المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. عائشة بنت أبي بكر الصديق " زوج رسول الله صلى الله عليه وسلم، كناها رسول الله صلى الله عليه وسلم أم عبد الله بن الزبير، وأم عائشة، وأخيها عبد الرحمن، أم رومان بنت عامر بن عويمر بن عبد شمس بن عبد مناف بن أذينة بن سبيع بن رهمان بن الحارث بن عبد بن مالك — باب
سیدہ عائشہ بنت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما، رسول اللہ ﷺ کی زوجہ (رسول اللہ ﷺ نے انہیں عبداللہ بن زبیر کی خالہ ہونے کے سبب ام عبداللہ کی کنیت دی؛ سیدہ عائشہ اور ان کے بھائی عبدالرحمٰن کی والدہ ام رومان بنت عامر بن عویمر بن عبدشمس بن عبدمناف بن اذینہ بن سبیع بن رہمان بن حارث بن عبد بن مالک تھیں) — باب
حدیث نمبر: 19423
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ فِي عَائِشَة: «إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَتَمَالَكُ لَهَا حُبًّا»
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی محبت پر قابو نہیں رکھ سکتے تھے۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 19423]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 45، حدیث 118»
حدیث نمبر: 19424
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالُوا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا: «وَاللهِ يَا عَائِشَةُ مَا يَخْفَى عَلَيَّ حِينَ تَرْضَيْنَ، وَلَا حِينَ تَغْضَبِينَ» ، قُلْتُ: بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللهِ مِمَّ تَعْرِفُ ذَلِكَ؟، قَالَ:" أَمَّا حِينَ تَرْضَيْنَ فَإِنَّكِ تَقُولِينَ حِينَ تَحْلِفِينَ: لَا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ، وَأَمَّا حِينَ تَغْضَبِينَ فَإِنَّكِ تَقُولِينَ: لَا وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ"، فَقُلْتُ: صَدَقْتَ يَا رَسُولَ اللهِ
حَدَّثَنَا مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ الْعَطَّارُ الْمَكِّيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَاللهِ مَا يَخْفَى عَلَيَّ يَا عَائِشَةُ إِذَا كُنْتِ رَاضِيَةً، وَإِذَا كُنْتِ غَضْبَى» ، قُلْتُ: بِمَ تَعْرِفُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟، قَالَ:" إِذَا كُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً فَحَلَفْتِ وقُلْتِ: لَا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ، وَإِذَا كُنْتِ غَضْبَى فَحَلَفْتِ قُلْتِ: لَا وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ"، فَقُلْتُ: صَدَقْتَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي إِنَّمَا أَهَجُرُ اسْمَكَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْإِبلي، ثنا عُمَرُ بْنُ يَحْيَى الْإِبلي، ثنا حَارِثَةُ بْنُ هَرِمٍ الْعقيمي، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي أَعْرِفُ إِذَا كُنْتِ رَاضِيَةً، وَإِذَا كُنْتِ سَاخِطَةً» ، قُلْتُ: فَكَيْفَ ذَلِكَ؟، قَالَ:" إِذَا كُنْتِ رَاضِيَةً قُلْتِ: لَا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ، وَإِذَا كُنْتِ سَاخِطَةً قُلْتِ: لَا وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ"، قُلْتُ: إِنَّمَا أَهَجُرُ اسْمَكَ
حَدَّثَنَا مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ الْعَطَّارُ الْمَكِّيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَاللهِ مَا يَخْفَى عَلَيَّ يَا عَائِشَةُ إِذَا كُنْتِ رَاضِيَةً، وَإِذَا كُنْتِ غَضْبَى» ، قُلْتُ: بِمَ تَعْرِفُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟، قَالَ:" إِذَا كُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً فَحَلَفْتِ وقُلْتِ: لَا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ، وَإِذَا كُنْتِ غَضْبَى فَحَلَفْتِ قُلْتِ: لَا وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ"، فَقُلْتُ: صَدَقْتَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي إِنَّمَا أَهَجُرُ اسْمَكَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْإِبلي، ثنا عُمَرُ بْنُ يَحْيَى الْإِبلي، ثنا حَارِثَةُ بْنُ هَرِمٍ الْعقيمي، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي أَعْرِفُ إِذَا كُنْتِ رَاضِيَةً، وَإِذَا كُنْتِ سَاخِطَةً» ، قُلْتُ: فَكَيْفَ ذَلِكَ؟