🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

712. نساء غير مسميات ممن لهن صحبة
کچھ نامعلوم خواتین صحابیات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21910
حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ الْعَطَّارُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ حُصَيْنَ بْنَ مِحْصَنٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَمَّتَهُ" دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَقَالَ: ذَاتُ زَوْجٍ أَنْتَ؟ قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ: كَيْفَ أَنْتِ لَهُ؟ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا آلُوَهُ إِلَّا مَا عَجَزْتُ. فَقَالَ: انْظُرِي كَيْفَ أَنْتِ لَهُ، فَإِنَّمَا هُوَ جَنَّتُكِ وَنَارُكِ"
سیدنا حصین بن محصن رضی اللہ عنہ کی پھوپھی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تمہارا شوہر ہے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم اس کے ساتھ کیسا سلوک کرتی ہو؟“ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! میں اپنی طاقت بھر اس کی خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی، سوائے اس کے جس سے میں عاجز آ جاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیکھو تم اس کے ساتھ کیسا سلوک کرتی ہو، کیونکہ وہی تمہاری جنت اور تمہاری جہنم ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 21910]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 183، حدیث 448»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21911
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ مِحْصَنٍ، عَنْ عَمَّتِهِ: أَنَّهَا" أَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ، فَقَضَى لَهَا حَاجَتَهَا، ثُمَّ قَالَ: أَذَاتُ بَعْلٍ أَنْتِ؟ قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ: فَكَيْفَ أَنْتِ لَهُ؟ قَالَتْ: مَا آلُوَهُ إِلَّا مَا عَجَزْتُ عَنْهُ. قَالَ: فَانْظُرِي كَيْفَ أَنْتِ لَهُ فَإِنَّهُ جَنَّتُكِ وَنَارُكِ"
سیدنا حصین بن محصن رضی اللہ عنہ کی پھوپھی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ ایک حاجت لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی حاجت پوری کر دی، پھر فرمایا: ”کیا تمہارا شوہر ہے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم اس کے ساتھ کیسا سلوک کرتی ہو؟“ انہوں نے کہا: میں اپنی طاقت بھر اس کی خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی، سوائے اس کے جس سے میں عاجز آ جاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیکھو تم اس کے ساتھ کیسا سلوک کرتی ہو، کیونکہ وہی تمہاری جنت اور تمہاری جہنم ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 21911]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 183، حدیث 449»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21912
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ مِحْصَنٍ، عَنْ عَمَّتِهِ: أَنَّهَا" أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَمَا لَكِ بَعْلٌ قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ: كَيْفَ أَنْتِ لَهُ؟ قَالَتْ: مَا آلُوَ إِلَّا مَا عَجَزْتُ عَنْهُ. فَقَالَ: اعْلَمِي أَنَّهُ جَنَّتُكِ وَنَارُكِ"
سیدنا حصین بن محصن رضی اللہ عنہ کی پھوپھی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تمہارا شوہر نہیں؟“ انہوں نے کہا: جی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم اس کے ساتھ کیسا سلوک کرتی ہو؟“ انہوں نے کہا: میں اپنی طاقت بھر کوئی کسر نہیں چھوڑتی، سوائے اس کے جس سے میں عاجز آ جاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جان لو کہ وہی تمہاری جنت اور تمہاری جہنم ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 21912]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 183، حدیث 450»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21913
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ صَفْوَانَ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ الْبَرَّادِ، عَنِ امْرَأَةٍ مِنَ الْمُبَايِعَاتِ قَالَتْ: كَانَ فِيمَا أَخَذَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ: «لَا نَعْصِيَهُ فِي الْمَعْرُوفِ، وَأَنْ لَا نَخْمِشَ وَجْهًا، وَلَا نَنْشُرَ شِعْرًا وَلَا نَشُقَّ جَيْبًا، وَلَا نَدْعُوَ وَيْلًا»
بیعت کرنے والی خواتین میں سے ایک صحابیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جو باتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے عہد لیں ان میں یہ بھی تھا کہ ہم نیک کاموں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی نہ کریں، اور (میت کے غم میں) چہرہ نہ نوچیں، بال نہ بکھیریں، گریبان نہ پھاڑیں، اور واویلا نہ کریں۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 21913]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 184، حدیث 451»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21914
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيُّ، قَالَا: أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ امْرَأَةٍ، مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ قَالَتْ: قُلْنَا يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ" لَنَا طُرُقًا إِلَى الْمَسْجِدِ مُنْتِنَةً، فَقَالَ: أَلَيْسَ بَعْدَهَا طُرُقٌ أَنْظَفُ مِنْهَا؟ قُلْنَا: بَلَى. قَالَ: فَهَذِهِ بِهَذِهِ"
بنو عبدالاشہل کی ایک صحابیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مسجد تک جانے والے ہمارے راستے گندے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا ان کے بعد اس سے زیادہ صاف راستے نہیں ہیں؟“ ہم نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو یہ اس کے بدلے ہیں۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 21914]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 184، حدیث 452»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21915
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ امْرَأَةٍ، مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ لَنَا طَرِيقًا خَبِيثَةً فِي الْمَطَرِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَيْسَ دُونَهَا طَرِيقٌ طَيِّبَةٌ؟» ، قُلْتُ: بَلَى. قَالَ: «فَذَلِكَ بِذَلِكَ»
بنو عبدالاشہل کی ایک صحابیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! بارش کے موسم میں ہمارا راستہ گندا ہو جاتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اس سے پہلے کوئی صاف راستہ نہیں ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو وہ اس کے بدلے ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 21915]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 184، حدیث 453»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21916
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا أَبُو مُوسَى عِيسَى بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ غَزْوَانَ صَاحِبِ النَّرْسِيِّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُمَارَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ نُبَيْطِ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ أُمِّهَا، أَوْ خَالَتِهَا بَنَاتِ أَبِي أُمَامَةَ قَالَتْ: «أَوْصَى إِلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَنَاتِهِ يَعْنِي أَبَا أُمَامَةَ أَسْعَدَ بْنَ زُرَارَةَ، فَقُلْنَ حَلَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُعَاثًا مِنْ ذَهَبٍ»
زینب بنت نبیط بن جابر اپنی والدہ یا خالہ سے، جو ابوامامہ اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کی بیٹیوں میں سے تھیں، روایت کرتی ہیں کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ابوامامہ (اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ) کی بیٹیوں کے بارے میں وصیت کی۔ وہ بیٹیاں کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سونے کی بالیاں پہنائیں۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 21916]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 185، حدیث 454»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21917
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، حَدَّثَتْنِي خَالَتِي، قَالَتْ: لَقَدْ أَقْرَأَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آيَةَ الرَّجْمِ: «الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ إِذَا زَنَيَا، فَارْجُمُوهُمَا الْبَتَّةَ بِمَا قَضَيَا مِنَ اللَّذَّةِ»
ابوامامہ بن سہل بن حنیف کی خالہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں رجم کی یہ آیت پڑھائی تھی: ”بوڑھا مرد اور بوڑھی عورت جب زنا کریں تو انہیں ضرور سنگسار کر دو، اس لذت کے بدلے جو انہوں نے حاصل کی۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 21917]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 185، حدیث 455»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21918
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ بْنِ زِبْرِيقٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ضَمْضَمَ بْنِ زُرْعَةَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ حَدِيثِ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ حُرَيْثِ بْنِ الْأَبَحِّ السَّلِيحِيِّ، أَنَّ امْرَأَةً، مِنْ بَنِي أَسَدٍ، قَالَتْ: «كُنْتُ يَوْمًا عِنْدَ زَيْنَبَ امْرَأَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ نَصْبُغُ ثِيَابًا بِمَغْرَةَ، فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ، إِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَأَى الْمَغْرَةَ رَجَعَ، فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِكَ زَيْنَبُ عَلِمَتْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَرِهَ مَا فَعَلَتْ، فَأَخَذَتْ مَاءً، فَغَسَلَتْ ثِيَابَهَا وَوَارَتْ كُلَّ حُمْرَةٍ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَعَ فَاطَّلَعَ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا، فَدَخَلَ»
بنو اسد کی ایک صحابیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں ایک دن سیدہ زینب رضی اللہ عنہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ، کے پاس تھی، اور ہم گیرو (سرخ مٹی) سے کپڑے رنگ رہی تھیں۔ ہم اسی حال میں تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گیرو دیکھا تو واپس چلے گئے۔ جب سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے یہ دیکھا تو سمجھ گئیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کام کو ناپسند کیا ہے، چنانچہ انہوں نے پانی لے کر اپنے کپڑے دھوئے اور ہر سرخی چھپا دی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے اور دیکھا تو کچھ نظر نہ آیا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لے آئے۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 21918]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 185، حدیث 456»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21919
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَادَةَ الْبَاهِلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الزُّهْرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ أَبِي سُوَيْدٍ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ، يَقُولُ: أَخْبَرَتْنِي أُمِّي، قَالَتْ: «شَهِدْتُ آمِنَةَ لَمَّا وَلَدَتْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا ضَرَبَهَا الْمَخَاضُ نَظَرْتُ إِلَى النُّجُومِ تَدَلَّى حَتَّى إِنِّي لَأَقُولُ لَتَقَعَنَّ عَلَيَّ، فَلَمَّا وَلَدَتْهُ خَرَجَ مِنْهَا نُورٌ أَضَاءَ لَهُ الْبَيْتُ الَّذِي نَحْنُ فِيهِ وَالدَّارُ، فَمَا شَيْءٌ أَنْظُرُ إِلَيْهِ إِلَّا نُورٌ»
سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کی والدہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ”میں آمنہ کے پاس اس وقت موجود تھی جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنم دیا۔ جب انہیں دردِ زہ شروع ہوا تو میں نے ستاروں کو اتنا جھکتے دیکھا کہ میں کہنے لگی، یہ مجھ پر گر پڑیں گے۔ پھر جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنم دیا تو ان سے ایک نور نکلا جس سے وہ گھر اور صحن روشن ہو گیا جس میں ہم تھے، اور مجھے نور کے سوا کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 21919]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 186، حدیث 457»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں