المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
404. قتادة بن دعامة، عن شهر بن حوشب
قتادہ بن دعامہ کی شہر بن حوشب سے روایات
حدیث نمبر: 20776
حَدَّثَنَا عَلَى بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، وَقَتَادَةَ، وَحَجَّاجُ بْنُ الْأَسْوَدِ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي مَلَأٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَذَكَرُوا الدَّجَّالَ فَقَالَ: «إِنَّ بَيْنَ يَدَيَّ السَّاعَةِ حَمْرَاوَاتٍ تُمْسِكُ أَوَّلَ سَنَةٍ مِنَ السَّمَاءِ ثُلُثَ قَطْرِهَا، وَالْأَرْضِ ثُلُثَ نَبَاتِهَا، وَالسَّنَةُ الثَّانِيَةُ تُمْسِكُ السَّمَاءُ ثُلُثَيَّ قَطْرِهَا، وَالْأَرْضُ ثُلُثَيَّ نَبَاتِهَا، وَالسَّنَةُ الثَّالِثَةُ تُمْسِكُ السَّمَاءُ قَطْرَهَا، وَالْأَرْضُ نَبَاتَهَا حَتَّى لَا يَبْقَى ذُو خُفٍّ وَحَافِرٍ» ، ثُمَّ خَرَجَ لِحَاجَتِهِ ثُمَّ رَجَعَ وَلَهُمْ حَنِينٌ فَأَخَذَ بِعَضُدَتَيِّ الْبَابِ فَقَالَ: «مَا شَأْنُكُمْ؟» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَحَدَنَا لَيَعْجِنُ عَجِينَهُ فَمَا يَصْبِرُ حَتَّى يَخْتَمِرَ قَالَ: «إِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا فِيكُمْ فَأَنَا حَجِيجُهُ، وإِلَّا فَإِنَّ اللهَ خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ فَمَا يُجْزِئُ الْمُؤْمِنَ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: «مَا يُجْزِئُ الْمَلَائِكَةَ مِنَ التَّسْبِيحِ وَالتَّحْمِيدِ وَالتَّهْلِيلِ وَالتَّكْبِيرِ»
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کی ایک جماعت میں تھے، تو انہوں نے دجال کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت سے پہلے سرخ سال آئیں گے، پہلے سال آسمان اپنی بارش کا تہائی روک لے گا اور زمین اپنی پیداوار کا تہائی روک لے گی، دوسرے سال آسمان اپنی بارش کے دو تہائی روک لے گا اور زمین اپنی پیداوار کے دو تہائی روک لے گی، اور تیسرے سال آسمان اپنی ساری بارش روک لے گا اور زمین اپنی ساری پیداوار روک لے گی، یہاں تک کہ کوئی کھر یا سم والا جانور باقی نہ رہے گا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ضرورت کے لیے باہر تشریف لے گئے، پھر واپس آئے جبکہ وہ صحابہ سسکیاں لے رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازے کے دونوں بازو پکڑے اور فرمایا: ”تمہیں کیا ہوا؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم میں سے کوئی اپنا آٹا گوندھتا ہے تو خمیر اٹھنے تک صبر نہیں کر پاتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ نکلا اور میں تم میں موجود ہوا تو میں ہی اس کا مقابلہ کروں گا، ورنہ اللہ ہر مومن پر میرا جانشین ہے۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! تو اس دن مومن کے لیے کیا کافی ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہی جو فرشتوں کو تسبیح، تحمید، تہلیل اور تکبیر کافی ہوتی ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20776]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 159، حدیث 405»
Al-Mu'jam al-Kabir (Tabarani) Hadith 20776 in Urdu