المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
404. قتادة بن دعامة، عن شهر بن حوشب
قتادہ بن دعامہ کی شہر بن حوشب سے روایات
حدیث نمبر: 20775
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّةِ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي، فَذَكَرَ الدَّجَّالَ فَقَالَ:" إِنَّ بَيْنَ يَدَيْهِ ثَلَاثَ سِنِينَ سَنَةٌ تُمْسِكُ السَّمَاءُ فِيهَا ثُلُثَ قَطْرِهَا وَالْأَرْضُ ثُلُثَ نَبَاتِهَا، وَالثَّانِيَةُ تُمْسِكُ السَّمَاءُ ثُلُثَيَّ قَطْرِهَا وَالْأَرْضُ ثُلُثَيَّ نَبَاتِهَا، وَالثَّالِثَةُ تُمْسِكُ السَّمَاءُ قَطْرَهَا كُلَّهُ وَالْأَرْضُ نَبَاتَهَا فَلَا تَبْقَى ذَاتُ ضِرْسٍ، وَلَا ذَاتُ ظِلْفٍ مِنَ الْبَهَائِمِ إِلَّا هَلَكَتْ، وَإِنَّهُ مِنْ أَشَدِّ فِتْنَةٍ أَنَّهُ يَأْتِي الْأَعْرَابِيَّ فَيَقُولُ: أَرَأَيْتَ إِنْ أَحْيَيْتُ لَكَ إِبِلَكَ، أَلَسْتَ تَعْلَمُ أَنِّي رَبُّكَ فَيَقُولُ: بَلَى، فَيَتَمَثَّلُ لَهُ الشَّيْطَانُ نَحْوَ إِبِلِهِ كَأَحْسَنِ مَا كَانَتْ ضُرُوعًا وَأَعْظَمُهَا أَسْنِمَةً، وَيَأْتِي الرَّجُلَ قَدْ مَاتَ أَخُوهُ وَمَاتَ أَبُوهُ، فَيَقُولُ: أَرَأَيْتَ إِنْ أَحْيَيْتُ لَكَ أَبَاكَ وَأَحْيَيْتُ لَكَ أَخَاكَ أَلَسْتَ تَعْلَمُ أَنِّي رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ لَهُ: بَلَى، فَيَتَمَثَّلُ لَهُ الشَّيْطَانُ نَحْوَ أَبِيهِ وَنَحْوَ أَخِيهِ" قَالَتْ: ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَةٍ ثُمَّ رَجَعَ وَالْقَوْمُ فِي اهْتِمَامٍ وَغَمٍّ مِمَّا حَدَّثَهُمْ فَأَخَذَ الْبَابَ وَقَالَ: «مَهْيَمْ؟» قَالَتْ أَسْمَاءُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ لَقَدْ دَلَقْتَ أَفْئِدَتَنَا بِذِكْرِ الدَّجَّالِ فَقَالَ: «إِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا حَيٌّ فَأَنَا حَجِيجُهُ، وإِلَّا فَإِنَّ رَبِّي خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ مُؤْمِنٍ» قَالَتْ أَسْمَاءُ: فَقُلْتُ: وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا لَنَعْجِنُ عَجِينَنَا فَمَا نَخْبِزُ حَتَّى نَجُوعَ فَكَيْفَ بِالْمُؤْمِنِينَ يَوْمَئِذٍ؟ فَقَالَ: «يُجْزِئُهُمْ مَا يُجْزِئُ أَهْلَ السَّمَاءِ مِنَ التَّسْبِيحِ وَالتَّقْدِيسِ»
شہر بن حوشب رحمہ اللہ سیدہ اسماء بنت یزید انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں تشریف فرما تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا ذکر کیا اور فرمایا: ”اس کے آنے سے پہلے تین سال ہوں گے، ایک سال جس میں آسمان اپنی بارش کا ایک تہائی روک لے گا اور زمین اپنی پیداوار کا ایک تہائی روک لے گی، دوسرے سال آسمان اپنی بارش کا دو تہائی روک لے گا اور زمین اپنی پیداوار کا دو تہائی روک لے گی، اور تیسرے سال آسمان اپنی ساری بارش روک لے گا اور زمین اپنی ساری پیداوار روک لے گی، یہاں تک کہ کوئی دانت والا اور کوئی کھر والا جانور باقی نہ رہے گا مگر ہلاک ہو جائے گا۔ اور اس کے سب سے بڑے فتنوں میں سے یہ ہے کہ وہ ایک بدو کے پاس آ کر کہے گا: بتاؤ اگر میں تمہارے اونٹ زندہ کر دوں تو کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میں تمہارا رب ہوں؟ تو وہ کہے گا: کیوں نہیں۔ تو شیطان اس کے اونٹوں کی شکل میں اس کے سامنے آ جائے گا، ایسے تھنوں والے جیسے پہلے کبھی نہ تھے اور ایسی بڑی کوہانوں والے۔ اور وہ ایک ایسے آدمی کے پاس آئے گا جس کا بھائی اور باپ فوت ہو چکے ہوں گے، تو کہے گا: بتاؤ اگر میں تمہارے باپ اور بھائی کو زندہ کر دوں تو کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میں تمہارا رب ہوں؟ تو وہ اس سے کہے گا: کیوں نہیں۔ تو شیطان اس کے باپ اور بھائی کی شکل میں اس کے سامنے آ جائے گا۔