المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. عائشة بنت أبي بكر الصديق " زوج رسول الله صلى الله عليه وسلم، كناها رسول الله صلى الله عليه وسلم أم عبد الله بن الزبير، وأم عائشة، وأخيها عبد الرحمن، أم رومان بنت عامر بن عويمر بن عبد شمس بن عبد مناف بن أذينة بن سبيع بن رهمان بن الحارث بن عبد بن مالك — باب
سیدہ عائشہ بنت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما، رسول اللہ ﷺ کی زوجہ (رسول اللہ ﷺ نے انہیں عبداللہ بن زبیر کی خالہ ہونے کے سبب ام عبداللہ کی کنیت دی؛ سیدہ عائشہ اور ان کے بھائی عبدالرحمٰن کی والدہ ام رومان بنت عامر بن عویمر بن عبدشمس بن عبدمناف بن اذینہ بن سبیع بن رہمان بن حارث بن عبد بن مالک تھیں) — باب
حدیث نمبر: 19379
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" أُعْطِيتُ خِصَالًا مَا أُعْطِيَتْهَا امْرَأَةٌ: مَلَكَنِي وَأَنَا بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ، وَأَتَاهُ الْمَلَكُ بِصُورَتِي فِي كَفِّهِ فَنَظَرَ إِلَيْهَا، وَبَنَى بِي وَأَنَا بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ، وَرَأَيْتُ جِبْرِيلَ وَلَمْ تَرَهُ امْرَأَةٌ غَيْرِي، وَكُنْتُ أَحَبَّ نِسَائِهِ إِلَيْهِ، وَكَانَ أَبِي أَحَبَّ أَصْحَابِهِ إِلَيْهِ، وَمَرِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرْضَتَهُ وَلَمْ تَشْهَدْهُ غَيْرِي وَالْمَلَائِكَةُ"
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: مجھے ایسی خصوصیات دی گئیں جو کسی اور عورت کو نہیں دی گئیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے اس وقت نکاح فرمایا جب میری عمر چھ سال تھی، اور فرشتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس میری تصویر اپنی ہتھیلی میں لے کر آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا۔ اور میری رخصتی اس وقت ہوئی جب میری عمر نو سال تھی۔ اور میں نے جبریل علیہ السلام کو دیکھا، حالانکہ میرے سوا کسی اور عورت نے انہیں نہیں دیکھا۔ اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سب سے زیادہ محبوب تھی، اور میرے والد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سب سے زیادہ محبوب تھے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس مرض میں فوت ہوئے، اس میں میرے اور فرشتوں کے سوا کوئی اور موجود نہ تھا۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 19379]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 29، حدیث 74»
حدیث نمبر: 19380
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ دَاوُدَ الصَّوَّافُ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَزِيعٍ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" أُعْطِيتُ سَبْعًا لَمْ يُعْطَهَا نِسَاءُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُنْتُ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيْهِ نَفْسًا وَأَحَبِّ النَّاسِ إِلَيْهِ أَبًا، وَتَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكْرًا، وَلَمْ يَتَزَوَّجْ بِكْرًا غَيْرِي، وَكَانَ جِبْرِيلُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ بِالْوَحْيِ وَأَنَا مَعَهُ فِي لِحَافٍ وَلَمْ يُفْعَلْ ذَلِكَ لِغَيْرِي، وَكَانَ لِي يَوْمَيْنِ وَلَيْلَتَيْنِ، وَكَانَ لِنِسَائِهِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ، وَأَنْزَلَ فِي عُذْرٍ مِنَ السَّمَاءِ كَادَ أَنْ يَهْلِكَ بِي فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، وَقُبِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي"
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: مجھے سات ایسی چیزیں دی گئیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی اور بیوی کو نہیں دی گئیں: میں اپنی ذات کے لحاظ سے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب لوگوں میں سے تھی، اور والد کے لحاظ سے بھی سب سے زیادہ محبوب لوگوں میں سے تھی۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے بحیثیت کنواری نکاح فرمایا، اور میرے سوا کسی کنواری سے نکاح نہیں فرمایا۔ اور جبریل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی لے کر اترتے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک ہی چادر میں ہوتی، اور یہ کسی اور کے ساتھ نہیں کیا گیا۔ اور میرے حصے میں دو دن اور دو راتیں تھیں، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دیگر بیویوں کے حصے میں ایک دن اور ایک رات۔ اور میری براءت آسمان سے نازل ہوئی، جس میں لوگوں کا ایک گروہ میری وجہ سے ہلاک ہوتے ہوتے بچا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح میری چھاتی اور گردن کے درمیان قبض ہوئی۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 19380]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 30، حدیث 75»
