المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. باب نظر عائشة إلى جبريل عليه السلام
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا سیدنا جبریل علیہ السلام کو دیکھنا — باب
حدیث نمبر: 19389
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمَانَ أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْمُؤَدِّبُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرٍ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ، تَقُولُ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا مَعَ صَاحِبِ فَرَسٍ أَبْيَضَ أَخَذَ بِمَعْرِفَةِ فَرَسِهِ، فَلَمَّا أَتَانِي قُلْتُ: مَنْ صَاحِبُ الْفَرَسِ؟ قَالَ: «وَقَدْ رَأَيْتِيهِ؟» ، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «وَمَنْ يُشْبِهُهُ؟» ، قُلْتُ: دِحْيَةُ بْنُ خَلِيفَةَ الْكَلْبِيُّ، قَالَ: «ذَاكَ جِبْرِيلُ وَهُوَ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ» ، قُلْتُ: وَعَلَى مَنْ أَرْسَلَهُ وَعَلَيْكَ وَعَلَيْهِ السَّلَامُ
کثیر مولیٰ عمر بن خطاب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ فرماتے سنا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک سفید گھوڑے والے کے ساتھ کھڑے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے گھوڑے کی ایال پکڑ رکھی تھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں نے پوچھا: گھوڑے والا کون تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے اسے دیکھا؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کس سے مشابہ لگتا تھا؟“ میں نے کہا: دحیہ بن خلیفہ کلبی سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جبریل تھے اور وہ تمہیں سلام کہہ رہے ہیں۔“ میں نے کہا: جس نے انہیں بھیجا اس پر بھی سلام ہو، اور آپ پر اور ان پر بھی سلام ہو۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 19389]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 34، حدیث 84»
حدیث نمبر: 19390
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدَوسِ بْنِ كَامِلٍ السَّرَّاجُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ الْقَطَوَانِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَعُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ رَجُلٌ عَلَى بِرْذَوْنٍ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ قَدْ شَدَّ لَهَا مِنْ خَلْفِهِ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعٌ يَدَهُ عَلَى مَعْرِفَةِ الْبِرْذَوْنِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَنْ هَذَا؟ قَالَ: «وَرَأَيْتِيهِ؟» ، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «مَنْ هُوَ؟» ، قُلْتُ: دِحْيَةُ الْكَلْبِيُّ، قَالَ: «ذَاكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ»
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک آدمی ترکی گھوڑے (برذون) پر سوار تھا جس نے پگڑی باندھ رکھی تھی اور اس کا سرا پیچھے کی طرف لٹکا رکھا تھا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس گھوڑے کی ایال پر رکھا ہوا تھا۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے اسے دیکھا؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کون تھا؟“ میں نے کہا: دحیہ کلبی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جبریل علیہ السلام تھے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 19390]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 35، حدیث 85»
حدیث نمبر: 19391
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، ثنا أَبِي، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَائِشَةُ هَذَا جِبْرِيلُ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ» ، فَقُلْتُ: وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اے عائشہ! یہ جبریل ہیں، تمہیں سلام کہہ رہے ہیں۔“ میں نے کہا: ان پر بھی سلام، اللہ کی رحمت اور برکتیں ہوں۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 19391]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 35، حدیث 86»
حدیث نمبر: 19392
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا: «هَذَا جِبْرِيلُ وَهُوَ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ» ، فَقُلْتُ: وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، تَرَى مَنْ لَا نَرَى
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”یہ جبریل ہیں، تمہیں سلام کہہ رہے ہیں۔“ میں نے کہا: ان پر بھی سلام، اللہ کی رحمت اور برکتیں ہوں۔ آپ وہ دیکھتے ہیں جو ہم نہیں دیکھتے۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 19392]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 36، حدیث 87»
حدیث نمبر: 19393
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذَا جِبْرِيلُ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ» ، فَقُلْتُ: وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جبریل ہیں، تمہیں سلام کہہ رہے ہیں۔“ میں نے کہا: ان پر بھی سلام، اللہ کی رحمت اور برکتیں ہوں۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 19393]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 36، حدیث 88»
حدیث نمبر: 19394
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ كَامِلٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذَا جِبْرِيلُ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ» ، فَقُلْتُ: وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”یہ جبریل ہیں، تمہیں سلام کہہ رہے ہیں۔“ میں نے کہا: ان پر بھی سلام، اللہ کی رحمت اور برکتیں ہوں۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 19394]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 36، حدیث 89»
حدیث نمبر: 19395
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ رَأَيْتُكَ تُكَلِّمُ دِحْيَةَ الْكَلْبِيَّ وَيَدَكَ عَلَى مَعْرِفَةِ الْفَرَسِ، فَقَالَ: «رَأَيْتِيهِ؟» ، فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «ذَاكَ جِبْرِيلُ وَهُوَ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ» ، فَقُلْتُ: وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ مِنْ صَاحِبٍ وَدَخِيلٍ، فَنِعْمَ الصَّاحِبُ وَنِعْمَ الدَّخِيلُ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے آپ کو دحیہ کلبی سے بات کرتے دیکھا جبکہ آپ کا ہاتھ گھوڑے کی ایال پر تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے اسے دیکھا؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جبریل تھے، تمہیں سلام کہہ رہے ہیں۔“ میں نے کہا: ان پر بھی سلام، اللہ کی رحمت اور برکتیں ہوں، کیا ہی اچھے ساتھی اور کیا ہی اچھے راز دار ہیں۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 19395]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 36، حدیث 90»
حدیث نمبر: 19396
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا عَائِشَةُ جِبْرِيلُ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ» ، قُلْتُ: وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! جبریل تمہیں سلام کہہ رہے ہیں۔“ میں نے کہا: ان پر بھی سلام، اللہ کی رحمت اور برکتیں ہوں۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 19396]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 37، حدیث 91»
حدیث نمبر: 19397
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَائِشَةَ: «هَذَا جِبْرِيلُ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ» ، فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ: وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”یہ جبریل ہیں، تمہیں سلام کہہ رہے ہیں۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ان پر بھی سلام، اللہ کی رحمت اور برکتیں ہوں۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 19397]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 37، حدیث 92»
حدیث نمبر: 19398
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا: «جِبْرِيلُ يُقْرِئُكِ مِنْ رَبِّكِ السَّلَامَ» ، قَالَتْ: قُلْتُ: فَلِرَبِّي السَّلَامُ، وَمِنْهُ السَّلَامُ، وَعَلَى جِبْرِيلَ السَّلَامُ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”جبریل تمہیں تمہارے رب کی طرف سے سلام کہہ رہے ہیں۔“ وہ کہتی ہیں: میں نے کہا: میرے رب کے لیے سلام ہے، اسی کی طرف سے سلام ہے، اور جبریل پر بھی سلام ہو۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 19398]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 37، حدیث 93»