الجامع الكامل سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم دار ابن بشیر
عربی
اردو
4901. 19- باب قوله: وَلَقَدْ جِئْتُمُونَا فُرَادَى كَمَا خَلَقْنَاكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَتَرَكْتُمْ مَا خَوَّلْنَاكُمْ وَرَاءَ ظُهُورِكُمْ وَمَا نَرَى مَعَكُمْ شُفَعَاءَكُمُ الَّذِينَ زَعَمْتُمْ أَنَّهُمْ فِيكُمْ شُرَكَاءُ لَقَدْ تَقَطَّعَ بَيْنَكُمْ وَضَلَّ عَنْكُمْ مَا كُنْتُمْ تَزْعُمُونَ (94)
اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے بیان میں کہ ”اور بلاشبہ تم ہمارے پاس تنِ تنہا آ پہنچے ہو جس طرح ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا، اور جو کچھ ہم نے تمہیں عطا کیا تھا وہ سب تم اپنے پیچھے چھوڑ آئے ہو، اور ہم تمہارے ساتھ تمہارے وہ سفارشی نہیں دیکھ رہے جن کے بارے میں تم یہ گمان رکھتے تھے کہ وہ تمہارے معاملے میں (خدا کے) شریک ہیں؛ یقیناً تمہارے آپس کے تعلقات منقطع ہو گئے اور وہ سب دعوے تم سے گم ہو کر رہ گئے جو تم کیا کرتے تھے۔“
حدیث نمبر: Q12314
قوله: وَتَرَكْتُمْ مَا خَوَّلْنَاكُمْ أي أعطيناكم، وأنعمنا به عليكم من المال والخدم.
وقوله: وَرَاءَ ظُهُورِكُمْ أي في الدنيا. وقد جاء في الصحيح:
وقوله: وَرَاءَ ظُهُورِكُمْ أي في الدنيا. وقد جاء في الصحيح:
حدیث نمبر: 12314
12314- عن أبي هريرة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: يقول العبد: مالي مالي، إنما له من ماله ثلاث: ما أكل فأفنى، أو لبس فأبلى، أو أعطى فأمضى، وما سوى ذلك فهو ذاهب وتاركه للناس.
تخریج الحدیث: «صحيح: رواه مسلم في الزهد (2959) عن سويد بن سعيد، حدثني حفص بن ميسرة، عن العلاء، عن أبيه، عن أبي هريرة فذكره.»
الحكم على الحديث: صحيح