السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
41. -- باب: التسمية على الوضوء
-- باب: وضو شروع کرتے وقت بسم اللہ پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 191
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، وَقَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: نَظَرَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضُوءًا، فَلَمْ يَجِدُوهُ. قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَا هُنَا". فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَعَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ الَّذِي فِيهِ الْمَاءُ ثُمَّ قَالَ:" تَوَضَّئُوا بِسْمِ اللهِ". قَالَ: فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَفُورُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ، وَالْقَوْمُ يَتَوَضَّئُونَ حَتَّى تَوَضَّئُوا عَنْ آخِرِهِمْ. فَقَالَ ثَابِتٌ: فَقُلْتُ لِأَنَسٍ: تَرَاهُمْ كَمْ كَانُوا؟ قَالَ: كَانُوا نَحْوًا مِنْ سَبْعِينَ رَجُلًا. هَذَا أَصَحُّ مَا فِي التَّسْمِيَةِ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پانی تلاش کیا تو انہیں پانی نہ ملا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہاں آؤ!“ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی والے برتن میں اپنا ہاتھ رکھا، پھر فرمایا: ” «بِسْمِ اللّٰهِ» (بسم اللہ) پڑھ کر وضو کرو“۔ راوی کہتا ہے کہ میں نے دیکھا پانی آپ کی انگلیوں کے درمیان سے نکل رہا ہے، لوگ وضو کرتے رہے یہاں تک کہ آخری شخص نے وضو کر لیا۔ ثابت رحمہ اللہ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: تم اس وقت کتنے تھے؟ انہوں نے فرمایا: تقریباً ستر تھے۔ یہ حدیث بسم اللہ کے پڑھنے کے بارے میں سب سے زیادہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 191]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه النسائي 78»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 192
فَأَمَّا مَا أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ رُبَيْحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا وُضُوءَ لَهُ، وَلَا وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللهِ عَلَيْهِ".
ربیح بن عبدالرحمن اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جس نے وضو نہ کیا اور اس شخص کا وضو نہیں ہوتا جس نے اللہ کا نام نہ لیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 192]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ أخرجه ابوداؤد 101»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
حدیث نمبر: 193
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا وَهَيْبٌ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَرْمَلَهَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا ثِفَالٍ، يُحَدِّثُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَبَاحَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ حُوَيْطِبٍ، يَقُولُ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي، أَنَّهَا سَمِعَتْ أَبَاهَا، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا وُضُوءَ لَهُ، وَلَا وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللهِ عَلَيْهِ، وَلَا يُؤْمِنُ بِاللهِ مَنْ لَا يُؤْمِنُ بِي، وَلَا يُؤْمِنُ بِي مَنْ لَا يُحِبُّ الْأَنْصَارَ".
رباح بن عبد الرحمن بن ابی سفیان بن حویطب کہتے ہیں کہ مجھے میری دادی نے بیان کیا اور انہوں نے اپنے والد رضی اللہ عنہ سے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جس نے وضو نہیں کیا اور اس شخص کا وضو نہیں ہوتا جس نے «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام کے ساتھ“ نہیں پڑھی اور جو مجھ پر ایمان نہیں لایا وہ اللہ پر بھی ایمان نہیں لایا اور جو انصار سے محبت نہیں کرتا وہ بھی مجھ پر ایمان نہیں لایا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 193]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
حدیث نمبر: 194
وَأنبأ أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا الْمِهْرَجَانِيُّ بِنَيْسَابُورَ، أنا أَبُو بَحْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ كَوْثَرٍ الْبَرْبَهَارِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَرْمَلَةَ، عَنْ أَبِي ثِقَالٍ الْمُرِّيِّ، عَنْ رَبَاحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ حُوَيْطِبٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي، عَنْ أَبِيهَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا وُضُوءَ لَهُ، وَلَا وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللهِ عَلَيْهِ، وَلَا يُؤْمِنُ بِي مَنْ لَا يُحِبُّ الْأَنْصَارَ". ⦗٧٢⦘ أَبُو ثِفَالٍ الْمُرِّيُّ يَقُولُ: اسْمُهُ ثُمَامَةُ بْنُ وَائِلٍ. وَقِيلَ: ثُمَامَةُ بْنُ حُصَيْنٍ. وَجَدَّةُ رَبَاحٍ هِيَ أَسْمَاءُ بِنْتُ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عُمَرِو بْنِ نُفَيْلٍ.
