المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
501. عامر الشعبي، عن المغيرة
عامر شعبی کی سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 18111
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّهُ «قَامَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ فَسَبَّحُوا بِهِ فَلَمْ يَجْلِسْ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ التَّسْلِيمِ» ، ثُمَّ قَالَ: «هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ پہلی دو رکعتوں میں (تشہد کے لیے بیٹھے بغیر) کھڑے ہو گئے، لوگوں نے ”سبحان اللہ“ کہہ کر انہیں متوجہ کیا مگر وہ نہیں بیٹھے، پھر جب انہوں نے اپنی نماز پوری کر لی تو سلام کے بعد سجدہ سہو کے دو سجدے کیے، پھر فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کیا تھا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 18111]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 411، حدیث 987»
حدیث نمبر: 18112
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي لَيْلَى، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَشَهَّدَ، لَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ»
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ سہو کے دونوں سجدوں سے سر اٹھانے کے بعد تشہد پڑھا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 18112]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 412، حدیث 988»
حدیث نمبر: 18113
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ طَرِيفٍ، وَعَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبْجَرَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ - رَفَعَهُ ابْنُ أَبْجَرَ وَلَمْ يَرْفَعْهُ مُطَرِّفٌ - قَالَ:" قَالَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ: يَا رَبِّ أَخْبِرْنِي عَنْ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً، قَالَ: نَعَمْ هُوَ رَجُلٌ يَجِيءُ بَعْدَمَا نَزَلَ النَّاسُ مَنَازِلَهُمْ وَأَخَذُوا أَخَذَاتِهِمْ، فَيُقَالُ لَهُ: ادْخُلِ الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، وَكَيْفَ أَدْخُلُهَا وَقَدْ نَزَلَ النَّاسُ مَنَازِلَهُمْ، وَأَخَذُوا أَخَذَاتِهِمْ؟ فَقَالَ: أَمَا تَرْضَى أَنْ يَكُونَ لَكَ مِثْلُ مَا كَانَ لِمَلِكٍ مِنَ الْمُلُوكِ فِي الدُّنْيَا؟ فَيَقُولُ: رَضِيتُ رَبِّي، فَيَقُولُ: إِنَّ لَكَ مِثْلَهُ وَمِثْلَهُ وَمِثْلَهُ - وَعَقَدَ سُفْيَانُ أَصَابِعَهُ الْخَمْسَ - فَيَقُولُ: رَضِيتُ رَبِّي، فَيَقُولُ: إِنَّ لَكَ هَذَا وَمَا اشْتَهَتْ نَفْسُكَ وَلَذَّتْ عَيْنُكَ، فَيَقُولُ: رَضِيتُ رَبِّي، قَالَ مُوسَى: يَا رَبِّ فَأَخْبِرْنِي عَنْ أَعْلَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً، قَالَ: نَعَمْ أُولَئِكَ أَرَدْتَ وَسَأُخْبِرُكَ عَنْهُمْ، غَرَسْتُ كَرَامَتَهُمْ بِيَدِي، وَخَتَمْتُ عَلَيْهَا فَلَمْ تَرَ عَيْنٌ، وَلَمْ تَسْمَعْ أُذُنٌ، وَلَا يَخْطُرُ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ" وَمِصْدَاقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللهِ: {فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيَنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ} [السجدة: ١٧]
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (ابن ابجر نے اسے مرفوعاً یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے طور پر بیان کیا اور مطرف نے مرفوعاً بیان نہیں کیا) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا: اے میرے رب! مجھے جنتیوں میں سب سے کم درجے والے کے بارے میں بتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہاں، وہ ایک آدمی ہے جو (سب) لوگوں کے اپنے اپنے مقامات پر اتر جانے اور اپنے اپنے حصے لے لینے کے بعد آئے گا، تو اس سے کہا جائے گا: جنت میں داخل ہو جاؤ۔ وہ کہے گا: اے میرے رب! میں کیسے داخل ہوں جبکہ لوگ اپنے مقامات پر اتر چکے اور اپنے حصے لے چکے ہیں؟ تو اس سے کہا جائے گا: کیا تم اس پر راضی نہیں کہ تمہیں دنیا کے بادشاہوں میں سے کسی بادشاہ جیسا (ملک) دیا جائے؟ وہ کہے گا: میں راضی ہوں، اے میرے رب! تو اس سے کہا جائے گا: تمہیں اس جیسا، اور اس جیسا، اور اس جیسا (بھی) ملے گا۔ (سفیان رحمہ اللہ نے اپنی پانچوں انگلیاں بند کر کے اشارہ کیا۔) وہ کہے گا: میں راضی ہوں، اے میرے رب! تو اس سے کہا جائے گا: یہ (سب کچھ) اور اس کے ساتھ وہ بھی جو تمہارا دل چاہے اور تمہاری آنکھ کو بھلا لگے، تمہارے لیے ہے۔ وہ کہے گا: میں راضی ہوں، اے میرے رب! موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا: اے میرے رب! مجھے جنتیوں میں سب سے بلند درجے والے کے بارے میں بھی بتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہاں، تم نے انہی کے بارے میں پوچھا ہے، اور میں تمہیں ان کے بارے میں بتاتا ہوں: میں نے اپنے ہاتھ سے ان کی عزت افزائی کی چیز بوئی اور اس پر مہر لگا دی، جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا، اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال آیا۔“ اور اس کی تصدیق اللہ کی کتاب میں یوں ہے: ”پس کسی کو معلوم نہیں کہ ان کے اعمال کے بدلے میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا کچھ چھپا کر رکھا گیا ہے۔“ [سورۃ السجدۃ: 17] [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 18113]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 412، حدیث 989»
حدیث نمبر: 18114
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ، وَهُوَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَقُولُ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ، «فَانْطَلَقَ لِحَاجَةٍ، فَاتَّبَعْتُهُ بِإِدَاوَةٍ، فَأَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنْ جُبَّةٍ عَلَيْهِ ضَيِّقَةُ الْكُمَّيْنِ، فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ تَحْتِهَا فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ»