، قَالَ:" إِذَا كُنْتِ رَاضِيَةً قُلْتِ: لَا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ، وَإِذَا كُنْتِ سَاخِطَةً قُلْتِ: لَا وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ"، قُلْتُ: إِنَّمَا أَهَجُرُ اسْمَكَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم اے عائشہ! جب تم راضی ہوتی ہو یا ناراض ہوتی ہو، مجھ سے چھپا نہیں رہتا۔“ میں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، اے اللہ کے رسول! آپ یہ کیسے جان لیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم راضی ہوتی ہو تو قسم کھاتے ہوئے کہتی ہو: نہیں، محمد کے رب کی قسم! اور جب تم ناراض ہوتی ہو تو کہتی ہو: نہیں، ابراہیم کے رب کی قسم!“ میں نے عرض کیا: آپ نے سچ فرمایا، اے اللہ کے رسول!
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک اور سند سے بھی یہی روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اے عائشہ، جب تم راضی ہوتی ہو اور جب ناراض ہوتی ہو، مجھ سے چھپا نہیں رہتا۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ یہ کیسے جان لیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہو اور قسم کھاتی ہو تو کہتی ہو: نہیں، محمد کے رب کی قسم! اور جب ناراض ہوتی ہو اور قسم کھاتی ہو تو کہتی ہو: نہیں، ابراہیم کے رب کی قسم!“ میں نے عرض کیا: آپ نے سچ فرمایا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تو صرف آپ کا نام چھوڑتی ہوں (دل سے نہیں)۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک تیسری سند سے بھی یہی روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”میں جان لیتا ہوں جب تم راضی ہوتی ہو اور جب ناراض ہوتی ہو۔“ میں نے عرض کیا: وہ کیسے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب راضی ہوتی ہو تو کہتی ہو: نہیں، محمد کے رب کی قسم! اور جب ناراض ہوتی ہو تو کہتی ہو: نہیں، ابراہیم کے رب کی قسم!“ میں نے عرض کیا: میں تو صرف آپ کا نام چھوڑتی ہوں۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 19424]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک اور سند سے بھی یہی روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اے عائشہ، جب تم راضی ہوتی ہو اور جب ناراض ہوتی ہو، مجھ سے چھپا نہیں رہتا۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ یہ کیسے جان لیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہو اور قسم کھاتی ہو تو کہتی ہو: نہیں، محمد کے رب کی قسم! اور جب ناراض ہوتی ہو اور قسم کھاتی ہو تو کہتی ہو: نہیں، ابراہیم کے رب کی قسم!“ میں نے عرض کیا: آپ نے سچ فرمایا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تو صرف آپ کا نام چھوڑتی ہوں (دل سے نہیں)۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک تیسری سند سے بھی یہی روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”میں جان لیتا ہوں جب تم راضی ہوتی ہو اور جب ناراض ہوتی ہو۔“ میں نے عرض کیا: وہ کیسے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب راضی ہوتی ہو تو کہتی ہو: نہیں، محمد کے رب کی قسم! اور جب ناراض ہوتی ہو تو کہتی ہو: نہیں، ابراہیم کے رب کی قسم!“ میں نے عرض کیا: میں تو صرف آپ کا نام چھوڑتی ہوں۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 19424]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 45، حدیث 119»
حدیث نمبر: 19425
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَتَّاتُ الْكُوفِيُّ، ثنا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لَأَعْلَمُ إِذَا كُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً، وَإِذَا كُنْتِ غَضْبَى» ، قُلْتُ: وَبِمَ تَعْرِفُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟، قَالَ:" إِذَا كُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً فَحَلَفْتِ قُلْتِ: لَا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ، وَإِذَا كُنْتِ غَضْبَى فَحَلَفْتِ قُلْتِ: لَا وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ"، قُلْتُ: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّمَا أَهَجُرُ اسْمَكَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں جانتا ہوں جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہو اور جب ناراض ہوتی ہو۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ یہ کیسے جان لیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہو اور قسم کھاتی ہو تو کہتی ہو: نہیں، محمد کے رب کی قسم! اور جب ناراض ہوتی ہو اور قسم کھاتی ہو تو کہتی ہو: نہیں، ابراہیم کے رب کی قسم!“ میں نے عرض کیا: جی ہاں اے اللہ کے رسول! میں تو صرف آپ کا نام چھوڑتی ہوں۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 19425]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 46، حدیث 121»