حدیث نمبر: 19381
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ السَّرِيِّ بْنِ سَهْلٍ الْقَنْطَرِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ الْكِنْدِيُّ الْقَاضِي، ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ جَدَّتِهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أُعْطِيتُ سِتًّا مَا أُعْطِيَتْهَا امْرَأَةٌ بَعْدَ مَرْيَمَ، لَقَدْ نَزَلَ جِبْرِيلُ بِصُورَتِي فِي رَاحَتِهِ حِينَ أَمَرَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَزَوَّجَنِي، وَلَقَدْ تَزَوَّجَنِي بِكْرًا لَمْ يَتَزَوَّجْ بِكْرًا غَيْرِي، وَلَقَدْ نَزَلَ عُذْرِي مِنَ السَّمَاءِ"، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ مِثْلَهُ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: مجھے چھ ایسی چیزیں دی گئیں جو مریم علیہا السلام کے بعد کسی عورت کو نہیں دی گئیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ آپ مجھ سے نکاح کریں تو جبریل علیہ السلام میری تصویر اپنی ہتھیلی میں لے کر اترے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے بحیثیت کنواری نکاح فرمایا، اور میرے سوا کسی کنواری سے نکاح نہیں فرمایا۔ اور میری براءت آسمان سے نازل ہوئی۔
اور پھر راوی نے وہی حدیث بیان کی جو اس سے ملتی جلتی ہے۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 19381]
اور پھر راوی نے وہی حدیث بیان کی جو اس سے ملتی جلتی ہے۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 19381]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 30، حدیث 76»
حدیث نمبر: 19382
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ، ثنا أَبُو شِهَابٍ، كِلَاهُمَا، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الضَّحَّاكِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «خِلَالٌ فِيَّ سَبْعٌ لَمْ يَكُنْ فِي أَحَدٍ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا أَتَى اللهُ مَرْيَمَ بِنْتَ عِمْرَانَ، وَاللهِ مَا أَقُولُ هَذَا فَخْرًا عَلَى أَحَدٍ مِنْ صَوَاحِبِي» ، فَقَالَ لَهَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَفْوَانَ: وَمَا هُنَّ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَتْ: «نَزَلَ الْمَلَكُ بِصُورَتِي، وَتَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَبْعِ سِنِينَ، وَأُهْدِيتُ إِلَيْهِ لِتِسْعِ سِنِينَ، وَتَزَوَّجَنِي بِكْرًا لَمْ يَشْرُكْهُ فِيَّ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ، وَكَانَ الْوَحْيُ يَأْتِيهِ وَأَنَا وَهُوَ فِي لِحَافٍ وَاحِدٍ، وَكُنْتُ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَيْهِ، وَبِنْتَ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيْهِ، وَقَدْ نَزَلَ فِيَّ آيَاتٍ مِنَ الْقُرْآنِ، وَقَدْ كَادَتِ الْأُمَّةُ تَهْلِكُ فِيَّ وَرَأَيْتُ جِبْرِيلَ وَلَمْ يَرَهُ أَحَدٌ مِنْ نِسَائِهِ غَيْرِي، وَقُبِضَ فِي بَيْتِي لَمْ يَلِهِ أَحَدٌ غَيْرِي وَالْمَلَكُ»
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: مجھ میں سات ایسی خصلتیں ہیں جو مریم بنت عمران علیہا السلام کے سوا کسی عورت میں نہیں تھیں، اور اللہ کی قسم! میں یہ بات اپنی سہیلیوں پر فخر کے طور پر نہیں کہہ رہی۔ اس پر عبداللہ بن صفوان نے پوچھا: اے ام المومنین! وہ کیا ہیں؟ انہوں نے کہا: فرشتہ میری تصویر لے کر اترا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے سات سال کی عمر میں نکاح فرمایا اور نو سال کی عمر میں میری رخصتی ہوئی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے بحیثیت کنواری نکاح فرمایا اور اس میں کوئی اور آپ کا شریک نہ تھا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تو میں اور آپ ایک ہی چادر میں ہوتے۔ اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب تھی، اور اپنے والد کی بیٹی تھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب تھے۔ اور میرے بارے میں قرآن کی آیات نازل ہوئیں۔ اور امت میری وجہ سے ہلاک ہوتے ہوتے بچی۔ اور میں نے جبریل علیہ السلام کو دیکھا، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے میرے سوا کسی نے انہیں نہیں دیکھا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات میرے گھر میں ہوئی، میرے اور فرشتے کے سوا کسی اور نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تیمارداری نہیں کی۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 19382]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 31، حدیث 77»
