اونٹنیوں سمیت نکل آئے ہیں، یہاں تک کہ کہا جانے لگا کہ انہوں نے چیتوں کی کھالیں پہن رکھی ہیں، وہ ذی طویٰ میں اتر چکے ہیں، اللہ سے عہد کر رہے ہیں کہ وہ آپ کو کبھی اس میں داخل نہیں ہونے دیں گے، اور یہ خالد بن ولید ہے جو ان کے سواروں میں شامل ہے، انہوں نے اسے کراع الغمیم تک آگے بھیج دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”افسوس ہے قریش پر! جنگ نے انہیں کھا لیا ہے، انہیں کیا نقصان ہوتا اگر وہ مجھے باقی عربوں کے ساتھ چھوڑ دیتے؟ اگر وہ مجھے پا لیتے تو یہی وہ چاہتے تھے، اور اگر اللہ مجھے ان پر غالب کر دے تو وہ پوری تعداد میں اسلام میں داخل ہو جائیں گے، اور اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو وہ لڑیں گے جبکہ ان میں طاقت موجود ہے، تو قریش کا کیا گمان ہے؟ اللہ کی قسم! میں اس چیز کے لیے جس کے ساتھ اللہ نے مجھے بھیجا ہے، ان سے جہاد کرتا رہوں گا یہاں تک کہ اللہ مجھے غالب کر دے یا یہ گردن الگ ہو جائے۔“ پھر فرمایا: ”کون ہمیں ان کے راستے کے علاوہ کسی اور راستے سے لے جائے گا جس پر وہ ہیں؟“
راوی نے معمر کی زہری سے روایت کے مانند مزید حدیث بیان کی (جیسا کہ اوپر مذکور ہے)۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17150]
راوی نے معمر کی زہری سے روایت کے مانند مزید حدیث بیان کی (جیسا کہ اوپر مذکور ہے)۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17150]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 9، حدیث 14»