🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الجامع الكامل سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
الجامع الكامل میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
الجامع الكامل میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
الجامع الكامل میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

4782. 15- باب قوله: وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا أَنْ يَنْكِحَ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ فَمِنْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ مِنْ فَتَيَاتِكُمُ الْمُؤْمِنَاتِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِإِيمَانِكُمْ بَعْضُكُمْ مِنْ بَعْضٍ فَانْكِحُوهُنَّ بِإِذْنِ أَهْلِهِنَّ وَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ مُحْصَنَاتٍ غَيْرَ مُسَافِحَاتٍ وَلَا مُتَّخِذَاتِ أَخْدَانٍ فَإِذَا أُحْصِنَّ فَإِنْ أَتَيْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَيْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنَاتِ مِنَ الْعَذَابِ ذَلِكَ لِمَنْ خَشِيَ الْعَنَتَ مِنْكُمْ وَأَنْ تَصْبِرُوا خَيْرٌ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ(25)
اللہ عزوجل کے اس ارشاد کے بیان میں کہ ”اور تم میں سے جو کوئی اتنی مالی وسعت و استطاعت نہ رکھتا ہو کہ وہ آزاد مومن عورتوں سے نکاح کر سکے، تو وہ تمہاری ان مومن لونڈیوں سے نکاح کر لے جو تمہاری ملکیت میں ہیں، اور اللہ تمہارے ایمان کی حقیقت سے بخوبی واقف ہے، تم سب ایک دوسرے ہی میں سے ہو، پس ان کے مالکان کی اجازت سے ان سے نکاح کرو اور معروف قاعدے کے مطابق ان کے مہر انہیں ادا کرو، اس طور پر کہ وہ عفت مآب ہوں، نہ کہ علانیہ بدکاری کرنے والی اور نہ ہی چھپ کر آشنائی کرنے والی، پھر جب وہ نکاح کے حصار میں آ جائیں اور اس کے بعد کسی بے حیائی کا ارتکاب کریں تو ان پر اس سزا کا نصف ہے جو آزاد عورتوں کے لیے مقرر ہے، یہ رعایت تم میں سے اس شخص کے لیے ہے جسے گناہ اور مشقت میں پڑ جانے کا اندیشہ ہو، اور تمہارا صبر کرنا تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے، اور اللہ بڑا بخشنے والا، نہایت رحم فرمانے والا ہے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: A357
الطول: المال الكافي من المهر والإنفاق على الزوجة.
قوله: وَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ أي: مهورهن، فإنه يجب المهر للأمة، كما يجب للحرة.
وقوله: وَلَا مُتَّخِذَاتِ أَخْدَانٍ أي غير مرتبطة بأخلاء وأصدقاء للزنا.
وقوله: فَإِذَا أُحْصِنَّ فَإِنْ أَتَيْنَ بِفَاحِشَةٍ وهو التفسير الصحيح المناسب لسياق الآية.والإحصان هنا: التزويج، وبه قال ابن عباس، وأصحابه.والتفسير الآخر: الإحصان هو الإسلام، وبه قال أيضا جماعة من الصحابة، ورجَّحه الشافعي.
وفي مسألة حد الأمة اختلاف كثير مر ذكره في كتاب الحدود، وخلاصتها: أنها إذا زنت تجلد خمسين قبل الإحصان وبعده، وقوله تعالى: فَإِذَا أُحْصِنَّ لمزيد من التأكيد، أي: إذا كانت على المتزوجة خمسون فعلى غير المتزوجة أولى أن تكون خمسون، ولا يزاد عليه.
وقوله: ذَلِكَ لِمَنْ خَشِيَ الْعَنَتَ مِنْكُمْ أي: إنما يباح نكاح الإماء لمن خاف على نفسه الوقوع في الزنا، بالشروط الآتية، وهي:
1.أن لا يجد الرجل سعة في المال.
2.أن يخاف على نفسه الوقوع في الزنا.
3.أن تكون الأمة من المؤمنات.
4.أن تنكح بإذن سيدها.
5.أن تدفع لها المهر كالحرة.
6.أن تكون من المحصنات، أي: عفائف من الزنا.وغير مسافحات ولا متخذات أخدان. فإذا تمت هذه الشروط جاز له نكاحهن، وإن صبر فهو خير له من تزوجه الأمة، لئلَّا يكون أولاده أرقاء لسيدها.

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں