🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

215. ذكر مشاهد معاذ وسنه ووفاته ومن أخباره
سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے غزوات، عمر، وفات اور دیگر احوال کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17181
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَزْرَقُ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُوقَةَ قَالَ: أَتَيْتُ نُعَيْمَ بْنَ أَبِي هِنْدٍ، فَأَخْرَجَ إِلَيَّ صَحِيفَةً، فَإِذَا فِيهَا: مِنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: سَلَامٌ عَلَيْكَ، أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّا عَهِدْنَاكَ وَأَمْرُ نَفْسِكَ لَكَ مُهِمٌّ، فَأَصْبَحَتَ قَدْ وَلَّيْتَ أَمْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَحْمَرِهَا وَأَسْوَدِهَا، يَجْلِسُ بَيْنَ يَدَيْكَ الْوَضِيعُ وَالشَّرِيفُ، وَالْعَدُوُّ وَالصَّدِيقُ، وَلِكُلٍّ حِصَّتُهُ مِنَ الْعَدْلِ، فَانْظُرْ كَيْفَ أَنْتَ عِنْدَ ذَلِكَ يَا عُمَرُ، فَإِنَّا نُحَذِّرُكَ يَوْمًا تَعْنِي فِيهِ الْوُجُوهُ، وَتَجِفُّ فِيهِ الْقُلُوبُ، وَتَنْقَطِعُ فِيهِ الْحُجَجُ لِحَجَّةِ مَلِكٍ قَدْ قَهَرَهُمْ بِجَبَرُوتِهِ، وَالْخَلْقُ دَاخِرُونَ لَهُ يَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخَافُونَ عَذَابَهُ، وَإِنَّا كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ أَمْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ فِي آخِرِ زَمَانِهَا سَيَرْجِعُ إِلَى أَنْ يَكُونُوا إِخْوَانَ الْعَلَانِيَةِ أَعْدَاءَ السَّرِيرَةِ، وَإِنَّا نَعُوذُ بِاللهِ أَنْ يَنْزِلَ كِتَابُنَا سِوَى الْمَنْزِلِ الَّذِي نَزَلَ مِنْ قُلُوبِنَا، فَإِنَّا إِنَّمَا كَتَبْنَا بِهِ نَصِيحَةً لَكَ، وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ، فَكَتَبَ إِلَيْهِمَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِي اللهُ عَنْهُ:" مِنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ، وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهماُ، سَلَامٌ عَلَيْكُمَا، أَمَّا بَعْدُ، أَتَانِي كِتَابُكُمَا تَذْكُرَانِ أَنَّكُمَا عَهِدْتُمَانِي وَأَمَرُ نَفْسِي لِي مُهِمٌّ، فَأَصْبَحَتُ قَدْ وُلِّيتُ أَمَرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَحْمَرِهَا وَأَسْوَدِهاَ، يَجْلِسُ بَيْنَ يَدَيَّ الشَّرِيفُ وَالْوَضِيعُ وَالْعَدُوُّ وَالصَّدِيقُ، وَلِكُلٍّ حِصَّةٌ مِنَ الْعَدْلِ، كَتَبْتُمَا: فَانْظُرْ كَيْفَ أَنْتَ عِنْدَ ذَلِكَ يَا عُمَرُ، وَإِنَّهُ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ لَهُمْ عِنْدَ ذَلِكَ إِلَّا بِاللهِ، وَكَتَبْتُمَا تُحَذِّرَانِي مَا حُذِّرَتْ مِنْهُ الْأُمَمُ قَبْلِنَا وَقَدِيمًا، وَإِنَّ اخْتِلَافَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ بِآجَالِ النَّاسِ يُقَرِّبَانِ كُلَّ بَعِيدٍ، وَيَأْتِيَانِ بِكُلِّ جَدِيدٍ، وَيَأْتِيَانِ بِكُلِّ مَوْعُودٍ حَتَّى يَصِيرَ النَّاسُ إِلَى مَنَازِلِهِمْ مِنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، كَتَبْتُمَا تُحَذِّرَانِي أَنَّ أَمَرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ سَيَرْجِعُ فِي آخِرِ زَمَانِهَا إِلَى أَنْ يَكُونُوا إِخْوَانَ الْعَلَانِيَةِ أَعْدَاءَ السَّرِيرَةِ، وَلَسْتُمْ بِأُولَئِكَ وَلَيْسَ هَذَا بِزَمَانِ ذَلِكَ، وَذَلِكَ زَمَانٌ تَظْهَرُ فِيهِ الرَّغْبَةُ وَالرَّهْبَةُ، يَكُونُ رَغْبَةُ بَعْضِ النَّاسِ إِلَى بَعْضٍ لِصَلَاحِ دُنْيَاهُمْ، كَتَبْتُمَا تَعُوذَانِ بِاللهِ أَنْ أُنْزِلَ كِتَابَكُمَا سِوَى الْمَنْزِلِ الَّذِي نَزَلَ مِنْ قُلُوبِكُمَا، وَأَنَّكُمَا كَتَبْتُمَا بِهِ نَصِيحَةً لِي، وَقَدْ صَدَقْتُمَا، فَلَا تَدَعَا الْكِتَابَ إِلَيَّ فَإِنَّهُ لَا غِنَى بِي عَنْكُمَا وَالسَّلَامُ عَلَيْكُمَا"
محمد بن سوقہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نعیم بن ابی ہند رحمہ اللہ کے پاس آیا تو انہوں نے میرے سامنے ایک تحریر نکالی، اس میں یہ لکھا تھا: ابوعبیدہ بن جراح اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما کی طرف سے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے نام: آپ پر سلامتی ہو، امابعد: ہم نے آپ کو ایسے دیکھا تھا کہ آپ کو اپنی ذات کا معاملہ ہی اہم لگتا تھا، اور آج آپ اس امت کے سرخ و سیاہ تمام لوگوں کے معاملات کے والی بن چکے ہیں، آپ کے سامنے ادنیٰ اور شریف، دشمن اور دوست سب بیٹھتے ہیں، اور ہر ایک کا عدل میں حصہ ہے، تو دیکھیے اے عمر! آپ اس معاملے میں کہاں کھڑے ہیں، ہم آپ کو اس دن سے ڈراتے ہیں جس میں چہرے جھکے ہوئے ہوں گے، دل خشک ہو جائیں گے، اور دلیلیں کٹ جائیں گی سوائے اس بادشاہ کی حجت کے جس نے اپنے جبروت سے انہیں مغلوب کر رکھا ہو گا، اور مخلوق اس کے سامنے عاجز ہو گی، اس کی رحمت کی امید رکھتی اور اس کے عذاب سے ڈرتی ہو گی، اور ہم بات کیا کرتے تھے کہ اس امت کا معاملہ آخری زمانے میں یہ ہو جائے گا کہ وہ ظاہر میں بھائی اور دل میں دشمن ہوں گے، اور ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں کہ ہمارا یہ خط اس جگہ سے ہٹ کر کہیں اور اترے جہاں سے یہ ہمارے دلوں سے اترا ہے، ہم نے تو یہ خط صرف آپ کی خیرخواہی کے لیے لکھا ہے، اور آپ پر سلامتی ہو۔ تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو لکھا: سیدنا عمر بن خطاب کی طرف سے ابوعبیدہ بن جراح اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما کے نام: تم دونوں پر سلامتی ہو، امابعد: مجھے تمہارا خط ملا جس میں تم یاد دلا رہے ہو کہ تم نے مجھے ایسا دیکھا تھا کہ مجھے اپنی ذات کا معاملہ ہی اہم لگتا تھا، اور آج میں اس امت کے سرخ و سیاہ تمام لوگوں کے معاملات کا والی بن چکا ہوں، میرے سامنے شریف اور ادنیٰ، دشمن اور دوست سب بیٹھتے ہیں، اور ہر ایک کا عدل میں حصہ ہے، تم نے لکھا: تو دیکھو اے عمر! تم اس معاملے میں کہاں کھڑے ہو - اور بے شک اس معاملے میں انہیں اللہ کے سوا کوئی طاقت و قوت نہیں - اور تم نے مجھے اس سے ڈرایا جس سے ہم سے پہلی امتیں قدیم سے ڈرائی جاتی رہی ہیں، اور بے شک رات اور دن کا بدلتے رہنا لوگوں کی اجلوں کے ساتھ ہر دور کی چیز کو قریب کر دیتا ہے اور ہر نئی چیز کو لے آتا ہے، اور ہر وعدہ کیا ہوا معاملہ لے آتا ہے یہاں تک کہ لوگ جنت یا جہنم میں اپنے اپنے ٹھکانوں تک پہنچ جاتے ہیں، تم نے مجھے یہ کہہ کر ڈرایا کہ اس امت کا معاملہ آخری زمانے میں یہ ہو جائے گا کہ وہ ظاہر میں بھائی اور دل میں دشمن ہوں گے، حالانکہ تم وہ لوگ نہیں ہو اور نہ یہ وہ زمانہ ہے، وہ ایسا زمانہ ہو گا جس میں رغبت اور خوف ظاہر ہوں گے، لوگوں کی ایک دوسرے کی طرف رغبت صرف دنیاوی مصلحت کے لیے ہو گی۔ تم نے لکھا کہ تم اللہ کی پناہ مانگتے ہو کہ میں تمہارا خط اس جگہ سے ہٹ کر کہیں اور اتاروں جہاں سے وہ تمہارے دلوں سے اترا، اور تم نے یہ خط میری خیرخواہی کے لیے لکھا، اور تم نے سچ کہا، تو تم خط لکھنا بند نہ کرنا، کیونکہ مجھے تم دونوں سے کوئی بے نیازی نہیں، اور تم دونوں پر سلامتی ہو۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17181]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 32، حدیث 45»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17182