حدیث نمبر: 19383
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ أَبَا عَمْرٍو ذَكْوَانَ مَوْلَى عَائِشَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ: إِنَّ مِمَّا أَنْعَمَ اللهُ عَلَيَّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «قُبِضَ فِي بَيْتِي، وَيَوْمِي، وَبَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي» ، وَإِنَّ اللهَ جَمَعَ بَيْنَ رِيقِي وَرِيقِهِ عِنْدَ الْمَوْتِ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ أَخِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَأَنَا مُسْنِدَةٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى صَدْرِي وَبِيَدِهِ سِوَاكٌ، فَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: آخُذُهُ لَكَ فَأَوْمَأَ بِرَأْسِهِ أَنْ: نَعَمْ، فَلَيَّنْتُهُ لَهُ، ثُمَّ نَاوَلْتُهُ، فَأَمَرَّهُ عَلَى ثَغْرِهِ وَبَيْنَ يَدَيْهِ رَكْوَةٌ - أَوْ قَالَتْ: - عُلْبَةٌ فِيهَا مَاءٌ فَجَعَلَ يُدْخِلُ يَدَهُ فِيهَا، ثُمَّ يَمْسَحُ بِهَا وَجْهَهُ، وَيَقُولُ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ إِنَّ لِلْمَوْتِ لَسَكَرَاتٍ» ، ثُمَّ يَصُبُّ عَلَى يَدِهِ، ثُمَّ يَقُولُ: «فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى» حَتَّى قُبِضَ وَمَالَتْ يَدُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے غلام ابوعمرو ذکوان بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اللہ نے مجھ پر جو انعامات کیے ان میں سے ایک یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات میرے گھر میں، میرے دن میں، اور میری چھاتی اور گردن کے درمیان ہوئی، اور اللہ نے موت کے وقت میرا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب اکٹھا کر دیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میرا بھائی عبدالرحمن میرے پاس آیا، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے، اور اس کے ہاتھ میں مسواک تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مسواک کو دیکھنے لگے تو میں نے کہا: کیا میں یہ آپ کے لیے لے لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر ہلا کر اشارہ کیا کہ ہاں۔ میں نے اسے نرم کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے دانتوں پر پھیرا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک برتن، یا کہا: ایک پیالہ تھا جس میں پانی تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ہاتھ اس میں ڈالتے پھر اس سے اپنا چہرہ صاف کرتے اور فرماتے: ”اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، بیشک موت کی سختیاں ہوتی ہیں۔“ پھر اپنے ہاتھ پر پانی بہاتے، پھر فرماتے: ”بلند رفیق کے ساتھ“، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح قبض ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ ڈھلک گیا۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 19383]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 31، حدیث 78»
حدیث نمبر: 19384
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «مِنْ نِعْمَةِ اللهِ عَلَيَّ وَبَلَائِهِ الْحَسَنِ عِنْدِي، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُوُفِّيَ فِي بَيْتِي، وَفِي يَوْمِي، وَقُبِضَ بَيْنَ سَحْرِي، وَنَحْرِي، وَجُمِعَ بَيْنَ رِيقِي وَرِيقِهِ فِي الْيَوْمِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ» ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهَا: هَذَا فِي بَيْتِكِ، وَفِي يَوْمِكِ، وَبَيْنَ سَحْرِكِ، وَنَحْرِكِ، فَكَيْفَ جُمِعَ بَيْنَ رِيقِكِ وَرِيقِهِ؟