حدیث نمبر: 19426
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْفَرَجِ الْهَاشِمِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لَأَعْلَمُ إِذَا كُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً، وَإِذَا كُنْتِ عَلَيَّ غَضْبَى» ، قُلْتُ: مِنْ أَيْنَ تَعْلَمُ ذَلِكَ؟، قَالَ:" إِذَا كُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً قُلْتِ: لَا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ، وَإِذَا كُنْتِ عَلَيَّ غَضْبَى، قُلْتِ: لَا وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ"، قُلْتُ: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّمَا أَهَجُرُ اسْمَكَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”میں جانتا ہوں جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہو اور جب مجھ پر ناراض ہوتی ہو۔“ میں نے عرض کیا: آپ یہ کیسے جان لیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہو تو کہتی ہو: نہیں، محمد کے رب کی قسم! اور جب مجھ پر ناراض ہوتی ہو تو کہتی ہو: نہیں، ابراہیم کے رب کی قسم!“ میں نے عرض کیا: جی ہاں اے اللہ کے رسول! میں تو صرف آپ کا نام چھوڑتی ہوں۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 19426]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 46، حدیث 122»
حدیث نمبر: 19427
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «سَابَقْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَبَقْتُهُ»
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دوڑ لگائی تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے نکل گئی۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 19427]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 46، حدیث 123»
حدیث نمبر: 19428
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَنَزَلَ مَنْزِلًا، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: «تَقَدَّمُوا» ، ثُمَّ قَالَ: «تَعَالِ حَتَّى أُسَابِقَكِ» ، فَسَابَقْتُهُ فَسَبَقْتُهُ، ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَهُ بَعْدَ ذَلِكَ فِي سَفَرٍ وَقَدْ جَمَعْتُ اللَّحْمَ، فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: «تَقَدَّمُوا» ، ثُمَّ قَالَ: «تَعَالِ حَتَّى أُسَابِقَكِ» ، فَسَابَقْتُهُ فَسَبَقَنِي، فَضَرَبَ بَيْنَ كَتِفَيَّ، وَقَالَ: «هَذِهِ بِتِلْكَ»
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں نکلی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا، تو اپنے ساتھیوں سے فرمایا: ”آگے بڑھ جاؤ“، پھر مجھ سے فرمایا: ”آؤ، دوڑ لگائیں۔“ چنانچہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دوڑ لگائی اور میں آگے نکل گئی۔ پھر اس کے بعد میں ایک اور سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلی، اس وقت میرا جسم بھاری ہو چکا تھا، تو ہم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: ”آگے بڑھ جاؤ“، پھر فرمایا: ”آؤ دوڑ لگائیں۔“ چنانچہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دوڑ لگائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے آگے نکل گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے دونوں کندھوں کے درمیان ہاتھ مارا اور فرمایا: ”یہ اس کا بدلہ ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 19428]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 47، حدیث 124»
حدیث نمبر: 19429
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَابَقْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَبَقْتُهُ، فَلَمَّا حَمَلْتُ مِنَ اللَّحْمِ سَابَقَنِي فَسَبَقَنِي، فَقَالَ: «يَا عَائِشَةُ هَذِهِ بِتِلْكَ»
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دوڑ لگائی تو میں آگے نکل گئی۔ پھر جب میرا جسم بھاری ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دوڑ لگائی اور مجھ سے آگے نکل گئے، تو فرمایا: ”اے عائشہ! یہ اس کا بدلہ ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 19429]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 47، حدیث 125»
حدیث نمبر: 19430
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ يُوسُفُ بْنُ يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، يَقُولُ: قَالَتْ عَائِشَةُ لِأَبِي بَكْرٍ:" رَأَيْتُ ثَلَاثَةَ أَقْمَارٍ سَقَطْنَ فِي حُجْرَتِي، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يُدْفَنُ فِي بَيْتِكِ ثَلَاثَةٌ هُمْ خَيْرُ أَهْلِ الْأَرْضِ". قَالَ يَحْيَى: فَسَمِعْتُ النَّاسَ يَتَحَدَّثُونَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قُبِضَ فِي بَيْتِهَا، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: «أَحَدُ أَقْمَارِكِ، وَهُوَ خَيْرُهَا»
سعید بن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ تین چاند میرے حجرے میں گر پڑے ہیں، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہارے گھر میں تین ایسے لوگ دفن ہوں گے جو اہلِ زمین میں سب سے بہتر ہوں گے۔ یحییٰ کہتے ہیں: میں نے لوگوں کو یہ بیان کرتے سنا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ان کے گھر میں ہوئی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ تمہارے چاندوں میں سے ایک، اور ان سب سے بہتر ہے۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 19430]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 47، حدیث 126»
حدیث نمبر: 19431
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبِ، عَنْ نَافِعٍ، أَوْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: «رَأَيْتُ كَأَنَّ ثَلَاثَةَ أَقْمَارٍ سَقَطْنَ فِي حُجْرَتِي» ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنْ صَدَقَتْ رُؤْيَاكِ دُفِنَ فِي بَيْتِكِ خَيْرُ أَهْلِ الْأَرْضِ ثَلَاثَةٌ، فَلَمَّا مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ: خَيْرُ أَقْمَارِكِ يَا عَائِشَةُ، وَدُفِنَ فِي بَيْتِهَا أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا تین چاند میرے حجرے میں گر پڑے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تمہارا خواب سچا ہوا تو تمہارے گھر میں اہلِ زمین کے تین بہترین لوگ دفن ہوں گے۔ پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے عائشہ! یہ تمہارے چاندوں میں سب سے بہتر ہے۔ اور ان کے گھر میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی دفن ہوئے۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 19431]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 48، حدیث 127»
حدیث نمبر: 19432
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأُسْفَاطِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ عَبْدِ اللهِ السَّلَفِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَبَحُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «هَلْ أَحَدٌ مِنْكُمْ رَأَى رُؤْيَا؟» ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللهِ رَأَيْتُ ثَلَاثَةَ أَقْمَارٍ هَوَيْنَ فِي حُجْرَتِي، فَقَالَ لَهَا:" إِنْ صَدَقَتْ رُؤْيَاكِ دُفِنَ فِي بَيْتِكِ - أُرَاهُ قَالَ: - أَفْضَلُ أَهْلِ الْجَنَّةِ" فَقُبِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ أَفْضَلُ أَقْمَارِهَا، ثُمَّ قُبِضَ أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ قُبِضَ عُمَرُ، فَدُفِنُوا فِي بَيْتِهَا
حسن، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟“ اس پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے دیکھا کہ تین چاند میرے حجرے میں گرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اگر تمہارا خواب سچا ہوا تو تمہارے گھر میں“ - راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا - ”اہلِ جنت میں سب سے افضل لوگ دفن ہوں گے۔“ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ان کے چاندوں میں سب سے افضل تھے، پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی، پھر عمر رضی اللہ عنہ کی، تو یہ سب ان کے گھر میں دفن ہوئے۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 19432]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 48، حدیث 128»