شعبی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے مغیرہ رضی اللہ عنہ کو منبر پر خطبہ دیتے ہوئے سنا، وہ فرما رہے تھے: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوے میں نکلے، ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے، تو میں ایک برتن پانی لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسا جبہ پہن رکھا تھا جس کی آستینیں تنگ تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اس کے نیچے سے نکالے، پھر اپنا چہرہ اور ہاتھ دھوئے، اپنے سر کا مسح کیا اور اپنے موزوں پر مسح فرمایا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 18114]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 413، حدیث 990»
حدیث نمبر: 18115
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ، ثَنَا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، قَالُوا , ثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: قِيلَ لِلْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ: مِنْ أَيْنَ كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُفَّانِ؟ قَالَ: «أَهْدَاهُمَا لَهُ دِحْيَةُ الْكَلْبِيُّ»
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو موزے کہاں سے ملے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ”یہ دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیہ کیے تھے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 18115]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 413، حدیث 991»
حدیث نمبر: 18116
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، وَثَنًا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ قَالَا , ثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا حَدَّثَ الشَّعْبِيُّ، بِحَدِيثِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ قُلْتُ: يَا أَبَا عَمْرٍو , وَمِنْ أَيْنَ كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُفَّانِ؟ قَالَ: أَهْدَاهُمَا لَهُ دِحْيَةُ الْكَلْبِيُّ"
ابواسحاق شیبانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: جب شعبی نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث بیان کی کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح فرمایا، تو میں نے عرض کیا: اے ابوعمرو! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو موزے کہاں سے ملے تھے؟ انہوں نے کہا: ”یہ دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیہ کیے تھے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 18116]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 413، حدیث 992»
حدیث نمبر: 18117
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، ثَنَا هُشَيْمٌ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، وَمُحَاضِرُ بْنُ الْمُوَرِّعِ , كُلُّهُم , عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: «كُنْتُ فِيمَنْ حَفَرَ قَبْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» قَالَ:" فَلَحَدْنَا لَهُ لَحْدًا , فَلَمَّا أُدْخِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَبْرَ طَرَحْتُ الْفَأْسَ ثُمَّ قُلْتُ: الْفَأْسَ الْفَأْسَ , فَنَزَلَتُ فَوَضَعْتُ يَدَي عَلَى اللَّحْدِ" وَكَانَ يَقُولُ الْمُغِيرَةُ: «أَنَا أَقْرَبُ النَّاسِ عَهْدًا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: ”میں ان لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کھودی۔“ فرماتے ہیں: ”ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے لحد بنائی، پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر میں اتارا گیا تو میں نے کدال گرا دی، پھر کہا: کدال، کدال (مجھے دے دو)، چنانچہ میں (قبر میں) اتر گیا اور اپنا ہاتھ لحد پر رکھا۔“ اور مغیرہ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: ”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (آخری وقت) رہنے کے اعتبار سے لوگوں میں سب سے زیادہ قریب ہوں۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 18117]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 414، حدیث 993»
حدیث نمبر: 18118
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ مُسَاوِرٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ عِنْدَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ: صَلَّى الله عَلَى مُحَمَّدٍ خَاتَمِ الْأَنْبِيَاءِ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ , فَقَالَ الْمُغِيرَةُ:" حَسْبُكَ أَنْ تَقُولَ: خَاتَمِ الْأَنْبِيَاءِ , فَإِنَّا كُنَّا نُحَدَّثُ أَنَّ عِيسَى بْنَ مَرْيَمَ خَارِجٌ , فَإِنْ كَانَ خَارِجًا فَقَدْ كَانَ قَبْلَهُ وَبَعْدَهُ"
شعبی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص نے کہا: ”اللہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمت نازل فرمائے جو خاتم الانبیاء ہیں، ان کے بعد کوئی نبی نہیں۔“ اس پر مغیرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تمہارے لیے صرف ’خاتم الانبیاء‘ کہنا کافی ہے، کیونکہ ہمیں یہ بتایا جاتا تھا کہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام (دوبارہ) تشریف لانے والے ہیں، پس اگر وہ تشریف لائیں تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے بھی تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی (آئیں گے)۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 18118]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 414، حدیث 994»