🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

205. علي بن الحسين، عن المسور بن مخرمة
علی بن حسین کی سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17154
حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي أُسَامَةَ الْحَلَبِيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي مَنِيعٍ الرُّصَافِيُّ، حَدَّثَنِي جَدِّي، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ، وَعِنْدَهُ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا سَمِعَتْ بِذَلِكَ فَاطِمَةُ أَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ لَهُ: إِنَّ قَوْمَكَ يَتَحَدَّثُونَ أَنَّكَ لَا تَغْضَبُ لِبَنَاتِكَ، وَهَذَا عَلِيٌّ نَاكِحًا بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ، قَالَ الْمِسْوَرُ: فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَسَمِعْتُهُ تَشَهَّدَ ثُمَّ قَالَ: «أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي أَنْكَحْتُ أَبَا الْعَاصِ بْنَ الرَّبِيعِ فَحَدَّثَنِي فَصَدَقَنِي، وَإِنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ بَضْعَةٌ مِنِّي، وَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ تَفْتِنُوهَا، وَإِنَّهَا وَاللهِ لَا تَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَابْنَةُ عَدُوِّ اللهِ عِنْدَ رَجُلٍ وَاحِدٍ أَبَدًا» قَالَ: فَتَرَكَ عَلِيٌّ الْخِطْبَةَ
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی بیٹی کو نکاح کا پیغام بھیجا، جبکہ سیدہ فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے نکاح میں تھیں۔ جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے یہ سنا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: آپ کی قوم میں یہ باتیں ہو رہی ہیں کہ آپ اپنی بیٹیوں کے معاملے میں غصہ نہیں کرتے، اور یہ علی ہیں جو ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کر رہے ہیں۔ مسور کہتے ہیں: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تشہد پڑھتے سنا، پھر فرمایا: ”امابعد! میں نے اپنی بیٹی ابوالعاص بن ربیع سے بیاہی تھی، تو اس نے مجھ سے بات کی اور مجھ سے سچ کہا، اور فاطمہ بنت محمد میرا ٹکڑا ہے، اور میں ناپسند کرتا ہوں کہ تم اسے فتنے میں ڈالو، اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی کبھی ایک ہی مرد کے پاس اکٹھی نہیں ہو سکتیں۔“ راوی کہتے ہیں: تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس نکاح کا پیغام ترک کر دیا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17154]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 18، حدیث 18»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17155
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، أَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کا پیغام بھیجا، پھر راوی نے مکمل حدیث بیان کی جیسا کہ اوپر گزر چکی۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17155]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 18، حدیث 19»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17156
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ الدُّؤَلِيِّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ حِينَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ مِنْ عِنْدِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ - مَقْتَلَ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ - لَقِيَهُ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ، فَقَالَ لَهُ: هَلْ لَكَ مِنْ حَاجَةٍ تَأْمُرُنِي بِهَا؟ فَقُلْتُ: لَا، فَقَالَ: هَلْ أَنْتَ مُعْطِيَّيَ سَيْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَغْلِبَكَ الْقَوْمُ عَلَيْهِ، وَأَيْمُ اللهِ لَئِنْ أَعْطَيْتَنِي لَا يُخلَصْ إِلَيْهِ أَبَدًا حَتَّى يَبْلُغَ فِيهِ نَفْسِي، إِنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ عَلَى فَاطِمَةَ، فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ فِي ذَلِكَ عَلَى مِنْبَرِهِ هَذَا - وَأَنَا يَوْمَئِذٍ مُحْتَلِمٌ - وَقَالَ: «إِنَّ فَاطِمَةَ مِنِّي، وَأَنَا أَخَافُ أَنْ تُفْتَتَنَ فِي دِينِهَا» ثُمَّ ذَكَرَ صِهْرَ بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ وَأَثْنَى عَلَى أَبِي الْعَاصِ فِي مُصَاهَرَتِهِ إِيَّاهُ، قَالَ: «فَصَدَقَنِي وَوَعَدَنِي فَوَفَّى لِي، وَإِنِّي لَسْتُ أُحَرِّمُ حَلَالًا وَلَا أُحِلُّ حَرَامًا، وَلَكِنْ وَاللهِ لَا تَجْتَمِعُ بَيْنَ بِنْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَابْنَةِ عَدُوِّ اللهِ»
علی بن حسین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ جب وہ سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی شہادت کے بعد یزید بن معاویہ کے پاس سے مدینہ آئے تو سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ ان سے ملے اور کہا: کیا آپ کو کوئی ضرورت ہے جس کا آپ مجھے حکم دیں؟ میں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے کہا: کیا آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار دیں گے؟ کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ یہ لوگ اس پر آپ سے غالب آ جائیں گے، اور اللہ کی قسم! اگر آپ نے وہ مجھے دے دی تو کوئی کبھی اس تک نہیں پہنچ سکے گا یہاں تک کہ میری جان چلی جائے۔ (پھر کہا:) سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہوتے ہوئے ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کا پیغام بھیجا، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں اپنے اس منبر پر لوگوں سے خطاب کرتے سنا - اور اس دن میں بالغ ہو چکا تھا - آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فاطمہ مجھ سے ہے، اور مجھے خدشہ ہے کہ وہ اپنے دین میں فتنے میں پڑ جائے گی۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبدشمس کی دامادی کا ذکر فرمایا اور اپنی دامادی میں ابوالعاص کی تعریف کی، فرمایا: ”اس نے مجھ سے سچ کہا اور مجھ سے وعدہ کیا تو اسے پورا کیا، اور میں کسی حلال کو حرام اور کسی حرام کو حلال نہیں کرتا، لیکن اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی اکٹھی نہیں ہو سکتیں۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17156]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 19، حدیث 20»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17157
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، أَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ رَاشِدٍ يُحَدِّثُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ، فأَوْعَدَ النِّكَاحَ، فَأَتَتْ فَاطِمَةُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنَّ قَوْمَكَ يَتَحَدَّثُونَ أَنْ لَا تَغْضَبَ لِبَنَاتِكَ، وَإِنَّ عَلِيًّا خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّمَا فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي، وَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ تُفْتَتَنَ» وَذَكَرَ أَبَا الْعَاصِ بْنَ الرَّبِيعِ فَأَحْسَنَ عَلَيْهِ الثَّنَاءَ، وَقَالَ: «إِنَّهُ لَا يَجْمَعُ بَيْنَ بِنْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ ابْنَةِ عَدُوِّ اللهِ»
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی بیٹی کو نکاح کا پیغام بھیجا اور نکاح کا وعدہ کر لیا، تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: آپ کی قوم کہتی ہے کہ آپ اپنی بیٹیوں کے معاملے میں غصہ نہیں کرتے، اور علی نے ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کا پیغام بھیجا ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا کی، پھر فرمایا: ”فاطمہ تو میرا ٹکڑا ہے، اور میں ناپسند کرتا ہوں کہ وہ فتنے میں پڑے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوالعاص بن ربیع کا ذکر کیا اور ان کی بہت اچھی تعریف کی، اور فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی کو (ایک نکاح میں) جمع نہیں کیا جا سکتا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17157]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 19، حدیث 21»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں