المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
493. إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم
اسماعیل بن ابی خالد کی قیس بن ابی حازم سے روایات
حدیث نمبر: 18074
حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: مَا سَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّجَّالِ أَحَدٌ أَكْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُهُ، فَقَالَ نَبِيُّ اللهِ: «مَا سُؤَالُكَ عَنْهُ؟ إِنَّهُ لَا يَضُرُّكَ»
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال کے بارے میں کسی نے مجھ سے زیادہ سوال نہیں کیا، تو نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کے بارے میں اتنا کیوں پوچھتے ہو؟ وہ تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 18074]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 400، حدیث 950»
حدیث نمبر: 18075
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: مَا سَأَلَ أَحَدٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُهُ أَنَا عَنْهُ - يَعْنِي الدَّجَّالَ - فَقَالَ: «إِنَّهُ لَا يَضُرُّكَ» ، قُلْتُ: إِنَّهُمْ يَقُولُونَ: إِنَّ مَعَهُ نَهْرًا وَكَذَا، قَالَ: «هُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللهِ مِنْ ذَلِكَ»
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال کے بارے میں مجھ سے زیادہ سوال نہیں کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گا۔“ میں نے عرض کیا: لوگ کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ ایک نہر ہو گی اور ایسا ایسا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اللہ کے نزدیک اس سے کہیں معمولی ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 18075]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 400، حدیث 951»
حدیث نمبر: 18076
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا شِهَابُ بْنُ عَبَّادٍ الْعَبْدِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: مَا سَأَلَ أَحَدٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّجَّالِ أَكْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُهُ فَذَكَرَ نَحْوَهُ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 18076]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 400، حدیث 952»
حدیث نمبر: 18077
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْقَطِرَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: مَا سَأَلَ أَحَدٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّجَّالِ أَكْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُهُ أَنَا، فَقَالَ: «مَا سُؤَالُكَ عَنْهُ؟ إِنَّكَ لَا تُدْرِكُهُ، أَمَا إِنَّهُ لَا يَخْرُجُ حَتَّى لَا يُقْسَمَ مِيرَاثٌ، وَلَا يَفْزَعَ لِغَنِيمَةٍ»
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال کے بارے میں مجھ سے زیادہ سوال نہیں کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کے بارے میں اتنا کیوں پوچھتے ہو؟ تم اسے پاؤ گے ہی نہیں، اور وہ اس وقت تک نہیں نکلے گا جب تک میراث تقسیم ہونی بند نہ ہو جائے اور غنیمت کی کوئی فکر نہ رہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 18077]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 401، حدیث 953»
حدیث نمبر: 18078
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، ثنا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي قَيْسٌ، حَدَّثَنِي الْمُغِيرَةُ، قَالَ: مَا سَأَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّجَّالِ أَكْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُهُ، وَإِنَّهُ قَالَ لِي: «مَا يَضُرُّكَ مِنْهُ؟» قُلْتُ: إِنَّهُمْ يَقُولُونَ مَعَهُ جَبَلُ خُبْزٍ، وَنَهَرُ مَاءٍ، قَالَ: «هُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللهِ مِنْ ذَلِكَ»
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال کے بارے میں مجھ سے زیادہ سوال نہیں کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اس سے تمہیں کیا نقصان؟“ میں نے عرض کیا: لوگ کہتے ہیں اس کے ساتھ روٹی کا پہاڑ اور پانی کی نہر ہو گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اللہ کے نزدیک اس سے کہیں معمولی ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 18078]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 401، حدیث 954»
حدیث نمبر: 18079
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، بَلَغَنِي أَنَّ مَعَ الدَّجَّالِ أَنْهَارَ الْمَاءِ، وَجِبَالَ الْخُبْزِ، قَالَ: «هُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللهِ مِنْ ذَلِكَ» ، فَكُنْتُ مِنْ أَكْثَرِ النَّاسِ سُؤَالًا عَنْهُ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ بِالَّذِي يَضُرُّكَ»
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے خبر ملی ہے کہ دجال کے ساتھ پانی کی نہریں اور روٹی کے پہاڑ ہوں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اللہ کے نزدیک اس سے کہیں معمولی ہے۔“ میں لوگوں میں سب سے زیادہ اس کے بارے میں سوال کرتا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”وہ ایسی چیز نہیں جو تمہیں نقصان پہنچائے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 18079]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 401، حدیث 955»
حدیث نمبر: 18080
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، كِلَاهُمَا، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: مَا سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّجَّالِ أَكْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُهُ، فَقَالَ: «يَا بُنَيَّ، وَمَا سَيُصِيبُكَ مِنْهُ؟» قُلْتُ: إِنَّ النَّاسَ يَقُولُونَ: إِنَّ مَعَهُ الطَّعَامَ وَالشَّرَابَ، فَقَالَ: «هُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللهِ مِنْ ذَلِكَ»
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال کے بارے میں کسی نے مجھ سے زیادہ سوال نہیں کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بیٹے! اس سے تمہیں کیا پہنچے گا؟“ میں نے عرض کیا: لوگ کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ کھانا اور پینا ہو گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اللہ کے نزدیک اس سے کہیں معمولی ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 18080]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 401، حدیث 956»
حدیث نمبر: 18081
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: مَا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ عَنِ الدَّجَّالِ أَكْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُهُ، فَقَالَ: «وَمَا تَسْأَلُنِي عَنْهُ؟» قَالَ: قُلْتُ: إِنَّ النَّاسَ يَقُولُونَ: إِنَّ مَعَهُ جُنَّةً وَنَارًا وَالطَّعَامَ وَالشَّرَابَ، فَقَالَ: «هُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللهِ مِنْ ذَلِكَ»
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال کے بارے میں مجھ سے زیادہ سوال نہیں کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے بارے میں کیا پوچھتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: لوگ کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ جنت اور جہنم اور کھانا پینا ہو گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اللہ کے نزدیک اس سے کہیں معمولی ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 18081]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 402، حدیث 957»
حدیث نمبر: 18082
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْأَنْمَاطِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: مَا سَأَلَ أَحَدٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّجَّالِ أَكْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُهُ، فَقَالَ: «مَا يُنْصِبُكَ مِنْهُ تَسْأَلُ عَنْهُ؟ إِنَّهُ لَا يَضُرُّكَ» ، فَقُلْتُ: إِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ مَعَهُ الْأَنْهَارَ وَالطَّعَامَ، فَقَالَ: «هُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللهِ مِنْ ذَلِكَ»
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال کے بارے میں مجھ سے زیادہ سوال نہیں کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کیا تکلیف دیتی ہے کہ اس کے بارے میں سوال کرتے ہو؟ وہ تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گا۔“ میں نے عرض کیا: لوگ کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ نہریں اور کھانا ہو گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اللہ کے نزدیک اس سے کہیں معمولی ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 18082]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 402، حدیث 958»
حدیث نمبر: 18083
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، ثنا إِسْمَاعِيلُ، ثنا قَيْسٌ قَالَ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَنْ يَزَالَ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى النَّاسِ، حَتَّى يَأْتِيَهُمُ اللهُ وَهُمْ ظَاهِرُونَ»
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں سے کچھ لوگ ہمیشہ لوگوں پر غالب رہیں گے، یہاں تک کہ اللہ (کا حکم) ان کے پاس آئے گا اور وہ اسی حالت میں غالب ہوں گے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 18083]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 402، حدیث 959»