“ وہ کہتی ہیں: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی ضرورت کے لیے باہر تشریف لے گئے، پھر واپس آئے جبکہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان کردہ باتوں سے فکرمند اور غمگین تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازہ پکڑا اور فرمایا: ”کیا معاملہ ہے؟“ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے دجال کے ذکر سے ہمارے دل ہلا دیے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ نکلا اور میں زندہ ہوا تو میں ہی اس کا مقابلہ کروں گا، ورنہ میرا رب ہر مسلمان مومن پر میرا جانشین ہے۔“ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: تو میں نے عرض کیا: اللہ کی قسم، یا رسول اللہ! ہم اپنا آٹا گوندھتے ہیں تو ابھی روٹی پکاتے بھی نہیں کہ بھوک لگ جاتی ہے، تو اس دن مومنوں کا کیا حال ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں وہی کافی ہوگا جو آسمان والوں کو تسبیح و تقدیس کافی ہوتی ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20775]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 158، حدیث 404»
حدیث نمبر: 20776
حَدَّثَنَا عَلَى بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، وَقَتَادَةَ، وَحَجَّاجُ بْنُ الْأَسْوَدِ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي مَلَأٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَذَكَرُوا الدَّجَّالَ فَقَالَ: «إِنَّ بَيْنَ يَدَيَّ السَّاعَةِ حَمْرَاوَاتٍ تُمْسِكُ أَوَّلَ سَنَةٍ مِنَ السَّمَاءِ ثُلُثَ قَطْرِهَا، وَالْأَرْضِ ثُلُثَ نَبَاتِهَا، وَالسَّنَةُ الثَّانِيَةُ تُمْسِكُ السَّمَاءُ ثُلُثَيَّ قَطْرِهَا، وَالْأَرْضُ ثُلُثَيَّ نَبَاتِهَا، وَالسَّنَةُ الثَّالِثَةُ تُمْسِكُ السَّمَاءُ قَطْرَهَا، وَالْأَرْضُ نَبَاتَهَا حَتَّى لَا يَبْقَى ذُو خُفٍّ وَحَافِرٍ» ، ثُمَّ خَرَجَ لِحَاجَتِهِ ثُمَّ رَجَعَ وَلَهُمْ حَنِينٌ فَأَخَذَ بِعَضُدَتَيِّ الْبَابِ فَقَالَ: «مَا شَأْنُكُمْ؟» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَحَدَنَا لَيَعْجِنُ عَجِينَهُ فَمَا يَصْبِرُ حَتَّى يَخْتَمِرَ قَالَ: «إِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا فِيكُمْ فَأَنَا حَجِيجُهُ، وإِلَّا فَإِنَّ اللهَ خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ فَمَا يُجْزِئُ الْمُؤْمِنَ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: «مَا يُجْزِئُ الْمَلَائِكَةَ مِنَ التَّسْبِيحِ وَالتَّحْمِيدِ وَالتَّهْلِيلِ وَالتَّكْبِيرِ»
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کی ایک جماعت میں تھے، تو انہوں نے دجال کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت سے پہلے سرخ سال آئیں گے، پہلے سال آسمان اپنی بارش کا تہائی روک لے گا اور زمین اپنی پیداوار کا تہائی روک لے گی، دوسرے سال آسمان اپنی بارش کے دو تہائی روک لے گا اور زمین اپنی پیداوار کے دو تہائی روک لے گی، اور تیسرے سال آسمان اپنی ساری بارش روک لے گا اور زمین اپنی ساری پیداوار روک لے گی، یہاں تک کہ کوئی کھر یا سم والا جانور باقی نہ رہے گا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ضرورت کے لیے باہر تشریف لے گئے، پھر واپس آئے جبکہ وہ صحابہ سسکیاں لے رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازے کے دونوں بازو پکڑے اور فرمایا: ”تمہیں کیا ہوا؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم میں سے کوئی اپنا آٹا گوندھتا ہے تو خمیر اٹھنے تک صبر نہیں کر پاتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ نکلا اور میں تم میں موجود ہوا تو میں ہی اس کا مقابلہ کروں گا، ورنہ اللہ ہر مومن پر میرا جانشین ہے۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! تو اس دن مومن کے لیے کیا کافی ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہی جو فرشتوں کو تسبیح، تحمید، تہلیل اور تکبیر کافی ہوتی ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20776]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 159، حدیث 405»
حدیث نمبر: 20777
حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَابِلْتِيُّ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي قَتَادَةَ، حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، حَدَّثَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ يَزِيدَ بْنِ السَّكَنِ، وَهِيَ بِنْتُ عَمِّ مُعَاذٍ قَالَتْ: أَتَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَائِفَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَذَكَرَ الدَّجَّالَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِنَّ قَبْلَ خُرُوجِهِ ثَلَاثَ سِنِينَ أَوْ سَنَةً تُمْسِكُ السَّمَاءُ ثُلُثَ قَطْرِهَا، وَتُمْسِكُ الْأَرْضُ ثُلُثَ نَبَاتِهَا، وَالسَّنَةَ الثَّانِيَةَ تُمْسِكُ السَّمَاءُ ثُلُثَيَّ قَطْرِهَا، وَتُمْسِكُ الْأَرْضُ ثُلُثَيَّ نَبَاتِهَا، وَالسَّنَةَ الثَّالِثَةَ تُمْسِكُ السَّمَاءُ مَا فِيهَا وَالْأَرْضُ مَا فِيهَا فَيَهْلِكَ كُلُّ ذَاتِ ضِرْسٍ وظِلْفٍ، وَمِنْ أَشَدِّ فِتْنَتِهِ أَنَّهُ يَقُولُ لِلْأَعْرَابِيِّ: أَرَأَيْتَ إِنْ أَحْيَيْتُ لَكَ إِبِلَكَ عَظِيمَةً ضُرُوعُهَا طَوِيلَةً أَسْنِمَتُهَا بَحْتَرٌ تَعْلَمُ أَنِّي رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ فَيََتَمََثَّلُ لَهُ الشَّيْطَانُ" ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ، وَوَضَعْتُ لَهُ وُضُوءَهُ وانْتَحَبَ الْقَوْمُ حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمْ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَابَ فَقَالَ: «مَهْيَمْ؟» فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ خَلَعْتَ قُلُوبَهُمْ بِالدَّجَّالِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ يَخْرُجِ الدَّجَّالُ وَأَنَا حَيٌّ فَأَنَا حَجِيجُهُ، وَإِنْ مِتُّ فَإِنَّ اللهَ خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَمَا يُجْزِئُ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: «يُجْزِئُهُمْ مَا يُجْزِئُ أَهْلَ السَّمَاءِ التَّسْبِيحَ وَالتَّقْدِيسَ»
شہر بن حوشب رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے سیدہ اسماء بنت یزید بن سکن رضی اللہ عنہا نے، جو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی چچازاد تھیں، بیان کیا، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کچھ صحابہ کے ساتھ میرے پاس تشریف لائے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا ذکر کیا اور فرمایا: ”اس کے نکلنے سے پہلے تین سال، یا ایک سال ہوگا جس میں آسمان اپنی بارش کا ایک تہائی روک لے گا اور زمین اپنی پیداوار کا ایک تہائی روک لے گی، دوسرے سال آسمان اپنی بارش کا دو تہائی روک لے گا اور زمین اپنی پیداوار کا دو تہائی روک لے گی، اور تیسرے سال آسمان اپنا سب کچھ روک لے گا اور زمین اپنا سب کچھ روک لے گی، یہاں تک کہ ہر دانت والا اور ہر کھر والا جانور ہلاک ہو جائے گا۔ اور اس کے سب سے بڑے فتنوں میں سے یہ ہے کہ وہ بدو سے کہے گا: بتاؤ اگر میں تمہارے لیے تمہارے اونٹ زندہ کر دوں، بڑے تھنوں والے، لمبی کوہانوں والے، موٹے تازے، تو کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میں تمہارا رب ہوں؟ تو وہ کہے گا: ہاں، تو شیطان اس کے سامنے (اس شکل میں) آ جائے گا۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی ضرورت کے لیے باہر تشریف لے گئے، اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وضو کا پانی رکھا، اور لوگ اتنی سسکیاں لینے لگے کہ ان کی آوازیں بلند ہو گئیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازہ پکڑا اور فرمایا: ”کیا معاملہ ہے؟“ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے دجال کے ذکر سے ان کے دل نکال دیے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر دجال نکلا اور میں زندہ ہوا تو میں ہی اس کا مقابلہ کروں گا، اور اگر میں فوت ہو گیا تو اللہ ہر مومن پر میرا جانشین ہے۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! تو اس دن مومنوں کے لیے کیا کافی ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں وہی کافی ہوگا جو آسمان والوں کو تسبیح و تقدیس کافی ہوتی ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20777]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 159، حدیث 406»
حدیث نمبر: 20778
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ جَمِيلٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، أَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، قَالَتْ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتٍ فَقَالَ: «إِذَا كَانَ قَبْلَ خُرُوجِ الدَّجَّالِ حَبَسَتِ السَّمَاءُ ثُلُثَ قَطْرِهَا ثَلَاثَ سِنِينَ، وَحَبَسَتِ الْأَرْضُ ثُلُثَ نَبَاتِهَا، فَإِذَا كَانَتِ السَّنَةُ الثَّانِيَةُ حَبَسَتِ السَّمَاءُ ثُلُثَيَّ قَطْرِهَا، وَحَبَسَتِ الْأَرْضُ ثُلُثَيَّ نَبَاتِهَا فَإِذَا كَانَتِ السَّنَةُ الثَّالِثَةُ حَبَسْتِ السَّمَاءُ قَطْرَهَا وَالْأَرْضَ نَبَاتَهَا كُلَّهُ» فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ الْأَوْزَاعِيِّ
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک گھر میں تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دجال کے نکلنے سے پہلے آسمان تین سال تک اپنی بارش کا تہائی روک لے گا، اور زمین اپنی پیداوار کا تہائی روک لے گی، پھر دوسرے سال آسمان اپنی بارش کے دو تہائی روک لے گا اور زمین اپنی پیداوار کے دو تہائی روک لے گی، پھر تیسرے سال آسمان اپنی ساری بارش روک لے گا اور زمین اپنی ساری پیداوار روک لے گی۔“
راوی نے اوزاعی کی حدیث جیسی حدیث بیان کی۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20778]
راوی نے اوزاعی کی حدیث جیسی حدیث بیان کی۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20778]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 160، حدیث 407»
حدیث نمبر: 20779
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20779]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 160، حدیث 408»
حدیث نمبر: 20780
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، قَالَتْ: انْطَلَقْتُ مَعَ أَخِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلِيَّ سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ: «أَيَسُرُّكِ أَنْ يُسَوِّرَكِ اللهُ بِسُوَارَيْنِ مِنْ نَارٍ؟» فَانْتَزَعْتُهُمَا فَرَمَيْتُهُما فَلَا أَدْرِي أَيَّ النَّاسِ أَخَذَهُمَا
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”میں اپنے بھائی کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی جبکہ میرے ہاتھ میں سونے کے دو کنگن تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں یہ پسند ہے کہ اللہ تمہیں آگ کے دو کنگن پہنائے؟“ تو میں نے انہیں اتار کر پھینک دیا، اور مجھے معلوم نہیں کہ کس نے انہیں اٹھایا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20780]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 161، حدیث 409»
حدیث نمبر: 20781
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، أَنَّهَا أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى خَالَتِهَا سِوَارَيْنِ فَذَكَرَ نَحْوَهُ
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں جبکہ ان کی خالہ کے ہاتھ میں دو کنگن تھے، تو راوی نے اسی جیسی حدیث بیان کی۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20781]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 161، حدیث 410»