السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. -- باب منع التطهير بالنبيذ
-- نبیذ سے پاکی حاصل کرنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 32
قَالَ: وَأنبأ أَبُو أَحْمَدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ تَمَّامٍ، نا الْمُسَيَّبُ بْنُ وَاضِحٍ، نا مُبَشِّرٌ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ مَوْقُوفًا. فَهَذَا حَدِيثٌ مُخْتَلَفٌ فِيهِ عَلَى الْمُسَيِّبِ بْنِ وَاضِحٍ وَهُوَ وَاهِمٌ فِيهِ فِي مَوْضِعَيْنِ، فِي ذِكْرِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَفِي ذِكْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْمَحْفُوظُ أَنَّهُ مِنْ قَوْلِ عِكْرِمَةَ غَيْرُ مَرْفُوعٍ، كَذَا رَوَاهُ هِقْلُ بْنُ الزَّيَّادِ، وَالْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ شَيْبَانُ النَّحْوِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، وَكَانَ الْمُسَيَّبُ رَحِمَنَا اللهُ تَعَالَى وَإِيَّاهُ كَثِيرَ الْوَهْمِ، وَرَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَرَّرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مِنْ قَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ. وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَرَّرٍ مَتْرُوكٌ وَرُوِيَ بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَرْفُوعًا، وَأَبَانُ مَتْرُوكٌ. قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ، فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ عَنْهُ: الْمَحْفُوظُ أَنَّهُ مِنْ قَوْلِ عِكْرِمَةَ غَيْرُ مَرْفُوعٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: وَقَدْ رَوَى الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا بِالْوُضُوءِ مِنَ النَّبِيذِ. وَرَوَاهُ أَبُو إِسْحَاقَ الْكُوفِيُّ وَاسْمُهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَيْسَرَةَ وَيُقَالُ لَهُ أَبُو لَيْلَى الْخُرَاسَانِيُّ، عَنْ مَزِيدَةَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ عَلِيٍّ: لَا بَأْسَ بِالْوُضُوءِ بِالنَّبِيذِ. وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مَيْسَرَةَ مَتْرُوكٌ، وَالْحَارِثُ الْأَعْوَرُ ضَعِيفٌ، وَالْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ لَا يُحْتَجُّ بِهِ. قَدْ ذَكَرْتُ أَقَاوِيلَ الْحُفَّاظِ فِيهِمْ فِي الْخِلَافِيَّاتِ.
بشر نے ہمیں اسی سند کی طرح موقوف بیان کیا ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حارث نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نبیذ سے وضو کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیذ کے ساتھ وضو کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
اس حدیث میں مسیب بن واضح پر اختلاف کیا گیا ہے اور اسے اس میں دو جگہ وہم ہوا ہے: ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ذکر میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر میں، اور محفوظ یہ ہے کہ یہ عکرمہ کا قول ہے، مرفوع نہیں، اور مسیب بہت زیادہ وہم کرنے والا تھا۔ عبداللہ بن محرر، جس نے اسے ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول بنا کر روایت کیا، متروک ہے، اور یہ ضعیف سند سے ابان بن ابی عیاش سے مرفوعاً بھی روایت کی گئی ہے اور ابان متروک ہے۔ امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: محفوظ یہ ہے کہ یہ عکرمہ کا قول ہے، نہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع ہے اور نہ ابن عباس رضی اللہ عنہما تک۔ عبداللہ بن میسرہ متروک ہے، حارث اعور ضعیف ہے اور حجاج بن ارطاۃ قابلِ حجت نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 32]
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حارث نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نبیذ سے وضو کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیذ کے ساتھ وضو کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
اس حدیث میں مسیب بن واضح پر اختلاف کیا گیا ہے اور اسے اس میں دو جگہ وہم ہوا ہے: ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ذکر میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر میں، اور محفوظ یہ ہے کہ یہ عکرمہ کا قول ہے، مرفوع نہیں، اور مسیب بہت زیادہ وہم کرنے والا تھا۔ عبداللہ بن محرر، جس نے اسے ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول بنا کر روایت کیا، متروک ہے، اور یہ ضعیف سند سے ابان بن ابی عیاش سے مرفوعاً بھی روایت کی گئی ہے اور ابان متروک ہے۔ امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: محفوظ یہ ہے کہ یہ عکرمہ کا قول ہے، نہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع ہے اور نہ ابن عباس رضی اللہ عنہما تک۔ عبداللہ بن میسرہ متروک ہے، حارث اعور ضعیف ہے اور حجاج بن ارطاۃ قابلِ حجت نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 32]
تخریج الحدیث: «منكر۔ أخرجه ابن عدي 7/170»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 33
ثُمَّ إِنَّ صِفَةَ أَنْبِذَتِهِمْ مَذْكُورَةٌ فِيمَا، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا أَبِي، ثنا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" كُنَّا نَنْبِذُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِقَاءٍ يُوكَى أَعْلَاهُ لَهُ ثَلَاثَةُ عَزَالِي تُعَلَّقُ نَنْبِذُهُ غُدْوَةً فَيَشْرَبُهُ عِشَاءً، وَنَنْبِذُهُ عِشَاءً فَيَشْرَبُهُ غُدْوَةً". رَوَاهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيِّ بِمَعْنَاهُ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مشکیزے میں نبیذ بناتی تھیں جس کا منہ اوپر سے باندھ دیا جاتا تھا، اس کے تین منہ (سوراخ) تھے جنہیں لٹکایا جاتا تھا۔ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے صبح کے وقت نبیذ بناتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم شام کو پیتے اور جب ہم شام کو نبیذ بناتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کو پیتے۔
(ب) عبد الوہاب ثقفی سے اسی جیسی روایت بیان کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 33]
(ب) عبد الوہاب ثقفی سے اسی جیسی روایت بیان کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 33]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 2005»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 34
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا إِسْحَاقُ يَعْنِي الْحَنْظَلِيَّ، أنا النَّضْرُ، أنا أَبُو خَلْدَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ قَالَ:" نَرَى نَبِيذَكُمْ هَذَا الْخَبِيثَ إِنَّمَا كَانَ مَاءً يُلْقَى فِيهِ تَمَرَاتٌ فَيَصِيرُ حُلْوًا".
حضرت ابو العالیہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہم تمہاری اس خبیث نبیذ کے بارے میں یہ سمجھتے ہیں کہ (اصل) نبیذ تو صرف پانی تھا جس میں کھجوریں ڈالی جاتی تھیں اور وہ میٹھا ہو جاتا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 34]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ إلي ابي العاليه»
الحكم على الحديث: صحيح