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، أَنَا أَبُو حَازِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ يَرْبُوعٍ، عَنْ مَالِكِ الدَّارِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، أَخَذَ أَرْبَعَمِائَةِ دِينَارٍ فَجَعَلَهَا فِي صُرَّةٍ، فَقَالَ لِلْغُلَامِ: «اذْهَبْ بِهِمْ إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ، ثُمَّ تَلَّهُ سَاعَةً فِي الْبَيْتِ سَاعَةً حَتَّى تَنْظُرَ مَا يَصْنَعُ، فَذَهَبَ بِهَا الْغُلَامُ إِلَيْهِ» فَقَالَ: يَقُولُ لَكَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ: اجْعَلْ هَذِهِ فِي بَعْضِ حَاجَتِكَ، فَقَالَ: وَصَلَهُ اللهُ وَرَحِمَهُ، ثُمَّ قَالَ: تَعَالِي يَا جَارِيَةُ، اذْهَبِي بِهَذِهِ السَّبْعَةِ إِلَى فُلَانٍ، وَبِهَذِهِ الْخَمْسَةِ إِلَى فُلَانٍ، حَتَّى أَنْفَذَهَا، فَرَجَعَ الْغُلَامُ، وَأَخْبَرَهُ فَوَجَدَهُ قَدْ أَعَدَّ مِثْلَهَا إِلَى مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ فَقَالَ: «اذْهَبْ بِهَذَا إِلَى مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَتَلَّهُ فِي الْبَيْتِ حَتَّى تَنْظُرَ مَا يَصْنَعُ» ، فَذَهَبَ بِهَا إِلَيْهِ فَقَالَ: يَقُولُ لَكَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ: اجْعَلْ هَذَا فِي بَعْضِ حَاجَتِكَ، فَقَالَ: رَحِمَهُ اللهُ وَوَصَلَهُ، تَعَالِي يَا جَارِيَةُ، اذْهَبِي إِلَى بَيْتِ فُلَانٍ بِكَذَا، وَاذْهَبِي إِلَى بَيْتِ فُلَانٍ بِكَذَا، فَاطَّلَعَتِ امْرَأَةُ مُعَاذٍ فَقَالَتْ: نَحْنُ وَاللهِ مَسَاكِينُ، فَأَعْطِنَا، وَلَمْ يَبْقَ فِي الْخِرْقَةِ إِلَّا دِينَارَانِ، فَدَحَا بِهِمَا إِلَيْهَا، وَرَجَعَ الْغُلَامُ إِلَى عُمَرَ، فَأَخْبَرَهُ وَسُرَّ بِذَلِكَ، وَقَالَ: «إِنَّهُمْ إِخْوَةٌ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ»
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے چار سو دینار لے کر ایک تھیلی میں رکھے، پھر غلام سے کہا: ”یہ لے جا کر ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو دے دو، پھر گھر میں کچھ دیر ٹھہرو تاکہ دیکھو وہ کیا کرتے ہیں۔“ چنانچہ غلام وہ لے کر ان کے پاس گیا، اس نے کہا: امیر المؤمنین فرماتے ہیں کہ اسے اپنی کسی ضرورت میں استعمال کریں۔ انہوں نے کہا: اللہ انہیں نوازے اور ان پر رحم کرے۔ پھر کہا: آؤ اے باندی! یہ سات دینار فلاں کے پاس لے جاؤ، اور یہ پانچ فلاں کے پاس، یہاں تک کہ وہ سب خرچ کر دیے۔ غلام واپس آیا اور انہیں بتایا، تو انہوں نے پایا کہ انہوں نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے لیے بھی اتنی ہی رقم تیار کر رکھی تھی، تو کہا: ”یہ لے جا کر معاذ بن جبل کو دو اور گھر میں ٹھہرو تاکہ دیکھو وہ کیا کرتے ہیں۔“ چنانچہ وہ لے کر ان کے پاس گیا، اس نے کہا: امیر المؤمنین فرماتے ہیں کہ اسے اپنی کسی ضرورت میں استعمال کریں۔ انہوں نے کہا: اللہ ان پر رحم کرے اور انہیں نوازے۔ آؤ اے باندی! فلاں کے گھر اتنے دینار لے جاؤ، اور فلاں کے گھر اتنے لے جاؤ۔ اتنے میں سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی بیوی جھانکنے لگیں اور کہا: اللہ کی قسم ہم بھی مسکین ہیں، ہمیں بھی دیجیے، اور تھیلی میں صرف دو دینار باقی رہ گئے تھے، تو انہوں نے وہ بھی انہیں دے دیے۔ غلام سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس واپس آیا اور انہیں بتایا، تو وہ اس پر خوش ہوئے اور فرمایا: ”یہ لوگ ایک دوسرے کے سگے بھائیوں جیسے ہیں۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17182]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 33، حدیث 46»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17183
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَزْرَقُ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، وَغَيْرِهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «إِنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِلَّهِ حَنِيفًا، وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ» ، فَقَالَ بَعْضُ جُلَسَائِهِ لَهُ: إِنَّ إِبْرَاهِيمَ فَقَالَ: «إِنِّي لَمْ أَنَسَ» ، ثُمَّ قَالَ: «تَدْرُونَ مَا الْأُمَّةُ؟» فَقَالُوا: لَا، قَالَ: «الَّذِي يُعَلِّمُ النَّاسَ الْخَيْرَ» قَالَ: هَلْ تَدْرُونَ مَا الْقَانِتُ؟ قَالُوا: لَا، قَالَ: «الْمُطِيعُ لِلَّهِ»
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ایک امت (اپنی ذات میں مجسم خیر)، اللہ کے فرمانبردار اور یکسو تھے، اور مشرکین میں سے نہ تھے۔ ان کے ہم نشینوں میں سے کسی نے کہا: یہ الفاظ تو ابراہیم علیہ السلام کے لیے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا: میں بھولا نہیں ہوں۔ پھر فرمایا: کیا تم جانتے ہو ”امت“ کا مطلب کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: نہیں۔ فرمایا: جو لوگوں کو بھلائی سکھائے۔ پھر فرمایا: کیا تم جانتے ہو ”قانت“ کا مطلب کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: نہیں۔ فرمایا: اللہ کا فرمانبردار۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17183]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 34، حدیث 47»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17184
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ مُوسَى شِيرَانَ الرَّامْهُرْمَزِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَوْنَ بْنَ بَكْرٍ الرَّاسِبِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: كَانَ مُعَاذٌ إِذَا تَهَجَّدَ مِنَ اللَّيْلِ قَالَ: «اللهُمَّ قَدْ نَامَتِ الْعُيُونُ، وَغَارَتِ النُّجُومُ، وَأَنْتَ حَيٌّ قَيُّومٌ، اللهُمَّ طَلَبِي لِلْجَنَّةِ بَطِيءٌ، وَهَرَبِي مِنَ النَّارِ ضَعِيفٌ، اللهُمَّ اجْعَلْ لِي عِنْدَكَ هُدًى تَرُدُّهُ إِلَيَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ»
ثور بن یزید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ جب رات کو تہجد پڑھتے تو یہ دعا کرتے: ”اے اللہ! آنکھیں سو گئیں، ستارے ڈوب گئے، اور تو زندہ اور قائم رہنے والا ہے، اے اللہ! میری جنت کی طلب سست ہے، اور جہنم سے میرا بھاگنا کمزور ہے، اے اللہ! میرے لیے اپنے پاس ایک ہدایت مقرر فرما جو تو مجھے قیامت کے دن لوٹا دے، بے شک تو وعدہ خلافی نہیں کرتا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17184]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 34، حدیث 48»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17185
