السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
47. -- باب: سنة التكرار في المضمضة والاستنشاق
-- باب: کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے میں تکرار (تین بار کرنے) کی سنت کا بیان
حدیث نمبر: 224
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، وَثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ دَعَا يَوْمًا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ ⦗٨٢⦘ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. وَقَالَ فِي آخِرِهِ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا يَتَوَضَّأُ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا". رَوَاهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الظَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ إِلَّا أَنَّهُمَا لَمْ يَذْكُرَا التَّكْرَارَ فِي الْمَضْمَضَةِ وَالِاسْتِنْشَاقِ. وَقَدْ رُوِيَ فِي حَدِيثِ ابْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، وَبَحْرِ بْنِ نَصْرٍ هَكَذَا، وَهُمَا ثِقَتَانِ. وَاللهُ أَعْلَمُ. وَقَدْ رُوِيَ التَّكْرَارُ فِيهِمَا عَنْ عُثْمَانَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ.
(الف) سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام فرماتے ہیں کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے ایک دن وضو کے لیے پانی منگوایا اور وضو کیا، پھر اپنی ہتھیلیوں کو تین مرتبہ دھویا، پھر کلی کی اور ناک میں تین مرتبہ پانی چڑھایا۔
(ب) ایک حدیث کے آخر میں ہے کہ ”ایک دن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرح وضو کیا۔“ (ج) صحیح مسلم میں ابوطاہر اور حرملہ، ابن وہب رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں، لیکن انہوں نے کلی اور ناک میں پانی چڑھانے میں تکرار کا ذکر نہیں کیا۔ (د) حدیث میں ابن عبدالحکم اور بحر بن نصر رحمہما اللہ ثقہ راوی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 224]
(ب) ایک حدیث کے آخر میں ہے کہ ”ایک دن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرح وضو کیا۔“ (ج) صحیح مسلم میں ابوطاہر اور حرملہ، ابن وہب رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں، لیکن انہوں نے کلی اور ناک میں پانی چڑھانے میں تکرار کا ذکر نہیں کیا۔ (د) حدیث میں ابن عبدالحکم اور بحر بن نصر رحمہما اللہ ثقہ راوی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 224]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 225
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ، ثنا زِيَادُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ زِيَادٍ الْمُؤَذِّنُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيِّ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْوُضُوءِ، فَقَالَ: رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، سُئِلَ عَنِ الْوُضُوءِ فَدَعَا بِمَاءٍ، فَأُتِيَ بِالْمَيْضَاةِ، فَأَكْفَأَهَا عَلَى يَدِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ أَدْخَلَهَا فِي الْمَاءِ، فَتَمَضْمَضَ ثَلَاثًا، وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. وَفِي آخِرِهِ قَالَ:" هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ". قَالَ الشَّيْخُ: وَرَوَاهُ أَيْضًا أَبُو عَلْقَمَةَ، عَنْ عُثْمَانَ، وَثَبَتَ ذَلِكَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرُوِّينَاهُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عثمان بن عبدالرحمن تیمی کہتے ہیں کہ ابن ابی ملیکہ سے وضو کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: میں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو دیکھا، جب ان سے وضو کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے پانی منگوایا، پھر ایک چھوٹا برتن لایا گیا، آپ نے اس کو اپنے دائیں ہاتھ پر جھکایا، پھر اس کو پانی میں داخل کیا، پھر تین مرتبہ کلی کی اور تین مرتبہ ناک جھاڑا۔۔۔ حدیث کے آخر میں ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اسی طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔“
(ب) شیخ کہتے ہیں کہ ابو علقمہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے پچھلی روایت کی طرح نقل کیا ہے: اسی طرح یہ روایت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ثابت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 225]
(ب) شیخ کہتے ہیں کہ ابو علقمہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے پچھلی روایت کی طرح نقل کیا ہے: اسی طرح یہ روایت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ثابت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 225]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه ابو داؤد 8/1»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 226
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، وَأَبُو ثَابِتٍ، قَالَ: ثنا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَنَامِهِ فَتَوَضَّأَ، فَلْيَسْتَنْثِرْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَبِيتُ عَلَى خَيْشُومِهِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَمْزَةَ. وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نیند سے بیدار ہو تو وہ وضو کرے اور تین مرتبہ ناک جھاڑے، اس لیے کہ شیطان اس کے ناک کے بانسے میں رات گزارتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 226]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 21/3»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 227
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ قَارِظٍ يَعْنِي ابْنَ ⦗٨٣⦘ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي غَطَفَانَ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ تَوَضَّأَ، فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مَرَّتَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا مَضْمَضَ أَحَدُكُمْ، وَاسْتَنْشَقَ فَلْيَفْعَلْ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ بَالِغَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا".
ابوغطفان کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، انہوں نے کلی کی اور ناک میں دو مرتبہ پانی چڑھایا اور کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی کلی کرے اور ناک میں پانی چڑھائے تو اچھی طرح دو یا تین مرتبہ کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 227]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابوداؤد 141»
الحكم على الحديث: صحيح