، قَالَتْ: «دَخَلَ عَلَيُّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ غَدَاةَ يَوْمِ الِإثْنَيْنِ وَفِي يَدِهِ سِوَاكٌ رَطْبٌ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاخِصًا بِبَصَرِهِ إِلَيْهِ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُولَعُ بِالسِّوَاكِ» ، فَقُلْتُ: «اقْسِمْهُ وَنَاوِلْنِيهِ» فَقَسَمَهُ بِاثْنَيْنِ وَنَاوَلَنِيهِ، فَمَضَغْتُهُ أُلَيِّنُهُ، ثُمَّ أَدْخَلْتُهُ فِي فِيِّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَسَوَّكَ بِهِ، وَجُمِعَ بَيْنَ رِيقِي وَرِيقِهِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: اللہ نے مجھ پر جو انعام اور اچھی آزمائش کی ان میں سے یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات میرے گھر میں، میرے دن میں ہوئی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح میری چھاتی اور گردن کے درمیان قبض ہوئی، اور جس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اسی دن میرا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب اکٹھا ہوا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے ان سے پوچھا: یہ تو آپ کے گھر، آپ کے دن، اور آپ کی چھاتی و گردن کے درمیان کی بات ہے، مگر آپ کا اور ان کا لعاب کیسے اکٹھا ہوا؟ انہوں نے کہا: پیر کے دن صبح میرے پاس عبدالرحمن بن ابی بکر آیا، اس کے ہاتھ میں ایک تر مسواک تھی، میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر اس پر جمی ہوئی ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کے بہت شوقین تھے۔ میں نے کہا: اسے تقسیم کر کے مجھے دے دو۔ اس نے اسے دو حصوں میں تقسیم کر کے مجھے دے دیا، تو میں نے اسے چبا کر نرم کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ میں ڈال دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے مسواک کی، اور اس طرح میرا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب اکٹھا ہو گیا۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 19384]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 32، حدیث 79»
حدیث نمبر: 19385
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ، صَاحِبُ الْمَغَازِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: وَجِعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ الْيَوْمَ حِينَ رَجَعَ مِنَ الْمَسْجِدِ فَاضْطَجَعَ فِي حِجْرِي، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَجُلٌ مِنْ آلِ أَبِي بَكْرٍ وَفِي يَدِهِ سِوَاكٌ أَخْضَرُ، قَالَتْ: فَنَظَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِهِ نَظَرًا، فَعَرَفْتُ أَنَّهُ يُرِيدُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ تُحِبُّ أَنْ أُعْطِيَكَ هَذَا السِّوَاكَ؟، قَالَ: «نَعَمْ» ، قَالَتْ: فَأَخَذْتُهُ فَمَضَغْتُهُ لَهُ حَتَّى أُلَيِّنَهُ، ثُمَّ أَعْطَيْتُهُ إِيَّاهُ، فَاسْتَنَّ بِهِ كَأَشَدَّ مَا رَأَيْتُهُ يَسْتَنُّ بِسِوَاكٍ قَبْلَهُ، ثُمَّ وَضَعَهُ، وَوَجَدْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَثْقُلُ فِي حِجْرِي، فَذَهَبْتُ أَنْظُرُ فِي وَجْهِهِ فَإِذَا بَصَرُهُ قَدْ شَخَصَ، وَهُوَ يَقُولُ: «بَلِ الرَّفِيقُ الْأَعْلَى مِنَ الْجَنَّةِ» ، فَقُلْتُ: خُيِّرْتَ فَاخْتَرْتَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، قَالَتْ: وَقُبِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: اس دن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد سے واپس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری گود میں لیٹ گئے۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر والوں میں سے ایک آدمی میرے پاس آیا، اس کے ہاتھ میں ایک سبز (تازہ) مسواک تھی۔ وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ہاتھ کی طرف (غور سے) دیکھا تو مجھے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے چاہتے ہیں، تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں یہ مسواک آپ کو دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ میں نے اسے لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چبایا یہاں تک کہ نرم کر دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اتنی زور سے مسواک کی جتنا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے پہلے کبھی مسواک کرتے نہیں دیکھا تھا، پھر اسے رکھ دیا۔ اس کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری گود میں بھاری ہو رہے ہیں، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر ٹھہر گئی تھی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”بلکہ جنت کا بلند رفیق۔“ تو میں نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا! آپ کو اختیار دیا گیا تو آپ نے (اسے) چن لیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 19385]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 32، حدیث 80»
