الجامع الكامل سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم دار ابن بشیر
عربی
اردو
5045. 11- باب قوله: وَقَالَ الْمَلِكُ ائْتُونِي بِهِ فَلَمَّا جَاءَهُ الرَّسُولُ قَالَ ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ إِنَّ رَبِّي بِكَيْدِهِنَّ عَلِيمٌ (50) قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ إِذْ رَاوَدْتُنَّ يُوسُفَ عَنْ نَفْسِهِ قُلْنَ حَاشَ لِلَّهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِنْ سُوءٍ قَالَتِ امْرَأَتُ الْعَزِيزِ الْآنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ أَنَا رَاوَدْتُهُ عَنْ نَفْسِهِ وَإِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ (51)
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بیان میں کہ: ”اور بادشاہ نے حکم دیا کہ انہیں میرے پاس لے آؤ، پھر جب قاصد آپ کے پاس پہنچا تو آپ نے فرمایا: اپنے آقا کے پاس واپس جاؤ اور ان سے دریافت کرو کہ ان عورتوں کا کیا معاملہ ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے؟ بے شک میرا رب ان کی مکاریوں کو خوب جانتا ہے۔ (بادشاہ نے ان عورتوں سے) پوچھا کہ تمہارا کیا قصہ تھا جب تم نے یوسف کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کی تھی؟ ان سب نے کہا: اللہ کی پناہ! ہم نے ان میں ذرہ برابر بھی برائی نہیں پائی، تب عزیز کی بیوی بول اٹھی: اب سچائی کھل کر سامنے آ گئی ہے، میں نے ہی انہیں ورغلانے کی کوشش کی تھی اور بلاشبہ وہ بالکل سچے ہیں“۔
حدیث نمبر: Q12569
قوله: وَقَالَ الْمَلِكُ ائْتُونِي بِهِ أي أخرجوه من السجن.
حدیث نمبر: 12569
12569- عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يرحم الله لوطا، لقد كان يأوي إلى ركن شديد، ولو لبثت فى السجن ما لبث يوسف لأجبت الداعي، ونحن أحق من إبراهيم، إذ قال له: أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي [سورة البقرة:260]
تخریج الحدیث: «متفق عليه: رواه البخاري في التفسير (4694)، وسلم في الإيمان (151) كلاهما من طريق يونس بن يزيد، عن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب وأبي سلمة بن عبد الرحمن، عن أبي هريرة قال: فذكره.واللفظ للبخاري ولفظ مسلم نحوه.»
الحكم على الحديث: متفق عليه
حدیث نمبر: 12570
12570- عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم في قوله: فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لو كنت أنا لأسرعت الإجابة، وما ابتغيت العذر.
تخریج الحدیث: «حسن: رواه أحمد (8554)، وابن جرير في تفسيره (13/201)، وابن أبي حاتم في تفسيره (7/2155-2156) كلهم من طريق حماد بن سلمة، عن محمد بن عمرو، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة، فذكره.»
الحكم على الحديث: حسن