رباح بن عبدالرحمن بن ابوسفیان حویطب کی دادی نے اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جس نے وضو نہیں کیا اور اس شخص کا وضو نہیں ہوتا جس نے «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام سے“ نہیں پڑھی اور جو انصار سے محبت نہیں کرتا وہ مجھ پر بھی ایمان نہیں لایا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 194]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
حدیث نمبر: 195
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ الْخُلْدِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ هَارُونَ الْبَزَّازُ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا وُضُوءَ لَهُ، وَلَا وُضُوءَ لِمَنْ لَا يَذْكُرِ اسْمَ اللهِ عَلَيْهِ". وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِينِيُّ، أَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ السَّعْدِيُّ، قَالَ: سُئِلَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ يَعْنِي وَهُوَ حَاضِرٌ عَنِ التَّسْمِيَةِ فِي الْوُضُوءِ فَقَالَ: لَا أَعْلَمُ فِيهِ حَدِيثًا ثَابِتًا، أَقْوَى شَيْءٍ فِيهِ حَدِيثُ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ رُبَيْحٍ، وَرُبَيْحٌ رَجُلٌ لَيْسَ بِمَعْرُوفٍ وَبَلَغَنِي عَنْ أَبِي عِيسَى التِّرْمِذِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيِّ أَنَّهُ قَالَ: لَيْسَ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثٌ أَحْسَنُ عِنْدِي مِنْ حَدِيثِ رَبَاحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَرُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ صَدَقَةَ مَوْلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي ثِفَالٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حُوَيْطِبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ حَدِيثٌ مُرْسَلٌ. قَالَ الشَّيْخُ: وَأَبُو ثِفَالٍ لَيْسَ بِالْمَعْرُوفِ جِدًّا. وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ إِبْرَاهِيمُ الْفَارِسِيُّ، أَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيِّ. قَالَ سَلَمَةُ اللَّيْثِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَعْنِي فِي التَّسْمِيَةِ: لَا يُعْرَفُ لِسَلَمَةَ سَمَاعٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَلَا لِيَعْقُوبَ عَنْ أَبِيهِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جس نے وضو نہیں کیا اور اس شخص کا وضو نہیں ہوتا جس نے «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام کے ساتھ“ نہ پڑھی۔“
(ب) امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے وضو سے پہلے «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام کے ساتھ“ پڑھنے کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: میرے علم کے مطابق اس بارے میں کوئی حدیث ثابت نہیں، اس میں سب سے قوی چیز کثیر بن زید عن ربیح والی حدیث ہے، اور ربیح غیر معروف شخص ہے۔
(ج) امام ترمذی رحمہ اللہ، امام بخاری رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا: میرے نزدیک اس باب میں رباح بن عبدالرحمن والی حدیث سے زیادہ اچھی کوئی روایت نہیں۔
(د) ابوبکر بن حویطب، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت فرماتے ہیں۔
(ر) شیخ کہتے ہیں: ابو ثقال غیر معروف ہے۔
(س) امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ لیثی والی سند جو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام کے ساتھ“ کے بارے میں ہے، اس میں سلمہ کا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور یعقوب کا اپنے باپ سے سماع ثابت نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 195]
(ب) امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے وضو سے پہلے «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام کے ساتھ“ پڑھنے کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: میرے علم کے مطابق اس بارے میں کوئی حدیث ثابت نہیں، اس میں سب سے قوی چیز کثیر بن زید عن ربیح والی حدیث ہے، اور ربیح غیر معروف شخص ہے۔
(ج) امام ترمذی رحمہ اللہ، امام بخاری رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا: میرے نزدیک اس باب میں رباح بن عبدالرحمن والی حدیث سے زیادہ اچھی کوئی روایت نہیں۔
(د) ابوبکر بن حویطب، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت فرماتے ہیں۔
(ر) شیخ کہتے ہیں: ابو ثقال غیر معروف ہے۔
(س) امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ لیثی والی سند جو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام کے ساتھ“ کے بارے میں ہے، اس میں سلمہ کا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور یعقوب کا اپنے باپ سے سماع ثابت نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 195]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
حدیث نمبر: 196
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ، أنا يَحْيَى بْنُ صَاعِدٍ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو يَزِيدَ الظَّفَرِيُّ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ النَّجَّارِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا تَوَضَّأَ مَنْ لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللهِ عَلَيْهِ، وَمَا صَلَّى مَنْ لَمْ يَتَوَضَّأْ". ⦗٧٣⦘ وَهَذَا الْحَدِيثُ لَا يُعْرَفُ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَكَانَ أَيُّوبُ بْنُ النَّجَّارِ، يَقُولُ: لَمْ أَسْمَعْ مِنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، إِلَّا حَدِيثًا وَاحِدًا، وَهُوَ حَدِيثُ: التَّقَى آدَمُ، وَمُوسَى، ذَكَرَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، فِيمَا رَوَاهُ عَنْهُ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، فَكَانَ حَدِيثُهُ هَذَا مُنْقَطِعًا. وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے بسم اللہ نہیں پڑھی اس کا وضو نہیں ہوا اور جس کا وضو نہیں ہوا اس کی نماز نہیں ہوئی۔“
(ب) یہ حدیث یحییٰ بن ابوکثیر کی ابوسلمہ سے صرف اسی سند سے معروف ہے۔
(ج) ایوب بن نجار فرماتے تھے: میں نے یحییٰ بن ابوکثیر سے صرف ایک حدیث سنی ہے، یعنی آدم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کی ملاقات کا قصہ۔ یہ بات یحییٰ بن معین نے ذکر کی ہے۔
(د) لہٰذا ان کی یہ روایت منقطع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 196]
(ب) یہ حدیث یحییٰ بن ابوکثیر کی ابوسلمہ سے صرف اسی سند سے معروف ہے۔
(ج) ایوب بن نجار فرماتے تھے: میں نے یحییٰ بن ابوکثیر سے صرف ایک حدیث سنی ہے، یعنی آدم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کی ملاقات کا قصہ۔ یہ بات یحییٰ بن معین نے ذکر کی ہے۔
(د) لہٰذا ان کی یہ روایت منقطع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 196]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ أخرجه الدارقطني 1/71»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
حدیث نمبر: 197
وَقَدْ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْحَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَلَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمِّهِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي صَلَاةِ الرَّجُلِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهَا لَا تَتِمُّ صَلَاةُ أَحَدِكُمْ حَتَّى يُسْبِغَ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَهُ اللهُ بِهِ: يَغْسِلُ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، وَيَمْسَحُ رَأْسَهُ وَرِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ". وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. احْتَجَّ أَصْحَابُنَا فِي نَفْيِ وُجُوبِ التَّسْمِيَةِ بِهَذَا الْحَدِيثِ.
سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے آدمی کی نماز والی حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کی نماز اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک مکمل وضو نہ کرلے جس طرح اس کو اللہ نے حکم دیا ہے، یعنی (پہلے) اپنے چہرے کو دھوئے اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں تک دھوئے، پھر اپنے سر کا اور اپنے پاؤں کا ٹخنوں تک مسح کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 197]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد 858»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 198
وَبِمَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ بْنِ شَاذَانَ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو زَكَرِيَّا هُوَ يَحْيَى بْنُ هَاشِمٍ السِّمْسَارُ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِذَا تَطَهَّرَ أَحَدُكُمْ فَلْيَذْكُرِ اسْمَ اللهِ عَلَيْهِ، فَإِنَّهُ يُطَهِّرُ جَسَدَهُ كُلَّهُ، فَإِنْ لَمْ يَذْكُرْ أَحَدُكُمُ اسْمَ اللهِ عَلَى طُهُورِهِ لَمْ يُطَهِّرْ إِلَّا مَا مَرَّ عَلَيْهِ الْمَاءُ، فَإِذَا فَرَغَ أَحَدُكُمْ مِنْ طُهُورِهِ فَلْيَشْهَدْ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ لِيُصَلِّ عَلَيَّ، فَإِذَا قَالَ ذَلِكَ فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الرَّحْمَةِ" وَهَذَا ضَعِيفٌ لَا أَعْلَمُهُ رَوَاهُ عَنِ الْأَعْمَشِ، غَيْرُ يَحْيَى بْنُ هَاشِمٍ، وَيَحْيَى بْنُ هَاشِمٍ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ. وَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جب تم میں سے کوئی وضو کرے پھر اللہ کا نام لے تو اس کا سارا جسم پاک ہوجاتا ہے اور اگر کوئی وضو کرتے ہوئے اللہ کا نام نہیں لیتا تو صرف وہی حصہ پاک ہوتا ہے جس پر پانی گزرا ہو اور جب تم سے کوئی اپنی طہارت سے فارغ ہو تو وہ گواہی دے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں، پھر مجھ پر درود پڑھے۔ جب ایسا کرے گا تو اس کے لیے رحمت کے دروازے کھول دیے جائیں گے۔“
(ب) شیخ فرماتے ہیں: یہ روایت ضعیف ہے، میرے علم کے مطابق یحییٰ بن ہاشم نے ہی اعمش سے روایت کیا ہے۔
(ج) یحییٰ بن ہاشم متروک الحدیث ہے۔
(د) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول روایت ایک دوسری سند کے ساتھ بھی منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 198]
(ب) شیخ فرماتے ہیں: یہ روایت ضعیف ہے، میرے علم کے مطابق یحییٰ بن ہاشم نے ہی اعمش سے روایت کیا ہے۔
(ج) یحییٰ بن ہاشم متروک الحدیث ہے۔
(د) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول روایت ایک دوسری سند کے ساتھ بھی منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 198]
تخریج الحدیث: «موضوع۔ أخرجه الدار قطني 1/73»
الحكم على الحديث: موضوع
حدیث نمبر: 199
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ بَهْرَامَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ حَكِيمٍ أَبُو بَكْرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَوَضَّأَ وَذَكَرَ اسْمَ اللهِ عَلَى وَضُوئِهِ كَانَ طَهُورًا لِجَسَدِهِ، وَمَنْ تَوَضَّأَ وَلَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللهِ عَلَى وَضُوئِهِ كَانَ طَهُورًا لِأَعْضَائِهِ". ⦗٧٤⦘ وَهَذَا أَيْضًا ضَعِيفٌ. أَبُو بَكْرٍ الدَّاهِرِيُّ غَيْرُ ثِقَةٍ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ. وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ ضَعِيفٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعًا.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص وضو کرے اور وضو پر اللہ کا نام لے، یعنی «بِسْمِ اللّٰهِ» پڑھے تو یہ وضو اس کے جسم کے لیے (مکمل) پاکیزگی ہوگی اور جس نے وضو کیا، لیکن اللہ کا نام نہ لیا، یعنی «بِسْمِ اللّٰهِ» نہ پڑھی تو یہ وضو صرف اس کے اعضا کے لیے پاکیزگی کا باعث ہوگا۔“
(ب) یہ روایت بھی پچھلی روایت کی طرح ضعیف ہے۔
(ج) ابوبکر داہری محدثین کے نزدیک ناقابل اعتماد ہے۔
(ر) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک ضعیف سند سے یہ روایت مرفوعاً منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 199]
(ب) یہ روایت بھی پچھلی روایت کی طرح ضعیف ہے۔
(ج) ابوبکر داہری محدثین کے نزدیک ناقابل اعتماد ہے۔
(ر) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک ضعیف سند سے یہ روایت مرفوعاً منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 199]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ جدًا أخرجه الدارقطني 1/74»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 200
أَخْبَرَنَا الْفَقِيهُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَارِثِيُّ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الزُّهْرِيُّ، ثنا مِرْدَاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَائِذٍ الطَّائِيِّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَوَضَّأَ وَذَكَرَ اسْمَ اللهِ تَطَهَّرَ جَسَدُهُ كُلُّهُ، وَمَنْ تَوَضَّأَ وَلَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللهِ لَمْ يَتَطَهَّرْ إِلَّا مَوْضِعُ الْوُضُوءِ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے وضو کیا اور اللہ کا نام لیا تو اس کا سارا جسم پاک ہو جاتا ہے اور جس نے وضو کیا اور اللہ کا نام نہ لیا تو اس کی صرف وضو والی جگہ پاک ہوتی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 200]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الدارقطني 1/74»
الحكم على الحديث: ضعيف