الجامع الكامل سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم دار ابن بشیر
عربی
اردو
5218. 19- باب قوله: أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ (39) الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ إِلَّا أَنْ يَقُولُوا رَبُّنَا اللَّهُ وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللَّهِ كَثِيرًا وَلَيَنْصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ (40)
”ان لوگوں کو (جنگ کی) اجازت دے دی گئی ہے جن کے خلاف لڑائی کی جا رہی ہے کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا ہے، اور یقیناً اللہ ان کی مدد کرنے پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ان کے گھروں سے ناحق نکالا گیا محض اس بنا پر کہ وہ کہتے ہیں ہمارا رب اللہ ہے، اور اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے دفع نہ کرتا رہتا تو راہبوں کے ٹھکانے، گرجے، معبد اور وہ مسجدیں مسمار کر دی جاتیں جن میں کثرت سے اللہ کا نام لیا جاتا ہے، اور اللہ یقیناً اس کی ضرور مدد فرمائے گا جو اس کے دین کی مدد کرے گا، بے شک اللہ بڑی قوت والا اور نہایت غلبے والا ہے۔“
حدیث نمبر: 12806
12806- عن ابن عباس قال: لما أخرج النبي صلى الله عليه وسلم من مكة قال أبو بكر: أخرجوا نبيهم، إنا لله وإنا إليه راجعون، ليهلكُنَّ، فنـزلت: أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ، فعرفت أنه سيكون قتال. قال ابن عباس: فهي أول آية نزلت في القتال.
تخریج الحدیث: «صحيح: رواه النسائي (3085)- واللفظ له-، والترمذي (3171)، وأحمد (1865)، وصحّحه ابن حبان (4710) كلهم من طريق إسحاق بن يوسف الأزرق، حدثنا سفيان، عن الأعمش، عن مسلم البطين، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، فذكره.»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12807
12807- عن ابن شهاب الزهري قال: فكان أول آية نزلت في القتال، كما أخبرني عروة، عن عائشة: أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ إلى قوله إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ ثم أذن بالقتال في آي كثير من القرآن.
تخریج الحدیث: «صحيح: رواه النسائي في الكبرى (11283) عن زكريا بن يحيى، حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا محمد بن عبد العزيز بن أبي رزمة، حدثنا سلمويه أبو صالح، أخبرنا عبد الله، عن يونس، عن الزهري، فذكره.»
الحكم على الحديث: صحيح