حدیث نمبر: 19386
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا رَبَاحُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قُبِضَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَيَّ فَدَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ وَفِي يَدِهِ سِوَاكٌ، فَدَعَا بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذْتُ السِّوَاكَ فَلَيَّنْتُهُ، ثُمَّ دَفَعْتُهُ إِلَيْهِ فَجَعَلَ يَسْتَنُّ بِهِ، فَثَقُلَتْ يَدُهُ وَثَقُلُ عَلَيَّ، وَهُوَ يَقُولُ: «اللهُمَّ فِي الرَّفِيقِ» الْأَعْلَى، قَالَتْ: ثُمَّ قُبِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: وفات کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پشت مجھ سے ٹیکے ہوئے تھے، اتنے میں عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما آئے، ان کے ہاتھ میں مسواک تھی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مسواک منگوائی، تو میں نے اسے لے کر نرم کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے مسواک کرنے لگے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ بھاری ہو گیا اور مجھ پر بوجھ بن گیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”اے اللہ! بلند رفیق کے ساتھ۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری چھاتی اور گردن کے درمیان تھے۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 19386]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 33، حدیث 81»
حدیث نمبر: 19387
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ الْمِصْرِيَّانِ، قَالَا: ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْجُمَحِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ، تَقُولُ: «تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِي، وَفِي بَيْتِي، وَبَيْنَ سَحْرِي، وَنَحْرِي، وَجَمَعَ اللهُ بَيْنَ رِيقِي وَرِيقِهِ» ، قَالَتْ: «دَخَلَ عَلَيَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بِسِوَاكٍ، فَضَعُفَتْ يَدُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذْتُهُ فَمَضَغْتُهُ، ثُمَّ سَنَنْتُهُ بِهِ»
ابن ابی ملیکہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ فرماتے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات میرے دن میں، میرے گھر میں، اور میری چھاتی اور گردن کے درمیان ہوئی، اور اللہ نے میرا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب اکٹھا کر دیا۔ وہ کہتی ہیں: میرا بھائی عبدالرحمن مسواک لے کر میرے پاس آیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ کمزور پڑ گیا، تو میں نے وہ مسواک لے کر چبائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسواک کرا دی۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 19387]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 33، حدیث 82»
حدیث نمبر: 19388
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ بِنْتِ رِشْدِينَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَاتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ حَافِنَتِي وَدَافِنَتِي، فَلَا أَكْرَهُ شِدَّةَ الْمَوْتِ لِأَحَدٍ أَبَدًا، بَعْدَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَمُوتُ وَعِنْدَهُ قَدَحٌ فِيهِ مَاءٌ، يُدْخِلُ يَدَهُ فِي الْقَدَحِ ثُمَّ يَمْسَحُ وَجْهَهُ بِالْمَاءِ، ثُمَّ يَقُولُ: «اللهُمَّ أَعِنِّي عَلَى سَكَرَاتِ الْمَوْتِ»
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری ٹھوڑی اور حلق کے درمیان (میری آغوش میں) وفات پا گئے، اس لیے اب میں کسی کے لیے بھی موت کی سختی کو کبھی ناپسند نہیں کرتی، اس کے بعد کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح وفات پا رہے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پانی کا ایک پیالہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ہاتھ اس پیالے میں ڈال کر اپنے چہرے پر پانی پھیرتے اور فرماتے: ”اے اللہ! مجھے موت کی سختیوں پر مدد فرما۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 19388]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 34، حدیث 83»