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ مُوسَى شِيرَانُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، وَمَعَهُ أَصْحَابُهُ يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ وَيُوَدِّعُونَهُ، فَقَالَ:" إِنِّي مُوصِيكَ بِأَمْرَيْنِ إِنْ حَفِظْتَهُمَا حُفِظْتَ: إِنَّهُ لَا غِنًى بِكَ عَنْ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا، وَأَنْتَ إِلَى نَصِيبِكَ مِنَ الْآخِرَةِ أَفْقَرُ، فَآثِرْ نَصِيبَكَ مِنَ الْآخِرَةِ عَلَى نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا حَتَّى تَنْتَظِمَهُ لَكَ انْتَظَامًا فتزولَ بِهِ مَعَكَ أَيْنَمَا زُلْتَ"
محمد بن سیرین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اس کے ساتھی بھی تھے جو انہیں سلام کر رہے تھے اور رخصت کر رہے تھے، تو معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تجھے دو باتوں کی وصیت کرتا ہوں، اگر تو انہیں یاد رکھے تو محفوظ رہے گا: تجھے دنیا سے اپنے حصے کے بغیر چارہ نہیں، لیکن آخرت میں اپنے حصے کی تجھے زیادہ ضرورت ہے، تو آخرت کے حصے کو دنیا کے حصے پر ترجیح دے یہاں تک کہ تو اسے اپنے لیے اس طرح منظم کر لے کہ وہ تیرے ساتھ ہر جگہ منتقل ہو جہاں تو جائے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17185]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 35، حدیث 49»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17186
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ مُوسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ثنا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا أَشْعَثُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، أُغْمِيَ عَلَيْهِ، فَجَعَلَتْ أُخْتُهُ تَقُولُ: وَاجَبَلَاهُ أَوْ كَلِمَةً أُخْرَى، فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ: «مَا زِلْتِ مُؤْذِيَةً لِي مُنْذُ الْيَوْمِ» قَالَتْ: لَقَدْ كَانَ يَعِزُّ عَلَيَّ أَنْ أُؤْذِيَكَ، قَالَ:" مَا زَالَ مَلَكٌ شَدِيدُ الِانْتِهَارِ كُلَّمَا قُلْتِ: وَاكَذَا قَالَ: أَكَذَلِكَ أَنْتَ؟ فَأَقُولُ لَا"
حسن رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ پر بے ہوشی طاری ہوئی، تو ان کی بہن کہنے لگیں: ہائے جبل، یا اسی طرح کے دوسرے الفاظ، جب وہ ہوش میں آئے تو فرمایا: ”تم آج سے مجھے مسلسل تکلیف پہنچا رہی ہو۔“ انہوں نے کہا: مجھے تو یہ بہت گراں گزرتا کہ میں تمہیں تکلیف دوں۔ انہوں نے فرمایا: ایک سخت ڈانٹنے والا فرشتہ برابر میرے پاس رہا، جب بھی تم ”ہائے فلاں“ کہتیں تو وہ کہتا: کیا تم واقعی ایسے ہو؟ تو میں کہتا: نہیں۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17186]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 35، حدیث 50»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17187
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ يُخَامِرَ قَالَ: «رَأَيْتُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ يَقْتُلُ الْقَمْلَ وَالْبَرَاغِيثَ فِي الْمَسْجِدِ»
مالک بن یخامر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو مسجد میں جوئیں اور پسو مارتے دیکھا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17187]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 35، حدیث 51»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں